وزیر اعظم عمران خان کے نظریہ سازش کے تحت اگر ملک کی سپریم کورٹ بھی ’امریکی ایجنٹ‘ نہیں ہے تو ان کے پاس استعفی دے کر قومی اسمبلی میں اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ سب سے باوقار طریقہ ہوگا۔ چیف جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے متفقہ طور سے 3 اپریل کو ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی رولنگ کو آئین کے خلاف قرار دیا ہے۔ اس رولنگ کے تحت اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو امریکی سازش قرار دے کر مسترد کردیا گیا تھا۔ اس کے فوری بعد صدر عارف علوی نے وزیر اعظم کے مشورہ پر قومی اسمبلی توڑنے اور 90 دن میں انتخابات کروانے کا حکم دیا تھا۔
آج سپریم کورٹ کی طرف سے جاری ہونے والا فیصلہ اس لحاظ سے تاریخی اور یادگار ثابت ہوگا کہ اس میں کوئی ابہام نہیں ہے، بنچ میں شامل کسی جج نے اس فیصلہ سے اختلاف نہیں کیا اور عدالت عظمیٰ کے فاضل ججوں نے ایک اہم آئینی معاملہ پر دوٹوک فیصلہ جاری کرکے ملک کو ایک خطرناک آئینی بحران سے بچا لیا ہے۔ اس عدالتی فیصلہ نے اس روایت کو بھی غلط قرار دیا ہے کہ عدالت کو کسی ’وسیع تر قومی مفاد یا معروضی حالات‘ کو پیش نظر رکھ کر فیصلہ کرنا چاہئے۔ ماضی کے افسوسناک تجربوں کی روشنی میں موجودہ عدالتی کارروائی کے دوران بھی اس قسم کے شبہات پائے جارہے تھے۔ عدالتی حکم میں تاخیر سے یہ تاثر بھی قوی ہورہا تھا کہ کہیں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو غلط قرار دیتے ہوئے عدالت یہ نہ کہے کہ چونکہ صدر اسمبلی توڑ چکے ہیں اور عوام سے رائے لینا ایک جائز اور قابل قبول طریقہ ہے، اس لئے رولنگ کو غلط قرار دینے کے باوجود نئے انتخابات کروانے کا حکم نافذالعمل رہے۔ شکر ادا کرنا چاہئے کہ سپریم کورٹ کے فاضل جج اس جھانسے میں نہیں آئے۔
اس تاریخ ساز فیصلہ نے ایک طرف نظریہ ضرورت کی روایت کو ہمیشہ کے لئے دفن کردیا ہے اور واضح کیا ہے کہ عدالت کا کام ماورائے آئین اقدامات کا دفاع کرنا نہیں ہے بلکہ ججوں کو سختی سے یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ کسی فرد یا ادارے کا کوئی اقدام ملکی آئین کے مطابق ہے یا اس کی خلاف ورزی ہے۔ اس فیصلہ نے یہ اصول بھی طے کردیا ہے کہ پارلیمنٹ کے عہدیداروں کے طور پر قومی اسمبلی کے اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر کے فیصلے اور اقدامات کو آئین عدالتی مداخلت سے ماورا قرار دیتا ہے لیکن اگر کسی معاملہ میں پارلیمنٹ کا کوئی عہدیدار آئین کی صریح خلاف ورزی کا مرتکب ہؤا ہو تو اس آئین شکنی کو شق 69 کے تحت تحفظ نہیں دیا جاسکتا۔ اس طرح یہ اصول واضح ہؤا ہے کہ کوئی فرد خواہ کسی بھی عہدے اور اختیار کا مالک ہو لیکن اسے ماورائے آئین کوئی قدم اٹھانے کی اجازت نہیں ہے۔ خود آئین شکنی کے مرتکب ہونے والے کسی شخص کو اسی آئین کی کسی دوسری شق کے تحت تحفظ فراہم کرنا درست نہیں ہوسکتا۔ ماضی میں معروضی حالات کی مجبوری اور قومی مفاد کی حفاظت کے نام پر غیر آئینی اقدامات کو جائز قرار دینے کے لئے نام نہاد نظریہ ضرورت ایجاد کیا گیا تھا ، جسے مختلف ادوار میں طاقت ور لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ۔ سپریم کورٹ کے موجودہ فیصلہ نے اس روایت کو دفن کیا ہے۔ اس تاریخی فیصلہ پر سپریم کورٹ کے تمام جج حضرات مبارک باد کے مستحق ہیں۔
عدالت عظمیٰ کے اس فیصلہ کا ملک بھر میں قانون دانوں ، سیاسی لیڈروں اور سول سوسائیٹی سے تعلق رکھنے والے زعما نے خیر مقدم کیا ہے اور اسے ملک میں جمہوری نظام کے استحکام کے لئے ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔ تاہم اس اندیشے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ عمران خان نے اپنی شخصیت کے گرد بنے ہوئی مقبولیت کی وجہ سے ذاتی مداحوں اور پرستاروں کا جو گروہ تیار کیا ہے، وہ اس فیصلہ کو مسترد کرے گا ۔ یہ بعید از قیاس نہیں ہے کہ ایسی سوچ رکھنے والے عناصر اب ملکی سپریم کورٹ پر بھی غیر ملکی سازش کا حصہ دار یامعاون بننے کے الزامات عائد کریں۔ عدالتی حکم کے تحت اپنے عہدے پر بحال ہونے والے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا ٹوئٹ اسی سوچ کی نمائندگی کرتا ہے کہ آئین شکنی کا علاج کرنے کی بجائے انتخابات ہی کسی سیاسی بحران کو حل کرسکتے ہیں۔ عدالتی حکم سامنے آنے کے بعد فواد چوہدری نے اپنے ٹوئٹ پیغام میں کہا تھا کہ ’ اس بد قسمت فیصلے نے پاکستان میں سیاسی بحران میں بہت اضافہ کردیا ہے۔فوری الیکشن ملک میں استحکام لا سکتا تھا ،بدقسمتی سے عوام کی اہمیت کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ ابھی دیکھتے ہیں معاملہ آگے کیسے بڑھتا ہے‘۔
تحریک انصاف کے لیڈر کے طور پر عمران خان پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے خلاف خود بھی ایسے منفی پروپیگنڈا سے باز رہیں اور اپنے ساتھیوں کو بھی اعلیٰ عدالت کے فیصلہ کو تسلیم کرنے پر آمادہ کریں۔ یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ ملکی آئین ہی عوامی حاکمیت کا ضامن ہے۔ اگر خاص طرح کی صورت حال میں اسی کی خلاف ورزی کرکے عوام کے پاس جانے کا اعلان کیا جائے گا تو اس سے معاملات درست ہونے کی بجائے مزید خرابی کی طرف گامزن ہوسکتے ہیں۔ تحریک عدم اعتماد سامنے آنے اور اس پر وزیر اعظم عمران خان کے شدید رد عمل اور پرجوش مہم جوئی نے ملک میں صرف سیاسی بحران پیدا کیا تھا جس میں یہ واضح ہورہا تھا کہ پاکستان میں اختلاف رائے کی گنجائش ختم کی جارہی ہے۔ عمران خان ہر اس شخص کو غدار اور ملک دشمن ثابت کرنے پر تلے ہوئے تھے جو ان کی رائے سے اختلاف رکھتا ہے ۔ تاہم 3 اپریل کو جب قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کے ذریعے تحریک عدم اعتماد کو غیرملکی سازش قرار دے کر مسترد کرنے کا حکم جاری کروایا گیا تو اس سے ملک میں سیاسی کے ساتھ آئینی بحران بھی پیدا ہوگیا تھا۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ نے آئین کی حفاظت کا اقدام کرکے آئین پاکستان کے بارے میں پیدا ہونے والی غلط فہمی کو دور کردیا ہے۔ تاہم اب ملک کے سیاست دانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسی خوش اسلوبی سے قومی سیاسی معاملات کو بھی حل کرنے کا اقدام کریں۔
قومی میڈیا میں یہ خبریں سامنے آرہی ہیں کہ بنی گالہ میں عمران خان کی زیر قیادت اجلاس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مضمرات پر غور کیا گیا اور اس صورت حال سے نکلنے کے لئے دوسری باتوں کے علاوہ اسمبلی سے استعفے دینے کا آپشن بھی زیر بحث آیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اسمبلی کے ارکان کی بڑی اکثریت رکنیت چھوڑنے کا اعلان کردے تو قومی اسمبلی کے لئے کام کرنا مشکل ہوجائے گا جس کے نتیجہ میں لازمی طور سے اسمبلی توڑ کر نئے انتخابات کروانا ہوں گے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ اگر تحریک انصاف اس انتہائی اقدام کا فیصلہ کرتی ہے تو اپوزیشن پارٹیاں کیسے اس کا مقابلہ کریں گی تاہم ایک بات واضح ہے کہ اس صورت میں ملک میں سیاسی بحران مزید شدت اختیار کرے گا۔ تحریک انصاف سمیت سب سیاسی پارٹیوں کو ایسے کسی انتہائی اقدام سے گریز کرنا ہوگا جو ملک میں انتشار و بے چینی میں اضافہ کا سبب بنے۔
ان سطور میں بار بار یہ کہا جاتا رہا ہے کہ یہ کوئی آئیڈیل صورت حال نہیں ہے کہ کسی منتخب حکومت کو وقت سے پہلے فارغ کیا جائے۔ تاہم عمران خان نے سیاسی مخالفین کی کردار کشی اور پارلیمانی عدم تعاون کی پالیسی کے ذریعے حالات کو موجودہ انتہائی نہج تک پہنچایا ہے۔ اب بھی اگر وہ مفاہمت و تعاون کی بجائے تصادم کی سیاست کریں گے تو ملکی معاملات دگرگوں ہوں گے۔ وسیع تر قومی مفاہمت کے ذریعے پاکستان کو معاشی مشکلات اور سماجی ہیجان سے بچایا جاسکتا ہے۔ یہ نکتہ عمران خان کے علاوہ اپوزیشن لیڈروں کو بھی سمجھنا ہوگا۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف قومی حکومت کے قیام اور مل جل کر ملکی مسائل حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے رہے ہیں۔ اب ان پر مفاہمانہ طرز عمل اختیار کرنے کے لئے زیادہ بھاری ذمہ داری عائد ہوگی۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق 9 اپریل کو صبح 10 بجے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرکے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کروانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے عمران خان نے بطور وزیر اعظم استعفیٰ نہ دیا تو ان کے خلاف ایوان کی اکثریت عدم اعتماد کا اظہار کرکے نیا وزیر اعظم چن سکتی ہے۔ اس صورت میں شہباز شریف نئے وزیر اعظم منتخب ہوں گے۔
ملک میں قائم ہونے والی نئی حکومت پر سب سے اہم ذمہ داری سیاسی اداروں اور پارلیمنٹ پر عوام کا اعتماد بحال کرنا اور فوری معاشی اصلاح کے اقدامات کرنا ہوگا۔ ملک میں سیاسی تقسیم کے موجودہ ماحول میں یہ کام آسان نہیں ہوگا۔ اس کے باوجود تحمل و بردباری سے اس مشکل کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ اس مقصد کے لئے عمران خان یا تحریک انصاف کے ساتھ ویسا ہی رویہ اختیار کرنے سے گریز ضروری ہوگا جو وہ خود اپوزیشن لیڈروں کے ساتھ اختیار کرتے رہے ہیں۔ اپوزیشن پارٹیاں اگر ہفتہ کے روز عمران خان کے خلاف اعتماد میں کامیاب ہوکر حکومت بنانے میں کامیاب ہوجاتی ہیں تو ان کی صفوں میں ایسے جوشیلے لوگوں کی کمی نہیں ہوگی جو ڈپٹی اسپیکر اور دیگر کے خلاف آئین سے غداری کا مقدمہ قائم کرنے یا تحریک انصاف کے لیڈروں کے خلاف انتقامی کارروائی شروع کرنے کو ضروری قرار دیں۔ یہ ایک خطرناک طرز عمل ہوگا۔
ملک میں مفاہمت کو جگہ دینے اور سیاسی کشیدگی کو احترام سے بدلنے کا کام فوری طور سے شروع کرنے کی ضرورت ہوگی۔ تمام سیاسی پارٹیوں کو اس ایک نکاتی ایجنڈے پر ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر آگے بڑھنا چاہئے تاکہ ملک کو سیاسی بحران کے علاوہ معاشی و سفارتی مشکلات سے نکالا جاسکے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

