رضی الدین رضیکالملکھاری

رضی الدین رضی کا کالم : نظریہ ضرورت اور جسٹس منیروں کی کہانی

سپریم کورٹ کا تاریخ ساز فیصلہ آنے اور نظریہ ضرورت کی تدفین کی خوشی میں ہم جب ایک دوسرے کو مبارک باد دے رہے تھے تو ذہن میں ایک سوال بھی تھا کہ آخر نظریہ ضرورت کو دفن کرنے کی ضرورت کیوں پیش آ گئی اور یہ ضرورت کہیں آج اس نظریے کے محافظوں کے لیے ہی ضروری تو نہیں ہو گئی ۔ ۔ ایک ایسے ملک میں جہاں نظریات کی سیاست بھی دفن ہو چکی ہو وہاں ایک ایسا عدالتی فیصلہ بھی تو ہضم نہیں ہوتا جو ہمارے عدالتی نظام کی ساکھ ہی مجروح کرنے پر تلا ہو ا ہے ۔
ہم بخوبی جانتے ہیں کہ ہماری عدالتی تاریخ کتنی شاندار ہے ۔ نظریہ ضرورت کے موجد جسٹس منیر کا ذکر اس مقدمے کی سماعت کے دوران آپ نے بھی بارہا سنا ۔ جسٹس منیر کہنے کو تو ایک سابق چیف جسٹس کا نام ہے لیکن در اصل یہ ریاست کی آلہ کار عدلیہ کے لیے مختص ہو چکا ہے ۔ جب آپ تاریخ کے طالب علم کی حیثیت سے عدالتی فیصلوں پر نظر ڈالیں گے تو آپ کو ہر زمانے میں کوئی نہ کوئی جسٹس منیر ریاست کی مدد کے لیے دستیاب نظر آئے گا ۔
کبھی یہ فریضہ جسٹس انوار الحق اور مولوی مشتاق سر انجام دیتے ہیں تو کبھی جسٹس منیر والے فرائض انجام دینے کے لیے جسٹس نسیم حسن شاہ کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں ۔ یہ وہی نسیم حسن شاہ ہیں جنہوں نے اعتراف کیا تھا کہ بھٹو کیس کا فیصلہ ہم نے دباؤ کے تحت کیا تھا ، اور یہ کیس اب بھی عدلیہ کی جانب سے انصاف کا منتظر ہے لیکن کس میں یہ جرات کہ وہ کسی ریاستی فیصلے کے حوالے سے تاریخ کے سامنے جوابدہ ہونے کی جرات کر سکے اور تاریخ کا جبر دیکھیں جن عدالتوں میں بلاول بھٹو اپنی بے نظیر ماں کے ہمراہ پیشیوں پر آتے رہے ، جہاں ان کے والد اب بھی بلائے جاتے ہیں اور جس عدالت میں ان کے نانا کی تذلیل کی گئی اور جہاں ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ” درداں دی ماری جندڑی علیل اے“ اسی عدالت میں بلاول سے کہا جا رہا تھا کہ آپ کے خاندان نے آئین کی بالا دستی کے لیے بہت قربانیاں دیں‌ ۔ ثابت یہ ہوا کہ فیصلے عدالتیں ہی نہیں لکھتیں کچھ فیصلے تاریخ بھی لکھتی ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے امانت ہوتے ہیں‌ ۔
واپس معزز جج صاحبان کی طرف آتے ہیں اور نسیم حسن شاہ کے بعد اس بریف کیس سکینڈل کو یاد کرتے ہیں جو رفیق تارڑ صاحب سے منسوب ہے۔ ہم تارڑ صاحب کی جانب سے ڈکٹیٹر کے سامنے ڈٹ جانے کا حوالہ تو بہت سینہ تان کر دیتے ہیں لیکن اس بریف کیس کی کہانی گول کر جاتے ہیں جس کے نتیجے میں کوئٹہ کا پورا بینچ خرید لیا گیا تھا اور نتیجہ عدالتی بحران کے نتیجے میں نکلا تھا ۔ رفیق تارڑ صاحب کے بعد جسٹس منیر بننے کی ذمہ داری افتخار چوہدری صاحب کے ناتواں کاندھوں پر آن پڑی تھی ۔ ہمارے سیاست دان اور وکلاء خوب جانتے تھے کہ ان کی عدلیہ بحالی تحریک کے سوتے کہاں سے پھوڑتے ہیں لیکن مجال ہے کسی میں جرات ہو تی کہ وہ اس تحریک کو مصنوعی یا نظریہ ضرورت کے تابع قرار دیتا ۔ ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہر زمانے میں آئین توڑنے والوں کے غیر آئینی اقدامات کو تحفظ بھی تو آئین کے محافظ ہی فراہم کرتے رہے اصل مسئلہ تو یہی ہے کہ ہمیں اپنا جسٹس منیر کبھی نظر نہیں آتا ہاں اوروں کے جسٹس منیروں پر بات کرنا ہم ہمیشہ اپنا فرض سمجھتے ہیں ۔ ہم تو یہ کہنے کی بھی جرات نہیں رکھتے کہ آئین کی بالا دستی کے فیصلے بھی آئین پامال کرنے والوں کی مرضی کے بغیر نہیں کیے جاتے ۔ اور جو ان کی مرضی کے بغیر فیصلے کرتے ہیں یا انصاف کا پلڑا دوسری جانب جھکنے نہیں دیتے انہیں جسٹس صفدر شاہ بنا دیا جاتا ہے جنہیں بھٹو کیس میں‌اختلافی فیصلے کی پاداش میں جلاوطنی اختیار کرنا پڑی تھی ۔ اور تو اور ان کی سند بھی جعلی قرار دے دی گئی تھی ۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ جسٹس اطہر من اللہ کے دادا تھے ۔
سو قارئین محترم پاکستان ایسے ملک میں ہمیں کبھی آئین کی پامالی پر حیرت ہوئی نہ بحالی پر ۔ یہاں آئین اور قانون کی بالا دستی صرف کتابی باتیں‌ہیں ۔جہاں ایک ڈکٹیٹر آئین کو کاغذ کا ٹکڑا کہتا ہو اور دوسرا غدار قرار پانے کے بعد عدالت سے فرار ہو گیا ہو اور اسے عدالت میں‌ لانے کی پاداش میں نواز شریف کو خود جلاوطن ہونا پڑا وہاں بہت سی باتیں ان کہی چھوڑ دینی چاہیئں ۔
اب ڈپٹی سپیکر صاحب کی غیر آئینی قرار دی گئی رولنگ کی طرف آتے ہیں ۔ قاسم سوری صاحب نے جب تحریک عدم اعتماد کو کسی کے حکم پر مسترد کیا یا غیر ملکی ایجنڈہ قرار دیا تو انہیں بھی بخوبی علم تھا کہ وہ آئین شکنی کر رہے ہیں اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں ۔ جو ڈپٹی سپیکر گزشتہ چار برسوں سے حکم امتناعی کے زور اپنے منصب پر فائز ہو اسے اپنی طاقت کا خود بھی اندازہ ہوتا ہے اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی طاقت کا سرچشمہ عوام ہر گز نہیں ۔ اور جسے اپنی طاقت کا اندازہ ہو اس کے لیے سب راستے موجود ہوتے ہیں کہ طاقت کا بہر حال ایک نشہ بھی تو ہوتا ہے ۔عدالت نے اپنی مرضی سے یہ متفقہ فیصلہ دیا یا کسی کی ضرورت کے نتیجے میں وہ نظریہ ضرورت دفن کرنے پر مجبور ہوئی یہ سوال اب بے معنی ہو چکا ۔ اصل بات یہ ہے کہ ہم نے یہ تاریخی لمحہ دیکھ لیا ۔ پہلی مثال سامنے آ گئی ۔ ایک نظیر بن گئی اور جب کوئی نظیر بن جائے تو مستقبل میں آسانیوں کے امکانات پیدا ہو جاتے ہیں ۔ رہ گئی کسی کی اشیر باد تو اس سلسلے میں گزارش صرف یہ ہے کہ لانے والے جس طرح لائے تھے انہوں نے اسی طرح رخصتی کا سوچ لیا ۔ آئین قانون کے تو دونوں ہی قائل نہیں کہ ہم پہلے کہہ چکے یہ کتابی باتیں ہیں اس لیے انہیں کتابی تو بہر حال رہنا چاہیے

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker