ایک طرف اردو کانفرنس ہو رہی تھی اور دوسری طرف اردو کے سینے پر مونگ دلی جا رہی ہے۔ اردو کے رسم الخط کو بدل کر اسے رومن الفاظ میں لکھنے کی تحریک شروع ہے۔کچھ ویب سائیٹوں نے اس رواج کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے اور ‘آسان زبانی’ کے اوٹ میں اردو کی زبان کاٹ دینے کہ سازش تیار ہے۔ ہمسایہ ملک میں ‘بی جے پی’ کی حکومت سرکاری طور پر یہ یقینی بنا رہی ہے کہ ہندی میں سے اردو کے الفاظ نکال باہر کیے جائیں اور ان کا استعمال متروک کر دیا جاۓ۔ ادھر یار لوگ اصرار کر رہے ہیں کہ نستعلیق کا نہ لہجہ سنبھالا جاتا ہے نہ ہجے۔ اردو کا تو ہے ہی رسم الخط جو اسے ہندی سے ممتاز کرتا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ پاکستان نے اس زبان کی وجہ سے اب تک جو حاصل کیا ہے، اس پر ضرب لگانے کی تیاری ہو رہی ہو۔ اگر لوگ سوشل میڈیا پر ‘اردو’، انگریزی حروف میں لکھ رہے ہیں تو کیا ہمیں اپنی لغت اٹھا کر دریا میں پھینک دینی چاہیۓ؟
ہمیں یہ فراموش نہیں کرنا چاہیۓ کہ اردو اب اس ملک میں صوبوں اور علاقوں کے مابین رابطے کی زبان بن چکی ہے۔ یہ زبان یہاں کے لوگوں کی مادری زبان نہیں تھی مگر انہوں نے اس زبان سے وابستہ محبت کو نبھایا اور آج سب لوگ اس کو بولتے بھی ہیں سمجھتے بھی ہیں۔ یہاں کے سارے نمائندہ اخبارات بھی اردو میں لکھے جاتے ہیں اور سارے ٹی وی چینل بھی اردو میں راگ الاپتے ہیں۔ ہمارے لکھاریوں نے تو اردو کو اپنے لہو سے تحریر کیا ہے۔ مسئلہ شروع ہوتا ہے جب اس زبان میں لکھنے کی بات کہ جاتی ہے۔ اس ضمن میں دو نقطہء نظر سامنے رکھے جا رہے ہیں؛ ایک تو یہ کہ اردو سرکاری زبان نہیں بن سکتی اور دوسرے یہ کہ اردو رسم الخط کی کمپوزنگ کمپیوٹر اور موبائیل پر قدرے مشکل ہے۔ اس کا حل یہ نکالا جا رہا ہے کہ اردو کی شناخت ہی بدل دی جاۓ اور اسے ‘اے بی سی’ میں تحریر کیا جاۓ۔ اس قدر آسانی سے یہ بات کہنے والوں سے گذارش ہے کہ یہ مت بھولیں کہ زبان غیر میں شرح آرزو نہیں لکھی جا سکتی۔
جسٹس جواد ایس خواجہ نے اردو کو سرکاری زبان کے طور پر نافذ کرنے کا حکم دیا جب ان کی ریٹائرمنٹ میں تین ماہ کا عرصہ رہتا تھا۔ اس عرصہ میں تو دفاتر میں صرف ناموں کی تختیاں ہی اردو میں لکھی جا سکی تھیں۔ باقی وقت اسی بحث میں کٹ گیا کہ یہ کب ہو گا اور کیسے ہو گا۔ نیشنل لینگوئج اتھارٹی نے دفتر میں استعمال ہونے والی ساری اصلاحات، سارے خطوط، سارے قوانین اور متعلقہ دستاویزات کا اردو ترجمہ کر دیا ہے۔ جو قوم عام زندگی میں اردو بولتی ہے، اسے فائلوں پر اردو لکھنے میں کیا مشکل ہو سکتی ہے۔ کیا یہ حیرت انگیز نہیں کہ ہم بول چال اردو میں کرتے ہیں مگر ہم سے توقع یہ کی جاتی ہے کہ دفتری کی فائلوں پر ہم انگریزی میں لکھیں گے ۔
میں نے جو تحقیق کی ہے، اس کے مطابق بیس کے قریب الفاظ اور تراکیب ہیں جنہیں سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ان کا مطلب اور استعمال آ جاۓ تو دفتری اردو پر دسترس حاصل ہو سکتی ھے۔ سمجھنے کی بات یہ ہے دفتری زبان اردو پہلے ہی نافذ ہے لیکن ہم اس معاملے کو سمجھنا نہیں چاہتے۔ انگریز نے جب پنجاب کی زرخیز زمینوں میں سے افیون اگا کر چین بھیجنا شروع کی فصلوں کی کاشت کے معاملات کو نبٹانے کےلیۓ اردو کو محکمہ مال کی زبان بنایا گیا۔ ایسا اس لیۓ کیا گیا تاکہ اہلکار اور کسان کو بات سمجھنے اور سمجھانے میں آسانی ہو۔ پاکستان میں آج بھی پٹواری اسی دقیق اردو میں اپنے رجسٹر سنبھالتے ہیں۔ حیرت ہے ہم نے کبھی یہ اعتراض تو نہیں اٹھایا کہ مسل، گرداور، خسرہ، فرد جیسے الفاظ مشکل ہیں اور انہیں انگریزی میں لکھنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح پورے پاکستان میں ‘ایف آئی آر’ اردو میں کاٹی جاتی ہے۔ عدلیہ کا محکمہ بھی اردو میں’مشتری ہشیار باش’ جیسی آوازیں لگاتا ہے اورسمن بھی اردو میں جاری کرتا ہے۔بلوچستان نے آئین کی پاسداری کرتے ہوۓ چالیس سالوں سے اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دیا ہوا ہے۔ ستر فیصد پاکستان میں تو پہلے ہی سرکاری زبان اردو نافذ ہے۔ اگر نہیں نافذ تو وفاقی اور صوبائی سیکریٹیریٹ میں نہیں۔ میری ذاتی راۓ میں یہ کام صرف ایک حکم کا محتاج ہے اور اس کا اطلاق ایک مہینے میں ہو سکتا ہے۔
بنیادی بات یہ ہے کہ ہم نے اردو کو صرف شعروادب کے حوالے سے جانا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس زبان کو تدریسی اور سرکاری مقاصد کےلیۓ رائج کرنے کےلیۓ شعوری فیصلے کیۓ جائیں۔ مثلا” دفتری اردوکو میٹرک میں لازمی مضمون کے طور پر متعارف کروایا جاۓ۔ سی ایس ایس کے امتحانات کو اردو میں منعقد کرانا بہت ضروری ہے کیونکہ جو لوگ انگریزی نہیں لکھ پڑھ سکتے، وہ کسی طور بھی علم و عقل میں کسی سے بھی کم نہیں اور انہیں صرف انگریزی نہ جاننے کی وجہ سے آپ حکومتی عہدوں سے دور نہیں رکھ سکتے۔ جدید علوم بالخصوص سائینس اور معاشیات اور ادب کی کتب کا اردو میں ترجمہ کےلیۓ نجی شعبے کی خدمات لی جائیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اردو کو شعر و ادب کے غلاف سے نکال کرعام آدمی کی زندگی کا ترجمان بنایا جاۓ۔ نیا پاکستان تو استعارہ تھا اس ذہنی غلامی سے نجات پانے کا جو ہمیں اپنی زبان میں لکھنے اور بولنے بھی نہیں دیتا۔ لوگ اس زبان کے طرز تحریر اور رسم الخط کو بدلنے کی بات کر رہے ہیں اور ہم یہ سمجھ ہی نہیں پا رہے کہ اردو رسم ا لخط مٹ گیا تو پاکستان اپنی حدود میں مشترکہ سمجھی جانے والی زبان سے اور اپنی شناخت سے محروم ہو جاۓ گا۔ کیا کوئی ہے جو اگلی اردو کانفرنس میں اس بات کو اٹھاۓ؟
فیس بک کمینٹ

