یوں تو ملتان سے ہجرت کرنے والوں کی فہرست بہت طویل ہے ان کا تعلق چاہے سیاست سے ہو ،یا ثقافت و ادب سے ہو ، ہر شخص اپنے روزگار کی وجہ سے یہاں سے ہجرت کرنے کا سوچتا ہے کہ بہرحال ملتان سے باہر جانے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے لیے ایک اچھا مستقبل ان کا منتظر ہوتا ہے ۔یہ بات میں اس لیے کر رہا ہوں کہ میں آ ج رضی الدین رضی سے بات کر رہا تھا ۔ ملتان سے کراچی جانے والوں کی اگر ہم فہرست بنائیں تو وہ بہت طویل بنتی ہے جن میں مبین مرزا ،نوید عباس، رمزی آثم ،عظیم حیدر سید ،امین راجپوت، وزیری پانی پتی، سلیم کوثر ،منصور ملتانی، شاعر علی شاعر اور محمد فیصل کے نام اس وقت ذہن میں آ رہے ہیں مبین مرزا کے جب تک والدین حیات رہے وہ باقاعدگی سے ملتان آ تے تھے ۔اسی طرح نوید عباس رمزی آثم ،عظیم حیدر سید ،امین راجپوت اور محمد فیصل گاہے گاہے اس سرزمین کی مٹی کو چومنے کے لیے آ تے رہتے ہیں گزشتہ دنوں میرے پیارے دوست محمد فیصل اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ تشریف لائے اہل قلم کی نگری میں بظاہر محمد فیصل کا نام ا تنا معروف نہیں ہے ۔ لیکن جب میں ان کا کام دیکھتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ وہ اداروں سے زیادہ کام کر رہے ہیں شعر و ادب کے ساتھ ان کی وابستگی بہت پرانی ہے۔ چند برس پہلے کتاب سرائے کے مدار المہام جمال الدین افغانی نے مجھے فضلی سنز کا شائع کردہ غزل کیلنڈر بھجوایا اور کہا کہ یہ کیلنڈر ملتان کے ایک نوجوان محمد فیصل نے ترتیب دیا ہے لیکن مرتب کے طور پر انہوں نے اپنے والد گرامی کا نام دیا ہے کہ اس طرح وہ اپنے والد سے محبت کر ثبوت دے رہے تھے اگلے برس جب یہ کیلنڈر محمد فیصل ترتیب دے رہے تھے تو انہوں نے مجھ سے رابطہ کیا اور کہا کہ شاکر بھائی فضلی سنز والوں کے لیے اگلے سال کا کیلنڈر مرتب کر رہا ہوں مجھے ملتان کے شعراء کرام کی شاعری درکار ہے، میں نے ملتان کے معروف شعراء کرام کی مشہور غزلیں ان کو بھجوا دیں انہوں نے سب غزلیں غزل کیلنڈر میں شامل کر کے ملتان سے محبت کا ثبوت دیا ۔
محمد فیصل اردو انگریزی فکشن اور شاعری سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ انہوں نے جہاں پر نظام رام پوری کی کلام کا انتخاب کیا تو وہیں پر انہوں نے ثروت حسین کا کلیات بھی مرتب کیا نیشنل بک فاؤنڈیشن کے لیے خاکوں کا ایک مجموعہ خط و خال مرتب کرنے کے بعد انہوں نے پھر اپنے محبوب اہل قلم ابن صفی کی مزاحیہ اور طنزیہ تحریروں کا انتخاب کیا اور ان پر ایک کتاب لکھی جس کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا وہ غیر ملکی ادب کے تراجم بھی بڑی آ سانی سے کر لیتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا مطالعہ بہت اچھا ہے انہوں نے دنیا بھر کی لوک کہانیوں کا مجموعہ دنیا کی سیر کے نام سے کیا اسی طرح انگریزی کے ایک مشہور ناول کو ہم ذات کے نام سے ترجمہ کیا بچوں کے لیے بے شمار کہانیوں کو ترجمہ کر کے بچوں کےرسائل میں شائع کروایا۔ ان کے تحقیقی و علمی مقالہ جات تراجم پوری دنیا کے رسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں اکادمی ادیبات پاکستان کے زیر اہتمام ان کی دو کتابیں ابن صفی فن اور شخصیت، صغیر ملال فن اور شخصیت شائع ہو چکی ہیں وہ مختلف انداز سے کام کرنے کے عادی ہیں محمد فیصل نے برازیل ،کیوبا اور فلپائن کے ادب کو بھی اردو کے قالب میں ڈھال کر شائع کروایا ہے یہ کام ان کو دوسروں سے اس لیے منفردکرتا ہے کہ انہوں نے پہلی مرتبہ ان ممالک کی کہانیوں کو اردو میں ترجمہ کیا ۔
محمد فیصل ایک کھوجی ہے یہ ہر وقت کسی نہ کسی تلاش میں رہتا ہے مجلس ترقی ادب لاہور میں ان کی تحریک پر غلام رسول مہر کا ایک نایاب سفرنامہ سفرنامہ افغانستان شائع کیا یہ ایک ایسا سفرنامہ ہے جو آ ج سے تقریبا 90 برس پہلے شائع ہوا اور غلام رسول مہر کی انتقال کے بعد یہ کتاب ایک عرصے سے بازار سے غائب تھی اور نہ ہی کسی ادارے نے اس کتاب کی اشاعت پر توجہ دی ایسے میں محمد فیصل نے غلام رسول مہر کے بیٹے سے رابطہ کیا اور ان کے بیٹے امجد سلیم علوی نے ان کو نہ صرف شائع کرنے کی اجازت دی بلکہ مجلس ترقی ادب لاہور نے اس کو خوبصورت انداز میں شائع کر کے آ ج سے 90 سال پرانے افغانستان کی تصویر کو واضح کیا۔
محمد فیصل کی شخصیت پر لکھنا اس لیے بھی فرض ہے کہ وہ ادب میں گروپنگ کے قائل نہیں ، کسی ایوارڈ کی دوڑ میں شامل ہونا ان کا مطمع نظر نہیں لیکن کتابوں کے حوالے سے خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے تخلیقی کام پر خاموشی سے کام کرتے رہتے ہیں اور ہم جیسے پڑھنے والوں کو تب معلوم ہوتا ہے جب ان کا کام کتابی شکل میں سامنے آ تا ہے۔ محمد فیصل آج کے دور میں کتابوں کو زندہ رکھنے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں ۔ان کی یہ سعی انھیں ہمیشہ زندہ و تابندہ رکھے گی ۔
فیس بک کمینٹ

