میں نے کبھی روزنامہ”آفتاب” میں باقاعدہ ملازمت تو نہیں کی اور نہ ہی میری صحافت کے درخشندہ آفتاب علاقائی صحافت کے حقوق کے علمبردار سینئر صحافی ممتاز احمد طاہر سے زیادہ ملاقاتیں رہیں تاہم روزنامہ”آفتاب” سے میری پہلی شناسائی بچپن میں اس وقت ہوئی جب میں شاید چوتھی یا پانچویں کلاس میں پڑھتا تھا اور میرا ہمسایہ طالب علم محمد یوسف رحمانی( مرحوم) اپنا میٹرک کا رزلٹ دیکھنے کیلئے شہر سے روزنامہ”آفتاب” خرید کر لایا تھا ۔ شنید ہے کہ اس وقت میٹرک رزلٹ کا پورا گزٹ شائع کرنے کا اعزاز روزنامہ”آفتاب” کو حاصل رہا۔
پھر جب صحافتی کیریئر کا آغاز کیا تو اس وقت سے لے کر آج تک صحافتی سیاست میں سر گرم منجھے ہوئے صحافی مظہر جاوید صاحب سے ہمارا تعلق بنا مظہر جاوید صاحب نے گو کہ زیادہ تر صحافت دیگر اخبارات میں کی مگر ان کی وجہ شہرت اور شناخت روزنامہ”آفتاب” کے چیف ایڈیٹر ممتاز احمد طاہر سیال کا بھانجا ہونا ہی ہے ۔ اس کے بعد روزنامہ”آفتاب” کے گروپ ایڈیٹر ملنسار، خوش اخلاق ، ہنس مکھ انسان اسد ممتاز صاحب سے صحافتی اور عزت و احترام کا رشتہ قائم ہوا ممتاز احمد طاہر سیال سے ایک دو بار ملتان میں کسی تقریب میں ملاقات صرف رسمی علیک سلیک تک ہی رہی مگر ان سے زیادہ اور جامع ملاقاتوں کا باعث آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی( اے پی این ایس) کی جنرل کونسل کے سالانہ اجلاس بنے۔
میرے بہت ہی مہربان اور شفیق ایڈیٹر روزنامہ”کارنامہ” محمد طارق جاوید مڑل صاحب نے اپنی نجی مصروفیات کے باعث مجھے ان اجلاسو ںمیں روزنامہ”کارنامہ” کی نمائندگی کرنے کا اعزاز بخشا تو ممتاز احمد طاہر صاحب سے ہر سال ملاقات معمول بن گئی چونکہ ممتاز احمد طاہر سیال کو گزشتہ چار دہائیوں سے اپنی زندگی کی آخری سانسوں تک اے پی این ایس کی ایگزیکٹو کمیٹی کا رکن اور دیگر کلیدی عہدوں پر خدمات سر انجام دینے کا اعزاز حاصل رہا ہے اس لئے اجلاسوں میں ان کو ملنا سب ارکان اپنے لئے باعث فخر سمجھتے تھے ہمارا تعلق چونکہ خطہ جنوبی پنجاب اور ممتاز احمد طاہر کے اپنے شہر ملتان سے تھا اس لئے یہ ہمارے ساتھ خصوصی شفقت محبت اور پیار سے پیش آتے اور ہر معاملے پر رہنمائی فرماتے ۔امسال بھی 20مارچ کو آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی ( اے پی این ایس) کی جنرل کونسل کا سالانہ اجلاس عام تھا 19مارچ کی شام ڈان گروپ کی جانب سے معزز ممبران کے اعزاز میں سالانہ باربی کیو نائٹ ڈنر تھا اس ڈنر میں ہم سب کی ممتاز احمد طاہر سے ہونیوالی ملاقات آخری ثابت ہوئی مرحوم بہت پیار سے ملے خیریت دریافت کی اور اے پی این ایس کے سینئر ارکان ہمایوں گلزار، سید منیر جیلانی، احمد خان بلوچ اور دیگر کی طرح انہوں نے بھی اجلاس میں آنے پر خوشی کا اظہار کیا اپنے ہونہار فرزند محسن ممتاز سیال سے تعارف کرایا کھانے کی میز پر بھی میں،محسن ممتاز سیال اور عرفان اطہر قاضی( روزنامہ جرات) لاہور ایک طرف بیٹھے تھے ہمارے سامنے جناب جمیل اطہر قاضی روزنامہ جرات لاہور اور ممتاز احمد طاہر تشریف فرما تھے جب کھانا شروع ہوا تو میں نے کھانا پلیٹ میں ڈ ال کر ممتاز احمد طاہر صاحب کو پیش کیا مگر انہوں نے شکر الحمد اللہ کہا کہ آپ لیں میں لے لیتا ہوں مگر ان کے ناتواں ہاتھ جب کھانا نہ ڈال سکے تو بھائی محسن ممتاز نے تھوڑا سا کھانا ڈال کر انہیں پیش کیا جس میں سے انہوں نے چند نوالے ہی بمشکل تناول فرمائے البتہ آئس کریم شوق سے کھائی اسی دوران محسن ممتاز کو کوئی ساتھی اٹھا کر لے گیا تو ممتاز احمد طاہر صاحب ان کے بارے میں دریافت کرتے رہے محسن ممتاز کے واپس آنے پر انہوں نے ڈائٹ بوتل منگوائی۔
اگلے روز 20مارچ کو وہ اجلاس شروع ہونے کے بعد ہال میں تشریف لائے چونکہ اجلاس شروع تھا اور اگلی تمام نشستیں پر تھیں وہ آرام سے ایک طرف جہاں جگہ تھی بیٹھ گئے اجلاس کی کارروائی کے دوران انہوں نے اے پی این ایس کے معزز ارکان ، ان کے عزیز و اقارب جو وفات پاچکے ہیں کیلئے دعائے مغفرت کا پوائنٹ اٹھایا اور خود ڈائس پر آکر اپنے بچھڑنے والے تمام ساتھیوں اور خصوصاً روزنامہ ملتان نامہ (ملتان) کے چیف ایڈیٹر بشیر احمد خان کیلئے دعائے مغفرت لواحقین کیلئے صبروجمیل اور جو معزز ارکان بیمار ہیں ان کی جلد صحت یابی کیلئے رقت آمیز دعا کرائی دوپہر کو کھانے پر بھی میں ممتاز احمد طاہر،جمیل اطہر قاضی، پیر سید ہارون شاہ روزنامہ جرات جدت پشاور، سائیں ظہور احمد دھریجہ جھوک، ملتان اکٹھے ایک ہی میز پر بیٹھے تھے خوب گپ شپ چلتی رہی الیکشن کا مرحلہ آیا تو ممتاز احمد طاہر، ایک مرتبہ پھر بلا مقابلہ رکن ایگزیکٹو کمیٹی منتخب ہوگئے جس پر ہال نے تالیاں بجا کر خوب خوشی کا اظہار کیا اور انہیں مبارکباد دیں اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ممتاز احمد طاہر نے حسب سابق پرنٹ میڈیا اور خصوصاً علاقائی اخبارات کو درپیش مسائل کا ذکر بھرپور اور موثر انداز میں کیا انہوں نے نو منتخب پہلی خاتون صدر ناز آفرین سہگل لاکھانی ( ڈان گروپ) سیکرٹری جنرل سرمد علی خان ( جنگ گروپ) دیگر عہدیداران اور ارکان مجلس عاملہ کو مبارکباد دی ممتاز احمد طاہر نے اپنے خیالات میں کہا کہ اخبار 16صفحات کا ہو8کا یا4صفحات پر مشتمل ہو جو شائع ہو وہ اخبار ہی ہوتا ہے اس لئے نئی منتخب باڈی پرنٹ میڈیا خصوصاً علاقائی اخبارات کے مسائل کے حل پر پہلے سے زیادہ جانفشانی محنت اور لگن سے کام کرے کیونکہ علاقائی اخبارات ہی صحافت کی نرسیاں ہیں اور ان اخبارات سے ہزاروں افراد کا روزگار وابستہ ہے صحافت اور پرنٹ میڈیا کو زندہ رکھنے کیلئے ان کے مسائل حل کرنا ہوں گے اور موجودہ حالات میں ہماری اس جماعت پر یہ مسائل حل کرنے کی ذمہ داری پہلے سے زیادہ ہے انہوں نے قرار داد پیش کی کہ اے پی این ایس کی ایگزیکٹو باڈی کے اجلاس دیگر شہروں میں بھی منعقد کئے جائیں تاکہ وہاں سے شائع ہونیوالے اخبارات و جرائد کے مسائل اور درپیش مشکلات سے آگاہی حاصل کرکے حل کیلئے ایک مربوط اور جامع لائحہ عمل مرتب کیا جاسکے اجلاس نے ممتاز احمد طاہر کی تمام تجاویز کو اتفاق رائے سے منظور کیا اور ان کی تجویز پر ہی اے پی این ایس کے جریدہ کے دوبارہ اجرا کا اعلان کیا گیا مرحوم زندگی بھر علاقائی صحافت کے فروغ کیلئے کوشاں رہے ۔
جنوبی پنجاب اور خصوصاً ملتان سے شائع ہونیوالے اخبارات و جرائد کو اخبارات کی سرکردہ تنظیموں میں نمائندگی اور پھر عزت و احترام دلانے کیلئے مرحوم ممتاز احمد طاہر کے کردار کو فراموش نہیں کیا جاسکتا مرحوم نے ساری زندگی علاقائی اخبارات کی بقاء کی جنگ لڑتے ہوئے گزاری آپ مثبت صحافت کے علمبردار تھے ان کے اشاعتی اداروں سے تربیت پانیوالے کئی صحافیوں نے شعبہ صحافت میں بہت نام کمایا آزاد اور مثبت صحافت ہی ان کا اوڑھنا بچھونا تھا مرحوم زندگی بھر اس مشن کیلئے جہاد کرتے رہے اور اپنی زندگی کی آخری تقریب میں بھی وہ صحافتی اداروں اور ان میں کام کرنیوالے صحافیوں کی موثر آواز بنے مگر موت ایک اٹل حقیقت اور یہ دنیا فانی ہے دنیا میں آنے والی ہر ذی شعور روح نے موت کا مزا چکھنا ہے اس تاریخی اجلاس سے ٹھیک 8-10دن بعد وہ ہمیں تنہا چھوڑ کر اپنے اللہ کو پیارے ہوگئے مرحوم ممتاز احمد طاہر کے بچھڑنے کے باوجود اخباری صنعت کیلئے ان کی خدمات کو تاحیات یاد رکھا جائے گا آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی( اے پی این ایس) کونسل آف نیوز پیپرز ایڈیٹرز(سی پی این ای) نے ان کی صحافتی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب اور نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے بھی مرحوم ممتاز احمد طاہر کی اچانک وفات پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کیلئے دعائے مغفرت اور لواحقین کیلئے صبروجمیل کی دعا کی مرحوم ابدی نیند سو کر نہ صرف اپنے اہل خانہ ،عزیز و اقارب، دوست احباب کو سوگوار چھوڑ گئے بلکہ شعبہ صحافت سے منسلک اپنے ہر چاہنے والے کو تنہا کر گئے ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی لحد پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے اور ان کے غمزدہ صاحبزادوں اسد ممتاز سیال، محسن ممتاز سیال اور دیگر کو اپنے عظیم والد مرحوم کا ادھورا مشن مکمل کرنے کاہمت و حوصلہ عطا فرمائے۔
فیس بک کمینٹ

