ملتان:(گردوپیش رپورٹ)نامور شاعر ،دانشوراور ادبی تنظیم ”قلم قبیلہ“ کے بانی منور جمیل قریشی طویل علالت کے بعد اتوار 16جنوری کی صبح بہاولپور میں انتقال کرگئے۔ ان کی عمر 75برس تھی۔وہ گزشتہ دوبرس سے صاحب فراش تھے۔انہیں ریڈیوپاکستان بہاولپور کے پہلے اناؤنسر ہونے کااعزاز بھی حاصل تھا۔
منورجمیل قریشی 1947ءمیں ملتان میں پیدا ہوئے اور 1960ءمیں بہاولپور میں مستقل سکونت اختیارکرلی ۔انہوںنے لڑکپن میں عملی زندگی میں قدم رکھا ۔نظریاتی طورپرآپ ترقی پسند تھے۔ نامور شاعر سید آل احمد ان کے اساتذہ میں شامل تھے۔ 1972ءمیں باقاعدہ شاعری کاآغاز کیا اور سید آل احمد سے اصلاح لی۔ منور جمیل قریشی کالم نگار، ڈرامہ نگار اور کمپیئر کے طورپر بھی جانے جاتے تھے۔ وہ ایک ہمہ جہت شخصیت تھے۔ انہوں نے 1985ءمیں بہاولپور سے معروف ادبی جریدے” سائبان“ کابھی اجراءکیا۔اسی برس بہاولپور میں ظہور نذر کانفرنس کے انعقاد میں بھی منور جمیل قریشی کابنیادی کردار تھا۔ ان کے دوشعری مجموعے ”دیکھو یہ میرے زخم ہیں“ اور ” کہو کس حال میں ہو تم“شائع ہوچکے ہیں۔
منور جمیل قریشی کے انتقال کی خبر بہاولپور سمیت تمام ادبی حلقوں میں دکھ کے ساتھ سنی گئی جس کے بعد بہاولپور میں ہونے والی دو ادبی تقریبات منسوخ کردی گئیں جن میں نصیر ناصر کی کتاب کی رونمائی اور تابش الوری کا ادبی پڑاؤشامل ہیں۔ ان کی نمازجنازہ غوثیہ پارک سیٹلائٹ ٹاؤن بہاولپور میں ادا کی گئی جس میں ادیبوں،شاعروں ،صحافیوں سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں افراد نے شرکت کی۔
فیس بک کمینٹ

