Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
جمعرات, جولائی 2, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • لاہور سانحہ میں جاں بحق بچوں کا خون کس کے ہاتھوں پر ہے؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • خیبرپختونخوا میں بارشوں اور فلیش فلڈ سے چھ افراد ہلاک، 19 زخمی
  • افغانستان کے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں فضائی حملوں کے دعوے: افغان طالبان کے چار ڈرونز مار گرائے، پاکستانی فوج
  • پانی کا تنازعہ برصغیر میں خطرناک جنگ کا سبب بن سکتاہے : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • یکم جولائی سےایل پی جی کی قیمت میں 67 روپے فی کلو گرام کمی
  • ماؤں کا دکھ سمجھتی ہوں : ٹیوشن سینٹر سانحے کے ذمہ دار وں کو قانون کے شکنجے میں لایا جائے گا‘ مریم نواز
  • لاہور میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرگئی : 14 بچے جاں بحق
  • ماہ رنگ بلوچ کو سزا کے خلاف کوئٹہ میں احتجاجی مظاہرے اور گرفتاریاں سزا چیلنج کرنے کا اعلان
  • میرے گھر میں فرشتے نہیں آتے : ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
  • جس کے ذکر سے پہلے پلکیں اشکوں سے وضو کرتی ہیں : عمار مسعود کا کالم
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»ادب»آنس معین اور احسن فارقلیط کے شہر ملتان سے نواب شاہ کے منیر مانک کو رضی الدین رضی کا سرخ سلام
ادب

آنس معین اور احسن فارقلیط کے شہر ملتان سے نواب شاہ کے منیر مانک کو رضی الدین رضی کا سرخ سلام

ایڈیٹرجنوری 5, 202418 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
manik
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

منیر مانک کانفرنس ایک ایسے ماحول میں منعقد ہو رہی ہے جب ہم سب ان کی فکر اور ترقی پسند سوچ کو پروان چڑھاتے ہوئے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی قیادت تسلیم کر چکے ہیں ۔۔
حاضرین محترم ترقی پسندوں کی اس کانفرنس میں شرکت کے لیے میں سندھ کے دارالحکومت ، آنس معین اور احسن فارقلیط کے شہر ملتان سے نواب شاہ کے منیر مانک کو سرخ سلام پیش کرنے آیاہوں۔
ملتان کے دونام میں نے اپنے لڑکپن سے سنے۔ایک نام احسن فارقلیط کاتھا جو اسی اخبار( روزنامہ سنگِ میل ) میں کام کرتے تھے جہاں سے میں نے اپنے صحافتی کیریئر کاآغاز کیا۔ 1980-81کی بات ہوگی جب میں ابھی صحافت سے وابستہ نہیں ہوا تھا لیکن میں نے ملتان کے اخبارات میں احسن فارقلیط کی خودکشی کی خبریں نمایاں انداز میں دیکھی تھیں۔ بھوک اور افلاس سے تنگ آئے ہوئے احسن فارقلیط نے مسافر ٹرین کے سامنے کود کر اپنی زندگی کا سفر ختم کیاتھا۔پھر اس کے کئی برس بعد ہم نے ایسی ہی ایک کہانی نوجوان شاعر آنس معین کے حوالے سے سنی۔آنس معین کوبھی زندگی کے خاتمے کے لیے ٹرین نے اپنی جانب متوجہ کیاتھا۔اس فہرست پر نظرڈالیں تو ہمیں شکیب جلالی،ثروت حسین اور سارہ شگفتہ کے نام بھی دکھائی دیتے ہیں لیکن یہ میرا آج کاموضوع نہیں۔ میں آج منیر مانک کے ناولٹ ”سراب اور بازگشت“ پر بات کرنے آیاہوں اوریہ بتانے آیاہوں کہ ہمارے درمیان رابطوں کافقدان کیسی تنہائیوں کوجنم دے رہاہے۔ ہم ایک ہجوم میں رہتے ہوئے بھی تنہا ہیں۔
منیرمانک کے ناولٹ کے مطالعے کے بعد مجھے حیرت اس بات پرہوئی کہ میں جوکہ صحافی بھی ہوں اورشعروادب سے بھی میری وابستگی ہے۔ میں پنجاب میں رہتے ہوئے سندھ،بلوچستان اور خیبرپختونخواکے ایسے بہت سے قلمکاروں سے آشنا نہیں جو ان علاقوں کی پہچان ہیں اورانہی میں منیر مانک بھی شامل ہیں۔
ترقی پسند تحریک سے وابستہ قلمکاروں کواپنی تخلیقات عوام تک پہنچانے میں ہمیشہ بہت سی رکاوٹوں کاسامناکرناپڑا۔ ہماری اشرافیہ نے پہلے روز سے ہی ترقی پسندوں کو ملک دشمن قراردے دیا اور فیض احمد فیض سمیت ایسے بہت سے دانشوروں کو پابند سلاسل کیاگیا جو انسانی حقوق،جمہوریت اور انسان دوستی کی بات کرتے تھے۔ جوپسے ہوئے محکوم لوگوں کی آواز تھے۔ پھریوں ہوا کہ سٹیٹ کنٹرولڈ میڈیا بھی ایسے روشن خیال لکھاریوں کے لیے شجرِ ممنوعہ قراردے دیاگیا۔ لیکن اظہاررائے پر پابندیاں لگانے والوں کو کیا معلوم کہ خوشبو کاراستہ کبھی بھی روکانہیں جاسکتا۔ اب ہم ایک ایسے عہدمیں سانس لے رہے ہیں جہاں ہمیں خود سے بھی خوف آنے لگا ہے۔ پہلے ہم ایک دوسرے کے مخبرہوا کرتے تھے۔ اب زمانہ ترقی کرگیا۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں ہم اپنے مخبر بھی آپ بن چکے ہیں۔
منیر مانک کے ناولٹ ”سراب اوربازگشت“ کے مطالعے کے بعد مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ میں نے ایسی خوبصورت تحریر اس سے پہلے کبھی نہیں پڑھی۔ موضوعات تو یقیناً ہماری نظر سے گزرے لیکن منیر مانک کا اسلوب یکسر مختلف ہے۔ ہم سرابوں کی دنیا میں رہنے والے ہیں اورسرابوں کے تعاقب میں ہی اپنی زندگیاں غارت کردیتے ہیں۔ ہمیں منیر مانک کے ناولٹ میں وہ لوگ دکھائی دیتے ہیں جن کی حیثیت اس سماج میں کیڑوں مکوڑوں سے بھی زیادہ نہیں۔ کہانی کار کا مشاہدہ حیران کن اس لیے ہے کہ وہ خود انہی کرداروں کاحصہ رہا۔ منیرمانک نے ہمارے روایتی ناول نگاروں کی طرح کسی ٹھنڈے کمرے میں بیٹھ کر کسی جھونپڑی کاقصہ نہیں لکھا۔وہ خودان حالات سے گزرے،ایسے ہی ماحول میں سانس لیا اوراسی لیے ان کی تحریر میں ہمیں ان کالہجہ جابجا تلخ دکھائی دیتا ہے۔5مارچ1943 کو نوشہرو فیروزمیں پیداہونے والے منیر احمد مانک کی زندگی پر نظرڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے جسم وجان کارابطہ بحال رکھنے کے لیے بہت نامساعد حالات کاسامناکیا۔ وہ شعبہ قانون سے بھی وابستہ رہے، سکول ٹیچر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ محکمہ سوشل ویلفیئر سے بھی منسلک رہے۔میڈیکل سٹور کیپر کے طورپر بھی کام کیا اور روسی سفارت خانے میں بھی ملازمت کی۔ اس ساری تگ ودو میں زندگی کی بدصورتیاں منیر مانک پر کچھ اس انداز میں واضح ہوئیں کہ انہیں یہ سب کچھ بے معنی دکھائی دینے لگا۔
منیرمانک ایک جرات مند اور حساس قلم کارتھے۔ ایک ایسے روشن خیال قلم کار جنہوں نے سیاسی، سماجی،مذہبی اور اقتصادی موضوعات کو اپنی تحریروں کا موضوع بنایا۔ انہوں نے وڈیرے کے مظالم کو اپنی کہانیوں میں اجاگرکیا۔زیرنظر ناولٹ کاآغاز ہی ایک سناٹے سے ہوتا ہے۔ ایک خالی گھر جہاں موت جیسی ویرانی ہے اور کچلی ہوئی روح پر خراشیں ڈالتا سناٹا۔ یہ ایک ایسے کردار کی کہانی ہے جو اپنے خستہ بدن کو گھسیٹتا ہوا زندگی کی دوڑ میں شامل ہونے کی کوشش کرتا ہے اور پھر خودکوخود پرہی نہیں اس معاشرے پربھی ایک بوجھ سمجھنے لگتا ہے۔
مجھے منیر مانک کے اسلوب نے غیرمعمولی طورپر متاثرکیا۔ جملوں کی بنت کچھ ایسی ہے کہ جیسے دیئے جگمگا رہے ہوں۔ ہمیں یہ جھلملاہٹ ان کی تحریر میں کچھ اس انداز میں دکھائی دیتی ہے کہ جیسے روشنی کاایک ہیولا ہمیں کچھ دیر کے لیے منظر دکھاتا ہے اورپھر منظر غائب ہوجاتا ہے۔ یہی جھلملاہٹ اس ناولٹ کے آغاز سے انجام تک ہمیں اپنے ساتھ رکھتی ہے۔آدھی بات کہہ کر پورا مفہوم واضح کرنا ایک ایسا ہنر ہے جوہرکسی کے پاس نہیں اوراس ہنر کو منیر مانک نے بہت خوبصورتی کے ساتھ اس ناولٹ میں اجاگر کیا۔ ”سراب اوربازگشت“ میں سرابوں کی کہانی بھی ہے،ایک پیاسے شخص کی کہانی جو دریا تک پہنچنے کی کوشش میں ہرچمکتی ہوئی چیز کو پانی سمجھتا رہا اوربازگشت اس سماج کی ہے اوران دکھوں کی ہے جو منیر مانک ہی نہیں کھلے دماغ کے ساتھ سوچنے سمجھنے والے ہرقلم کار اور دانشور کے دامن میں ہیں۔ یہی دکھ کبھی ہمیں قسطوں میں موت کی جانب دھکیلتے ہیں اور کبھی کوئی ایک ہی لمحے میں جیون کے بوجھ سے نجات حاصل کرلیتا ہے۔کہ جیون کی بے معنویت اس پر واضح ہو چکی ہوتی ہے ۔
(چوبیس دسمبر دو ہزار تیئیس کو منیر مانک کانفرنس میں پڑھا گیا )

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

آنس معین ملتان
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے فیصلے کیخلاف صدارتی ریفرنس 8 جنوری کو سماعت کیلئے مقرر
Next Article وجاہت مسعودکا کالم:اداکارہ دیبا کے چلغوزے اور محفوظ صحافت
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

پیر سپاہی ، ملتان کی کہانیاں اور رضی الدین رضی کی سوانح عمری : کلثوم رفیق کا کتاب کالم

مئی 26, 2026

ارشد حسین ارشد ، مخدوم سجاد قریشی اور کھولتے دودھ کا کڑاہا : قریب و دور سے / ڈاکٹر انوار احمد کا کالم

مئی 15, 2026

ممتاز آباد ملتان میں خاتون اور بچیوں کی خود کشی کا معمہ حل : شوہر نے قتل کا اعتراف کر لیا

مئی 6, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • لاہور سانحہ میں جاں بحق بچوں کا خون کس کے ہاتھوں پر ہے؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ جولائی 2, 2026
  • خیبرپختونخوا میں بارشوں اور فلیش فلڈ سے چھ افراد ہلاک، 19 زخمی جولائی 2, 2026
  • افغانستان کے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں فضائی حملوں کے دعوے: افغان طالبان کے چار ڈرونز مار گرائے، پاکستانی فوج جولائی 1, 2026
  • پانی کا تنازعہ برصغیر میں خطرناک جنگ کا سبب بن سکتاہے : سید مجاہد علی کا تجزیہ جولائی 1, 2026
  • یکم جولائی سےایل پی جی کی قیمت میں 67 روپے فی کلو گرام کمی جون 30, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.