ڈاکٹرصغراصدفکالملکھاری

ڈاکٹر صغرا صدف کا کالم : اپنے رُتبے کا کچھ لحاظ منیرؔ

اکثر کسی محفل یا تقریب میں بیٹھے ہوتے، کوئی شخص نظر آتا تو منیر نیازی کہتے یہ بہت بدصورت انسان ہے، میں کہتی دیکھنے میں تو اچھا بھلا ہے۔ نین نقش رنگ، قد سب مناسب، گفتگو بھی خوب کرتا ہے پھر بدصورت کیسے ہو گیا؟ کہتے یہ اندر سے بدصورت ہے۔ میں دیکھتی رہ جاتی، ان کے پرجلال چہرے پر پھیلی ناگواری کے پس منظر میں جھانکنے کی کوشش حسرت ہی رہ جاتی، ان کی آنکھوں میں رکھی باطن کی باریکیاں دیکھنے والی دور بین تک رسائی کہاں ممکن تھی لیکن پھر بھی ہر بار میں اس سوچ کو پڑھنے، اس آئینے میں جھانکنے اور اس زاویے کو تلاش کرنے کی کوشش ضرور کرتی جس میں دیکھ کر وہ بالکل درست تجزیہ کرتے تھے کیونکہ کچھ عرصے بعد ان کی بات کافی حد تک درست ثابت ہو جاتی تھی۔ عجیب معمہ شخص تھا۔ سادہ، نفیس اور بچوں کی سی معصومیت کا حامل مگر فکر، نظم اور شعر کا تعاقب کرو تو کبھی سمجھ میں نہ آنے والا۔ ہر لکھنے والا وجدان، معرفت اور الہام کی کسی نہ کسی سیڑھی پر بیٹھا ہے۔ منیر نیازی سب سے اوپر والی سیڑھی پر بیٹھے تھے جہاں انھیں گزرنے والوں کا اصل قد کاٹھ دکھائی دیتا اور آئینے میں اصلیت بھی ظاہر ہو جاتی۔ خدا نے انہیں احساسات کو لفظوں میں سمونے اور پھر لفظوں سے حشر برپا کرنے کی صلاحیت دے رکھی تھی۔ اس آشنائی اور خود شناسی نے انھیں عجیب نرگسیت کا حامل بنا رکھا تھا۔ انھیں اپنے جیسا نظر ہی نہیں آتا تھا، نہ ظاہری، نہ باطنی اور نہ ہی تخلیقی حوالے سے۔ وہ خود کو سب سے منفرد سمجھتے تھے اور ہر ایک سے گھلنا ملنا بھی ان کے مزاج میں نہیں تھا۔
اپنے رُتبے کا کچھ لحاظ منیرؔ
یار سب کو بنا لیا نہ کرو
اس احساس تفاخر نے انھیں کسی قدر تنہا بھی کر دیا تھا۔ اپنی مرضی کا مالک، اپنے وجود کی سلطنت میں بادشاہی کرنے والے منیر نیازی کو کب پروا تھی کہ کون ان کے بارے میں کیا سوچتا ہے۔ وہ اپنے حال میں خوش اور مست رہتے لیکن جب اردگرد منافقت کی بدبو ناقابلِ برداشت ہو جاتی تو چیخ اٹھتے، استحصال کرنے والوں کو خوب برا بھلا کہتے۔ آج کل تو حکومت وقت، اداروں اور مخصوص لوگوں کی مخالفت کو باغیانہ فکر کا نام دے دیا جاتا ہے۔ یہ بغاوت بہت آسان ہوتی ہے جبکہ منیر نیازی کا باغیانہ پن عملی تھا۔ ان کی ذات، ان کی گفتگو اور ان کی شاعری میں عجیب طرز کی بغاوت تھی۔ معاشرے میں پھیلی ناہمواری کاتعلق ذات کی اچھائی برائی سے جڑا ہے۔ ادیب اور شاعر جب سچ لکھنا ترک کر دیتے ہیں تو پھر جھوٹ اور منافقت کی کانٹوں بھری جھاڑیاں زمین کا حسن برباد اور کوکھ بنجر کرنے لگتی ہیں۔ شاعر ایک آئینہ ہوتا ہے جس میں زندگی کا سراپا دکھائی دیتا ہے۔ جب وہ آئینہ دھندلا جاتا ہے تو جمالیاتی حسن غائب ہونا شروع ہو جاتا ہے اور سوچ میں زہر کی پنیری پھلنے لگتی ہے۔ منیر نیازی سچ مچ کے باغی اور ناقد تھے، نہ اپنا لحاظ کرنے والے نہ کسی کا۔ انسانی رشتوں، تعلقات اور احترام میں دراڑ آنے سے سماجی نظام درہم برہم ہوتا ہے۔ ہر فرد اہم ہے کیونکہ ہر فرد کی سوچ سماج کی فلاح، بقا اور بربادی میں کردار ادا کرتی ہے۔ ایک فرد غلط فیصلہ کرتا ہے تو اپنی ذات، خاندان، محلے اور شہر کے مفادات کو ٹھیس پہنچاتا ہے۔
منیر نیازی ایک ایسے تخلیق کار ہیں جن کا ہر لفظ تازہ کھلے پھول کی خوشبو سے لبریز ہے اس میں ارد گرد کی خوشبوؤں کی ملاوٹ نہیں۔ دل پر گزرنے والی کیفیت کو لفظوں میں عکس بند کرتے ہوئے کبھی کہانی دو مصرعوں میں بیان ہو جاتی اور کبھی نظم جو بظاہر ختم ہو جاتی مگر پڑھنے والے کو ان منظروں میں لے جاتی جو خوشگوار بھی ہوتے اور دہشت زدہ بھی۔
منیر نیازی وہ شاعر ہے جسے بے پناہ چاہا گیا، جس کی تعظیم کی گئی، جس پر محبتوں کے پھول نچھاور کئے گئے۔ عوامی اور حکومتی سطح پر پذیرائی کی گئی۔ پرویز الٰہی صاحب نے اپنے دور میں جہاں پنجابی زبان کے لئے عظیم منصوبہ پِلاک سرانجام دیا وہیں منیر نیازی جیسے دھرتی کے قدآور شاعروں کی پذیرائی بھی کی۔ ان کے لئے گاڑی، ڈرائیور اور ماہانہ وظیفہ مقرر کیا ۔ پِلاک نے ان کی سالگرہ کے موقع پر ان کا تمام پنجابی کلام شائع کر کے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ جو معاشرے ادب پرور ہوتے ہیں وہاں انسانی اور آفاقی قدروں کی ترویج ہوتی ہے۔ لوگ اپنی زمین اور اپنی ثقافت سے جڑت محسوس کر کے فخر کرتے ہیں۔ منیر نیازی کی بیگم ناہید نیازی محبت کی اُس منزل تک پہنچ چکی ہیں جہاں من و تو کا فرق مٹ جاتا ہے۔ وہ نہ شاعر ہیں اور نہ ادیب لیکن ایک شاعر اور ادیب سے محبت نے ان کی شخصیت کو عجیب اُجلا پن اور تخلیقی حسن بخشا ہے۔ وہ فنا فی المحبوب کی منزل پر ہیں۔ ان کی ہر بات منیر نیازی سے شروع ہوکر منیر نیازی پر ختم ہوتی ہے۔ منیر نیازی کی سالگرہ ہو یا برسی، اُن کے چاہنے والوں، اُن کے دوستوں کو فون کرتی ہیں۔ جب انسان کسی سے اس قدر محبت کرتا ہے تو اس میں محبوب کا چہرہ نظر آنے لگتا ہے۔ آج جب ہم ناہید نیازی کو ملتے ہیں تو ایسے لگتا ہے جیسے منیر نیازی بھی آس پاس موجود ہوں۔ اُن کے چہرے پر عجیب سا رنگ ہوتا ہے۔ کم کم ایسی محبت کی مثالیں دیکھتے ہیں۔ ان کے گھر جا کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے منیر نیازی ان کی سوچ میں موجود ہوں۔
اب کون منتظر ہے ہمارے لئے وہاں
شام آ گئی ہے لوٹ کے گھر جائیں ہم تو کیا
( بشکریہ: روزنامہ جنگ )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker