لاہور : مریدکے میں پولیس نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے لانگ مارچ کے خلاف آپریشن مکمل کر لیا تاہم مظاہرین کی فائرنگ سے ایس ایچ او فیکٹری ایریا شہزاد جھومڑ شہید ہوگئے۔لاہور کےعلاوہ راولپنڈی، اسلامآباد ، کراچی، میں بھی احتجاج کے دوران پولیس سے جھڑپیں ہوئیں ۔ٹی ایییل پی مارچ کیخلاف پولیس آپریشن، مظاہرین کی فائرنگ سے ایس ایچ او شہید، 48 اہلکار زخمی ہو گئے ۔
سیکیورٹی اداروں نے کرین پارٹی کے خلاف آپریشن کرتے ہوئے تمام کارکنان کو منتشر کرکے جی ٹی روڈ کو خالی کروا لیا۔ سیکیورٹی اداروں نے پورے جی ٹی روڈ کا مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔
پولیس کے مطابق مظاہرین کو منتشر کرنے کی کارروائی کے دوران ٹی ایل پی کے کارکنوں نے پتھراؤ، کیل دار ڈنڈوں اور پیٹرول بموں کا استعمال کیا۔ بعد ازاں، انہوں نے اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو جانی نقصان پہنچا۔
ٹی ایل پی مظاہرین کی اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں 3 کارکنان اور ایک راہ گیر جاں بحق ہوگیا جبکہ 8 شہری زخمی ہوئے۔
انتشار پسند گروہ نے 40 سرکاری اور پرائیویٹ گاڑیوں کو آگ بھی لگا دی۔
پولیس نے متعدد کارکنوں کو گرفتار کر لیا جبکہ آنسو گیس کی شیلنگ سے متاثر اور زخمی ہونے والوں کو مقامی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ مقامی افراد کو جی ٹی روڈ کی طرف بڑھنے سے بھی روک دیا گیا۔
لاہور
مریدکے پولیس آپریشن کے خلاف ٹی ایل پی کے وکلاء نے ایوان عدل کے باہر احتجاج شروع کر دیا۔ وکلاء نے سول سیکریٹریٹ سے لے کر پی ایم جی چوک تک ٹریفک بند کر دی اور حکومت مخالف نعرے بازی کی ۔
ٹی ایل پی کے وکلاء نے ایوان عدل کے باہر پولیس پر مبینہ تشدد کیا۔ وکلاء نے پولیس اہلکاروں کو دیکھتے ہی گالیاں اور تھپڑ مارنے شروع کر دیے۔
دوسری جانب، مذہبی جماعت کے احتجاج کے باعث سڑکیں اور موٹروے بند ہونے سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ بڑی تعداد میں مسافروں نے ریلوے اسٹیشن کا رخ کر لیا۔
لاہور سے راولپنڈی، گجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ اور دیگر شہروں کو جانے والی ٹرینوں میں انتہائی رش دیکھا جا رہا ہے جس کے باعث مسافروں کو کھڑے ہو کر سفر کرنا پڑ رہا ہے۔
راولپنڈی
دوسری جانب، تین دن کی چھٹیوں کے بعد ضلع راولپنڈی کے تمام تعلیمی ادارے بھی کھل گئے، سرکاری و پرائیویٹ اسکولز میں درس تدریس معمول پر آگیا۔ سرکاری و پرائیویٹ اسکولز میں حاضری بھی مکمل ہے جبکہ سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔
اسلام آباد
راستوں کی بندش نے عدالتی امور بھی متاثر کر ڈالے، اسلام آباد ہائی کورٹ میں وکلاء کی اکثریت پیش نہ ہو سکی اور زیر سماعت کیسز کی سماعت بغیر کارروائی ملتوی ہوگئی۔
مذہبی جماعت کے ملین مارچ کے آپریشن کے بعد جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد میں سیکیورٹی ایک مرتبہ پھر سخت کر دی گئی۔
راولپنڈی میں بھی پولیس کو ہائی الرٹ کر دیا گیا جبکہ پولیس کے جوان اہم چوراہوں اور پوانٹس پر موجود رہے ۔
کراچی
پنجاب کے بعد کراچی کے مختلف علاقوں میں بھی ٹی ایل پی نے احتجاج کے دوران ہنگامہ آرائی کی جس کے باعث دو بچے زخمی ہوگئے اور 10 افراد کو گرفتار کر لیا گیا، احتجاج کے باعث متعدد سڑکیں بند ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
نیو کراچی میں نالہ اسٹاپ پر تحریک لبیک کے کارکنان نے احتجاج کیا، جہاں مشتعل افراد نے پتھراؤ کرکے گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے۔
نارتھ کراچی 4 کے چورنگی پر بھی تحریک لبیک کے کارکنان نے احتجاج کیا، مشتعل افراد نے سڑک ٹریفک کے لیے بند کی جس کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا رہا۔
ڈی آئی جی ویسٹ نے بتایا کہ احتجاج، پھتراؤ اور جلاو گھیراو کرنے والے 5 افراد کو گرفتار کر لیا جبکہ پولیس کی بھاری نفری علاقے میں تعینات ہے۔
دوسری جانب، کراچی پولیس نے سوشل میڈیا پر شہر کے مختلف مقامات پر دھرنے اور دکانیں بند کرنے سے متعلق خبروں کی تردید کر دی۔
پولیس حکام کے مطابق کراچی میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر سخت ایکشن لیا جائے گا، شہر میں اس وقت کسی بھی جگہ احتجاج نہیں ہو رہا لہٰذا شہری افواہوں پر کان نہ دھریں۔
پولیس حکام نے بتایا کہ نیو کراچی سے مظاہرین کو منتشر کر دیا گیا اور ہنگامہ آرائی میں ملوث 10 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، مقدمہ درج کر رہے ہیں، اشتعال دلانے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
( بشکریہ :ایکسپریس نیوز )

