اہم خبریں

مری میں پھر برف باری شروع : ریسکیو آپریشن میں مشکلات

مری : مری اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں برف باری کا سلسلہ پیر کے روز ایک مرتبہ پھر شروع ہوا تو اس سے ملحقہ تمام علاقوں تک مکمل رسائی اب تک ممکن نہیں ہو سکی اور یہاں اب بھی کئی افراد کے پھنسے ہونے کی اطلاعات ہیں۔
واضح رہے کہ پہاڑی تفریحی مقام مری میں شدید برف باری کے دوران گاڑیوں میں پھنسے ہوئے 22 سیاح ہلاک ہو گئے تھے جس کے بعد پنجاب حکومت نے سنیچر کو تحقیقات کے لیے پانچ رکنی کمیٹی قائم کی تھی جبکہ مری اور گلیات جانے پر پابندی بھی عائد کر دی گئی تھی جو پیر کی شام تک برقرار رہے گی۔
مقامی انتظامیہ کے مطابق مری سے سیاحوں کا بڑی تعداد میں انخلا ہو چکا ہے اور گاڑیوں میں پھنسے ہوئے افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچا دیا گیا تھا لیکن ایسے افراد جن کی گاڑیاں اب تک برف میں دبی ہوئی ہیں اس بات پر مصر ہیں کہ وہ اپنی گاڑیاں لے کر ہی گھروں کو واپس جائیں گے۔حکام کا کہنا ہے کہ سیاحوں کی برف میں پھنسی ہوئی گاڑیوں کو وہاں سے نکالنے کے لیے ایک نجی ٹرانسپورٹ کمپنی کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں تاہم ابھی تک ان مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
مری میں انتظامیہ کا کہنا ہے کہ فی الحال مری میں سیاحوں کی آمد پر پابندی برقرار ہے اور آئندہ یہاں آنے والے سیاحوں کی تعداد کو محدود رکھا جائے گا۔خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے مری جانے پر پابندی کے باوجود سیاحوں کی بڑی تعداد پیر کو بھی دن بھر ٹول پلازے سے مری کی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کرتی رہی۔
اسسٹنٹ کمشنر مری عمر مقبول نے بی بی سی کی حمیرا کنول کو بتایا کہ اس وقت تمام شاہراہیں کھول دی گئی ہیں، یہاں بہت کم سیاح ہوٹلوں میں موجود ہیں اور دیگر کو بحفاظت ان کے گھروں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’مری کے تمام لِنک روڈ اور مرکزی شاہراہیں کلیئر ہیں اگر کسی کے گھر کے سامنے اور روڈ پر بھی برف ہے تو وہ بھی ہم دیکھ رہے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ‘ابھی تمام بلڈنگز اور ہوٹلوں کا آڈٹ کر رہے ہیں ان کی سیفٹی کے حوالے سے اور جو شاہراہیں کھلی ہیں ان کو بھی اور چوڑا کر رہے ہیں ہر چیز مکمل ہونے تک ہم مری کو بند رکھیں گے اور ہماری کوشش ہے کہ اس کام کو جلد ازجلد مکمل کریں۔’اب ہم مری آنے والے سیاحوں کی تعداد کو بھی محدود کریں گے اور اس پر ابھی فیصلہ ہو رہا ہے۔‘
ریسکیو 1122 کی جانب سے جاری کردہ فہرست کے مطابق مرنے والوں میں 10 مرد، دو خواتین اور 10 بچے شامل تھے جن میں اسلام آباد پولیس کے اہلکار نوید اقبال اور ان کے خاندان کے آٹھ افراد کے علاوہ مردان سے تعلق رکھنے والے چار رشتہ دار اور ایک اور خاندان کے سات افراد بھی شامل تھے۔ زیادہ تر ہلاکتیں کلڈنہ کے علاقے میں سڑک پر پھنسی چار گاڑیوں میں ہوئی تھیں۔
وزارت داخلہ نے تیسرے روز بھی سیرو تفریح کے لیے مری جانے والوں کے لیے راستہ بند رکھا ہے اور صرف ان افراد کو جانے کی اجازت ہے جن کے پاس مری کے رہائشی ہونے کا ثبوت ہے۔
مری میں سیاحوں کی اموات کے بعد مقامی انتظامیہ نے فوج اور دیگر اداروں کی مدد سے ریسکیو آپریشن اور سڑکوں سے برف کی صفائی کا بڑا آپریشن شروع کیا تھا لیکن پیر کے دن ایک بار پھر برف باری کے باعث اسے اب تک مکمل نہیں کیا جا سکا۔مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار محمد نذیر نے بی بی سی کو بتایا کہ مری کی سڑکوں سے بڑی حد تک برف کو ہٹا دیا گیا ہے تاہم گلیات کی طرف جانے والی کچھ شاہراوں سے ابھی بھی برف ہٹانے کا کام جاری ہے۔
دوسری جانب حکومت کی طرف سے سڑکوں پر پھنسے ہوئے یا مری سے پیدل اسلام آباد کی طرف جانے والے افراد کو ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کی گئی تھی۔ ایسے افراد کو اسلام آباد پہنچ کر اپنی مدد آپ کے تحت اپنا بندو بست کرنا تھا۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker