ادبلکھاریمستنصر حسين تارڑ

قمیض تیری کالی اور خانہ کعبہ ۔۔ مستنصر حسین تارڑ

وہ جو خیام کی موسیقی اور ساحر کی شاعری میں ’’کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے‘‘ کی پکار ہے تو میرے دل میں بھی کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ کیا یہ شاعر کا کلام ہے جو گلوکار کی شہرت کا سبب بنتا ہے یا یہ گلوکار ہے جو شاعر کو امر کر دیتا ہے۔ ایک اور مسئلہ بھی اسی سوال کے ساتھ منسلک ہے کہ کیا گلوکار زیادہ اہم ہوتا ہے یا موسیقار۔۔۔ مجھے خیام، سجاد اور ایس ڈی برمن کے علاوہ خواجہ خورشید انور بہت دل پسند ہیں تو ایک بار میڈم نور جہاں نے ترنگ میں آکر کہہ دیا کہ خواجہ جی، درست کہ آپ ایک مہان موسیقار ہیں لیکن یہ میری آواز ہے جس کے جادو سے آپ بڑے موسیقار ہو گئے۔۔۔ خواجہ صاحب موسیقی کی دنیا کے امام تھے، ایک مترنم درویش تھے انہوں نے کچھ برا نہ مانا اور اگلی دو فلموں ’’زہر عشق‘‘ اور ’’دیارِ حبیب‘‘ کے گیتوں کے لیے نہایت ہی معمولی بلکہ کچھ بے سُرے گلو کاروں کا بھی انتخاب کیا۔۔۔ اور اُن کے ترتیب شدہ نغموں نے دُھوم مچا دی دُھوم ۔۔۔ زبیدہ خانم نے نہ صرف ’’چاندنی رات میں اکیلی‘‘ اور معروف نعت ’’سنو عرض میری کملی والے‘‘ اپنے سوز کے زور پر گائی ۔۔۔ اور ناہید نیازی جن کی آواز قدرے بیٹھی ہوئی اور مختصر رینج کی تھی خواجہ صاحب نے اُن سے ’’چلی رے چلی رے، میں تو دیس پیا کے چلی رے‘‘ گوایا تو یقین کیجیے غدر مچ گیا۔۔۔ اور تو اور لوہا پروین یعنی آئرین پروین نے ’’اومینا ۔۔۔ کہاں دل کھو گیا‘‘ گایا تو وہ بھی ہٹ ہو گیا۔ اس سے پیشتر خواجہ صاحب کی موسیقی میں زبیدہ نے ’’تیری شان جل جلال ہُو‘‘ گا کر لوگوں کے دلوں کو مسخر کر لیا تھا۔۔۔ ان فلموں کے گیتوں کی مقبولیت کے بعد نور جہاں خواجہ صاحب کے قدموں میں بیٹھ گئی کہ جب تک معاف نہیں کریں گے، اٹھوں گی نہیں۔۔۔ واقعی آپ بڑے ہیں۔۔۔ اُدھر فلمی شاعری میں یہ ساحر لدھیانوی تھے جنہوں نے کہا کہ شاعر، گلوکار سے بڑا ہوتا ہے اس لیے میں گلوکار سے زیادہ معاوضہ لوں گا، چاہے ایک روپیہ زیادہ ہو ورنہ گیت نہیں لکھوں گا۔ موضوع موسیقی، گلوکاری اور شاعری کا تھا اس لیے میں بھٹک گیا تو سوال وہی ہے، شاعر بڑا ہوتا ہے یا اُس کا کلام گا کر اُسے شہرت بخشنے والا گلوکار۔ مجموعی طور پر تو مجھے اکثر صورتوں میں گلوکار حاوی نظر آتا ہے۔ بہت سے شاعر ایسے ہیں کہ اگر اُن کا کلام گایا نہ جاتا تو وہ خود گلی گلی گا رہے ہوتے، اُنہیں قبول عام کی سند نصیب نہ ہوتی۔نصرت فتح علی خان نے لائل پور کے بری نظامی کی شاعری گا کر اُنہیں شہرت دوام سے دوچار کیا۔ اگرچہ کچھ شک نہیں کہ وہ گمنام شاعر مختصر بحر میں شعر کہنے کا بادشاہ تھا۔۔۔ مثلاً ’وِگڑ گئی اے تھوڑے دِناں تُوں، دُوری پئی اے تھوڑے دِناں تُوں‘۔عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی نے بھی اپنے علاقے کے گمنام شاعروں کے گیت گائے۔۔۔ ’’قمیض تیری کالی تے سوہنے پُھلاں والی‘‘ میانوالی کی دھرتی میں سے پھوٹنے والا لوک گیت تھا۔ عطا کا کہنا ہے کہ وہ عمرے کے لیے گئے تو وہاں ایک ان پڑھ شخص خانہ کعبہ کو سامنے پا کر جب اپنے جذبات پر قابو نہ پا سکا تو اس نے پکارا کہ ۔۔۔ قمیض تیری کالی تے سوہنے پُھلاں والی۔۔۔ نصرت فتح علی خان نے ’’اب اِک گورکھ دھندا‘‘ گایا۔۔۔ اگرچہ یہ گیت پروفیسر موہن سنگھ کے شعری مجموعے ’’سادے پتّر‘‘ کی ایک نظم سے مستعار لیا گیا تھا کہ ۔۔۔ اَب اِک گورکھ دھندا۔۔۔ جدیاں گتھیاں کھول کھول کے کافر ہو جائے بندہ۔۔۔ اور لائی لگ مومن کولوں، کھوجی کافر چنگا۔۔۔ لیکن کسی لائل پوری شاعر نے موہن سنگھ کی زمین میں کیسی شاندار شاعری کی، کبھی غور سے سنئے گا۔ آپ پر وجد طاری ہو جائے گا۔ تقریباً پندرہ برس پیشتر میں گئی شب کسی سفرنامے یا ناول کے تخلیقی عذاب میں مبتلا تھا کہ فون کی گھنٹی بجی، مجھے ناگوار تو لگا لیکن میں نے اٹینڈ کر لیا، دوسری جانب گلوکار پرویز مہدی تھا، وہ میری تعظیم اس لیے بھی کرتا تھا کہ میں اُس کے مرشد پیر احمد علی آف بدو ملہی کا نزدیکی دوست تھا، وہ ایک خوشگوار موسم میں چہکتا تھا۔۔۔ پیر جی۔۔۔ ہندوستان سے ایک شاعر آئے ہوئے ہیں، میں نے آپ کا تذکرہ کیا تو وہ آپ سے ملنے کے لیے بے چین ہوئے جاتے ہیں۔ ہم شاہ نواز سٹوڈیو میں محفل جمائے ہوئے ہیں تو اگر اس وقت آپ نہیں آ سکتے تو ہم آ جائیں۔ یہ جگجیت سنگھ کے پسندیدہ شاعر ہیں۔۔۔ یہ لیجیے اُن سے بات کر لیجیے۔۔۔ مجھے اُن صاحب کانام یاد نہیں، کچھ ہندو سا تھا، وہ بھی خوشگوار موسموں میں تھے، مجھ سے عقیدت کا اظہار کرنے کے بعد کہنے لگے ’’تارڑ جی۔۔۔ میں وہ شاعر ہوں جس نے جگجیت جی کا سب سے پاپولر گیت ’’ڈھائی دن نہ جوانی چلدی تے کُرتی ململ دی‘‘ لکھا۔۔۔ آشاتو یہی تھی کہ آپ کے چرن چھونے کے لیے آؤں اور آپ کو ذاتی طور پر یہ گیت سناؤں لیکن آپ مصروف ہیں تو فون پر سنا دیتا ہوں‘‘۔ چنانچہ انہوں نے لہک لہک کر مجھے ’’کُرتی ململ دی‘‘ سنایا۔ یہاں گلوکار بڑا تھا جس نے ایک نامعلوم شاعر کا گیت گا کر اُسے ایک بین الاقوامی پہچان سے آشنا کر دیا۔تقریباً ہر شاعر کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ کوئی بڑا گلوکار اُس کا کلام گائے اور اس خواہش کے حصول کے لیے میں نے بڑے بڑے شاعروں کو ذلیل ہوتے دیکھا ہے۔ اُن زمانوں میں جب فوٹو سٹیٹ کی سہولت نہ ہوتی تھی وہ اپنے گیتوں اور غزلوں کی اپنے ہاتھ سے لکھی کاپیاں جیب میں لیے پھرتے تھے۔ ٹیلی ویژن اور ریڈیو کے برآمدوں میں ہر بڑے گلوکار کو گھیر لیتے تھے کہ سَر ۔۔۔ میڈم کرم کیجیے۔ میرا کلام گا دیجیے، میرے بچے آپ کو دعائیں دیں گے۔ ان میں سے کسی ایک کا گیت ہِٹ ہو جاتا تھا تو پھر وہی شاعر ، اور میں گواہ ہوں، رعونت سے کہتا تھا کہ ۔۔۔ یار غلام علی یا نور جہاں نے میرے ترلے ہی بہت کیے کہ اپنا کلام عطا کیجیے۔۔۔ کیسے انکار کرتا، مجبور ہو گیا۔۔۔ میں نے اپنے تقریباً پچاس برس کے ٹیلی ویژن زمانوں میں موسیقی کے بے شمار پروگراموں کی میزبانی کی اور اُن میں ایوب خاور کا ’’تیر ے نام‘‘ بھی تھا، نصرت فتح علی خان نے لنڈن جانے سے پیشتر میرے اُس پروگرام میں شرکت کی اور وہ اُن کی حیات کا آخری پروگرام تھا۔ ہر پروگرام کے آخر میں شاعر حضرات اُس شب کے گلوکار کا گھیراؤ کر لیتے اور اُنہیں زبردستی اپنا کلام عطا کرتے ۔۔۔ میں موسیقی کی شرعی حیثیت کے بارے میں کچھ فتویٰ وغیرہ نہیں دے سکتا، البتہ شاعر ابو العلا مُعری کا یہ قول درج کرتا ہوں کہ نقیل کُفر۔۔۔
’’جو انسان ادب موسیقی وغیرہ جیسے فنون سے محروم ہے وہ فی الحقیقت ایک حیوان ہے، گو اُس کے سینگ اور دُم نہیں اور گھاس کھائے بغیر زندہ ہے۔۔۔ تنہا رہو کہ اللہ، تمہارا رَب بھی تنہا اور ایک ہے‘‘۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker