تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

فوج کو خوش کرنے کے لئے آزادی رائے کے خلاف مہم ۔۔ سید مجاہد علی

پاکستان میں انسانی حقوق کی علمبردار اور وکیل رہنما عاصمہ جہانگیر نے حکومت کی طرف سے سوشل میڈیا کے مختلف فورمز پر اظہار خیال کرنے والے لوگوں اور سیاسی کارکنوں کے خلاف کارروائی پر شدید تنقید کی ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ حکومت اگر فوج کو خوش کرنے کے لئے کوئی اقدام کرنا چاہتی ہے تو وہ اپنے بل بوتے پر کرے۔ اس مقصد کے لئے اسے انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ عاصمہ جہانگیر کا یہ بیان برقت انتباہ کی حیثیت رکھتا ہے اور ملک کے قانون دانوں اور سیاست دانوں کو اس حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرنا چاہئے تاکہ ایک جمہوری معاشرہ میں شہریوں کو آزادی اظہار کا جو حق حاصل ہونا چاہئے اس پر ڈاکہ ڈالنے کی سرکاری حکمت عملی کو ناکام بنایا جا سکے۔ اس معاملہ کا تعلق کسی ایک گروہ ، سیاسی جماعت یا مذہبی و سیاسی عقیدہ سے نہیں ہے ۔ یہ ایک اصول کا معاملہ ہے اور ہر طبقہ فکر کو اس حوالے سے ایک دوسرے سے تعاون کرنا چاہئے۔ ایف آئی اے نے گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر متحرک متعدد سیاسی کارکنوں یا ذاتی حیثیت میں رائے کا اظہار کرنے والے لوگوں کے خلاف کارروائی کی ہے۔ یہ اقدامات وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے اس بیان کے بعد دیکھنے میں آئے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ فوج کے خلاف توہین آمیز خیالات کا اظہار ملک کے قانون کی خلاف ورزی ہے ، اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ عاصمہ جہانگیر نے بجا طور سے نشاندہی کی ہے کہ ملک کے عوام فوج کے پیشہ وارانہ کردار کا احترام کرتے ہیں۔ لیکن فوج اگر سیاست میں ملوث ہوگی یا اس کی معاشی بدعنوانیوں کے اسکینڈل سامنے آئیں گے تو ان معاملات کے بارے میں رائے کا اظہار ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ اس رائے میں تنقید بھی کی جائے گی اور کسی فیصلہ کی غلطیوں کی نشاندہی بھی ضرور ہو گی۔ یہ بات بھی اپنی جگہ پر درست ہے کہ خیالات کے اظہار کے لئے مناسب الفاظ کا چناؤ کیا جائے ۔ اور تنقید کرتے ہوئے نا مناسب الفاظ یا ناشائستہ لب و لہجہ اختیار نہ کیا جائے۔ اسی طرح بے بنیاد خبروں کو پھیلانے اور الزامات عائد کرنے سے گریز کیا جائے۔ یہ ممکن ہے کہ کچھ لوگ اپنے خیالات کا اظہار کرنے میں حدود کا خیال نہ رکھتے ہوں لیکن اس طرز عمل کو قانونی کارروائی کرنے، ایسے لوگوں کو گرفتار کرکے عبرت کا نشان بنانے اور اس طرح اظہار کے حق پر حملہ کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جا سکتی۔ جمہوری معاشرہ میں ایک رائے کو دوسری طاقور اور مدلل رائے کے ذریعے ہی مسترد کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں فوج کا سیاست پر اثر و رسوخ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اسی طرح جس دور میں فوج براہ راست اقتدار میں نہیں ہوتی ، تو بھی وہ مختلف ہتھکنڈوں سے منتخب حکومت کو اپنی بات ماننے پر مجبور کرتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران ملک کی ہر منتخب حکومت نے اس طرز عمل کا سامنا کیا ہے۔ لیکن اگر فوج بطور ادارہ بعض اہم قومی معاملات میں اپنی رائے ٹھونسنا چاہتی ہے تو بھی منتخب سیاسی لیڈر اس رویہ کو مسترد کرنے اور فوجی قیادت پر یہ واضح کرنے کا حوصلہ نہیں کرتے کہ پالیسی سازی کا حق پارلیمنٹ کو حاصل ہے ۔ عوام کے نمائیندے باہم مشاورت سے جو فیصلے کریں گے حکومت ان کی روشنی میں ہی حکمت عملی تیار کرے گی۔ ملک کے ایک اہم ادارے کے طور پر فوج کی رائے لی جا سکتی ہے اور اس کا احترام بھی ضروری ہے لیکن یہ تبادلہ خیال اس اصول کے تابع ہونا چاہئے کہ ملک کی منتخب قیادت کو ہی حتمی فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے۔
ملک کے دانشوروں اور مبصرین کی جانب سے اگرچہ اس بارے میں نشاندہی کی جاتی رہی ہے لیکن سیاست دان عام طور سے اس سوال پر تبصرہ کرنے سے گریز ہی کرتے ہیں۔ اکثر صورتوں میں تو یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ اگر فوج حکومت کے کسی اقدام پر ناراضی کا اظہار کرے تو ملک کی اپوزیشن پارٹیاں اور لیڈر بڑھ چڑھ کر اس سوال پر حکومت کو نشانے پر لینے کی کوشش کرتی ہیں۔ ایسے موقع پر یہ پارٹیاں جمہوری اصول کا احترام کرنا بھول کر صرف سیاسی فائدے کو پیش نظر رکھتی ہیں، حالانکہ اقتدار میں آنے کے بعد انہیں خود بھی اس قسم کی صورت حال کا سامنا ہو سکتا ہے۔ تاہم پاکستان کے سیاست دان ایسی دور اندیشی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔
اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اب تک ملک میں پارلیمنٹ کو فیصلے کرنے اور تمام امور پر مباحث کا مرکز بنانے سے گریز کیا جاتا رہا ہے۔ اسی لئے حکمران ووٹ مانگنے تو عوام کے پاس جاتے ہیں لیکن اقتدار ملنے کے بعد انہی لوگوں کے منتخب نمائیندوں کے ساتھ مل کر فیصلے کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ اس صورت حال میں میڈیا یا سوشل میڈیا پر منفی یا ناقدانہ خیالات کا اظہار فطری طور پر سامنے آتا ہے۔ موجودہ حکومت ڈان لیکس پر فوج سے ٹکر لینے کے بعد اب مفاہمت کی پالیسی پر کاربند ہے اور فوج کو خوش کرنے کے لئے بیان دینے اور اقدام کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ تاہم ملک کے عوام کے حق اظہار رائے کو سول ملٹری تعلقات کی بھینٹ نہیں چڑھایا جاسکتا۔
(بشکریہ:کاروان۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker