پاکستان کے آ رمی چیف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ایک نہایت اہم ملاقات ہورہی ہے ۔یہ صرف ملاقات نہیں بلکہ صدر ٹرمپ کے ساتھ جنرل صاحب کا کھانا بھی ہے اور اس موقع پر کیمرہ مینوں پر مکمل طور پر پابندی عائد ہو گی ۔اس ٹاپ سیکرٹ ملاقات کے یقینا کچھ ڈپلومیٹک خفیہ پہلو بھی ہوں گے جنہیں خفیہ رکھنے میں مصلحت ہو گی۔اس ملاقات کے ڈانڈے پاک بھارت جنگ اور موجودہ ایران اسرائیل جنگ سے ملائے جا سکتے ہیں۔بھارت ایک منی سپر پاور ہے اسے مختصر سی جنگ میں یوں ڈھیر کر دینا اپنے طور پر کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے ،امریکی چودھری کی زبان سے پاکستان کی پذ یرائی بھی سنجیدہ حلقوں میں سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے ۔ابھی پاک بھارت جنگ میں ہماری فتح کا نشہ باقی تھا کہ اسرائیل نے ایران پر کھلی جارحیت کرتے ہوئے نئی صورت حال پیدا کر دی،پاکستانی عوام کے جذبات ایران کے حق میں فطری ہیں جس کا اظہار سوشل میڈیا اور پبلک مقامات پر کھلے عام ہو رہا ہے مگر ہمارے ارباب اختیار کی آ واز ڈپلومیٹک ہے۔ایسے میں پاکستان کے آ رمی چیف کا پانچ دنوں کا امریکی دورہ سنجیدہ حلقوں کو اس تناظر میں متوجہ کر رہا ہے کہ یہ ملاقات تاریخی پس منظر میں انفرادیت کی حامل ہے ۔پروٹوکول کے حوالے سے آ رمی چیف کا مقام سیکریٹری ڈیفنس کے برابر یا کم ہے ۔ملک میں جمہوری نظام قائم ہے اور وزیراعظم بھی موجود ہے تو ایسے میں وزیراعظم کی جگہ آ رمی چیف سے ملاقات کسی نئے باب کے وا ہونے کی خبر تو نہیں دے رہی؟
ا ب دیکھنا یہ ہے کہ اس ملاقات کا پس منظر ایران اسرائیل وار تو نہیں۔کسی ماہر سیاسیات نے کہا تھا کہ پاکستان کی اصل طاقت اس کی تاریخ کے مقابلے میں اس کی جغرافیائی پوزیشن میں پنہاں ہے۔اس کے کئی ایئرپورٹ پاکستان کی مغربی سرحدوں کے قریب ہیں۔کہیں یہ ائیرپورٹ تو پاکستان کی اہمیت کو نہیں بڑھا رہے ؟اگرچہ ہمارا آرمی چیف ایک پیشہ ور سپاہی اور محب وطن محافظ ہے وہ کوئی بھی فیصلہ ملکی مفاد اور قومی و ملی وقار کے خلاف نہیں کرے گا۔یہاں ہم کسی ایسی بات کو سچ مان بھی لیں تو اس میں پاکستان کو کیا فائدہ ہو گا؟اس وقت صدر ٹرمپ کو شاید اس لیے پاکستان کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے کہ ایران تاریخی،تہذیبی اور غیرت مند قوم کے طور بہت مضبوط اور دنیا کے نقشے پر ہمیشہ رہنے والا ملک ہے ۔وہاں ۴۶برس سے ایک ہی رجیم کی حکومت ہے جس نے ناروا پابندیوں کے باوجود خود کو قائم رکھا ہوا ہے ایک بڑی آ بادی اور وسیع رقبے والی اس مملکت کو صفحہ ہستی سے مٹانا سامراجیت کے لیے بغیر کسی ایسی طاقت کے تعاون جو ایران کے گردونواح میں موجود ہو آ سان نہیں،شاید آ رمی چیف کے ساتھ یہ Exclusive ملاقات کسی بڑے واقعہ کا پیش خیمہ نہ ہو؟ اگر ایسا ہوا تو یہ پاکستان کے مفاد میں نہیں ہو گا ۔۔
فیس بک کمینٹ

