اسلام آباد:قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کیے جانے قبل سے صرف 12 منٹ تک جاری رہا، جس کے بعد حال ہی میں پیش کیے گئے متنازعہ مالیاتی ضمنی بل پر کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق حکومت کا خیال ہے کہ جنوری کے وسط میں شروع ہونے والے ایوان کے آئندہ اجلاس میں بل کو اکثریت کے ساتھ آسانی سے منظور کر لیا جائے گا۔
وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ بل سینیٹ کو بھیجتے ہوئے آئینی ذمہ داری پوری کرلی گئی ہے تاکہ قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے کے 14 دن کے اندر سفارشات طلب کرلی جائیں۔
حکومت اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان پس پردہ مذاکرات جاری ہیں تاکہ قرض دہندہ کو قائل کیا جاسکے کہ حکومت فنانس سپلیمنٹری بل 2021 پر اکثریت حاصل کرنے اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو خود مختاری دینے کی اپنی شرط پوری کر رہی ہے۔
مذکورہ بل آئی ایم ایف کے 12 جنوری کو ہونے والے اجلاس سے قبل یا بعد منظور کیے جائیں گے جس کے بعد پاکستان کے لیے ایک ارب ڈالر کی قسط منظور کیے جانے کا امکان ہے۔
ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس کورم نامکمل ہونے کے باعث شروع کے چند منٹوں بعد ہی معطل کر دیا گیا کورم نا مکمل ہونے کی نشاندہی کی اپوزیشن رہنما نے کی، جس کے بعد اراکین کی غیر حاضری کے باعث اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا۔
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے ذرائع نے بتایا کہ ایسی مثال کہی نہیں ملتی کہ ایک اہم بل پیش کرنے کے ایک روز بعد اس پر فیصلہ کیے بغیر اسمبلی کا اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔
ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دو اہم اتحادی مالیاتی ضمنی بل 2021 پر ناخوش ہیں، جسے منی بجٹ دیا جارہا ہے۔
تاہم، رابطہ کرنے پر وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ دونوں اتحادیوں نے کابینہ کے خصوصی اجلاس میں بل کی منظوری دے دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’کابینہ میں پاکستان مسلم لیگ قائد اور متحدہ قومی موومنٹ کی کابینہ میں 2،2 وزیر ہیں اور انہوں نے بل کی منظوری دے دی ہے‘۔
انہوں نے بل کے درمیان میں رہ جانے سے متعلق تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسے جنوری کے وسط میں ہونے والے قومی اسمبلی کے اگلے اجلاس میں منظور کر لیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت بل کو سفارشات کے لیے سینیٹ میں بھیجنا لازمی ہے اور اسی لیے بل ایوان بالا میں بھیجا گیا ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی آئندہ ہفتے سینیٹ کا نیا اجلاس طلب کریں گے۔
ڈان سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 89 کے تحت بل کو قومی اسمبلی میں پیش کرنے کے 14 دن کے اندر سینیٹ کو بھیجا جاتا ہے تاکہ قومی اسمبلی میں منظور ہونے والے بل میں سینیٹ کی سفارشات کی جاسکیں یا اسے مسترد کردیا جائے گا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت قومی اسمبلی کے اگلے اجلاس میں بل کو سادہ اکثریت کے ساتھ بل منظور کروالیا جائے گا۔
بابر اعوان نے کہا کہ جب قومی اسمبلی میں بل پیش کیا گیا تو اپوزیشن اراکین کی حاضری ٹریژری بنچرز کے مقابلے میں کافی کم تھی، اگلے اجلاس میں بل پاس ہونے پر ہم ایوان میں اکثریت بھی دکھائیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ قومی اسمبلی کا اگلا اجلاس 10 جنوری کو بلایا جائے۔
بعد ازاں وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس کی صدارت کی جس میں فنانس سپلیمنٹری بل 2021 کی منظوری دی گئی جسے بعدازاں وزیر خزانہ شوکت ترین نے قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا۔
علاوہ ازیں وزیراعظم نے پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کی جہاں وزیر خزانہ نے بل کے شرکا کو آگاہ کیا اور اسٹیٹ بینک ایکٹ میں ترامیم سے متعلق ان کے تحفظات کو بھی دور کیا۔
پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں حکومتی اتحادیوں سمیت کابینہ اور پارلیمنٹ کے دیگر اراکین نے بھی شرکت کی۔
دوسری جانب قومی اسمبلی میں بل پیش کیے جانے کے خلاف احتجاج کرنے والی اپوزیشن نے جمعہ کے روز بھی حکومت کو منی بجٹ پیش کرنے پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس بل سے ملک میں غذائی مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا۔
اپوزیشن نے الزام لگایا کہ حکومت مرکزی بینک کی چابیاں آئی ایم ایف کو دینے جارہی ہے۔
(بشکریہ: ڈان نیوز)
فیس بک کمینٹ

