کالملکھارینجم سیٹھی

نجم سیٹھی کا کالم:مشکل وقت

اسٹبلشمنٹ کے لیڈر تسلیم کرتے ہیں کہ نئی طالبان حکومت کو سنگین چیلنجوں کا سامنا ہے۔ نیز انہیں خدشہ ہے کہ اگر کابل حکومت ان مسائل پر قابو پانے میں ناکام رہی تو پاکستانی ریاست اور معاشرے کو اس کے شدید سیاسی اور عسکری ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ بات قابل غور ہے۔
عالمی برداری چاہتی ہے کہ تمام افغان دھڑے حکومت سازی میں شریک ہوں، انسانی حقوق کا تحفظ کیا جائے اور افغانستان میں موجود دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی ہو۔ اس کے بعد ہی عالمی برادری کابل کو تسلیم کرنے پر غور کرے گی۔ لیکن طالبان ان میں سے کسی بات کو درخور اعتنا نہیں گردانتے۔ نئی نگران حکومت میں صرف طالبان شدت پسند ہی شامل ہیں۔ ان میں سترہ اراکین کا نام مختلف عالمی دہشت گردوں کی فہرستوں میں شامل ہے۔ ابھی طالبان نے یہ بات اشارۃً بھی نہیں کی کہ ان کی حکومت میں افغانستان کے دیگر اسٹیک ہولڈر اور طاقت کے دھڑے کب شریک ہوں گے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ ان کا القاعدہ، داعش خراسان، تحریک طالبان پاکستان اور ایسٹ ترکستان اسلامک موونٹ کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، بلکہ انہوں نے خطے کے دیگر ممالک سے بھی کہا ہے کہ وہ ان گروہوں کے ساتھ براہ راست پرامن مذاکرات کریں۔ انہوں نے شروع میں میڈیا اور خواتین کو تھوڑی سی آزادی دی تھی، بدقسمتی سے وہ جلد ہی واپس لے لی گئی۔
کابل کو شدید معاشی بحران کا سامنا ہے۔ لیکن مغربی اور علاقائی طاقتیں اس کی اقتصادی دست گیری کے لیے تیار نہیں۔ بڑھتے ہوئے انسانی المیے کی وجہ سے پاکستان میں افغان مہاجرین کا سیلاب آ جائے گا، اس کے سمٹتے ہوئے وسائل پر مزید دباؤ آئے گا، مقامی افراد کے لیے کشیدگی اور تصادم کی فضا قائم ہوگی۔ نیز جرائم اور دہشت گردی میں بھی اضافہ ہو گا۔ بدترین بات یہ ہو سکتی ہے کہ طالبان افغانستان میں سختی پر اتر آئیں اور انہیں عالمی تنہائی کا سامنا کرنا پڑے۔ اس صورت میں طالبان کے ”اپ گریڈ“ ہونے کا عمل رک جائے گا اور وہ پرانی ڈگر پر چل نکلیں گے۔ اس کے نتیجے میں انہیں علاقائی اور عالمی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ بات قابل فہم ہے کہ پاکستان عالمی برداری پر زور دے رہا ہے کہ وہ طالبان حکومت کو تسلیم کر لے تاکہ وہاں امن اور استحکام قائم ہو اور وہ عالمی معاہدوں کی پاس دار پر مجبور ہو سکیں۔ مگر واشنگٹن اس درخواست پر کان دھرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس پر غور کرنے کی بجائے امریکی حکومت میں اٹھنے والی طاقتور آوازیں اپنی ناکامی کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دے رہی ہیں۔ جو بائیڈن انتظامیہ کا پاکستان کے دوہرے کردار کا جائزہ لینے کا فیصلہ، جس کا تذکرہ پچھلے بیس سالوں میں تین امریکی صدور کر چکے ہیں، اور امریکی مفاد میں اقدامات کرنے کے لئے پاکستان پر دباؤ ایک پریشان کن صورتحال ہے۔ چونکہ پاکستان کی تجارت، امداد اور قرضہ یورپ اور امریکہ سے جڑا ہے، اس لئے پاکستان کے پاس اپنی بات منوانے کے لیے بہت کم گنجائش موجود ہے۔
ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ اسلام آباد کو اس وقت ایسے متبادل کے چناؤ کی الجھن درپیش ہے جن کے مضمرات بہت سنگین ہوسکتے ہیں۔ امریکہ چین کے خلاف ایک نئی سرد جنگ کا آغاز کرنے جا رہا ہے۔ اگلے ہفتے صدر جو بائیڈن بھارت، جاپان اور آسٹریلیا کے وزرائے اعظم سے ملاقات کرنے جا رہے ہیں جس میں وہ چین کے خلاف اپنی کاڈ حکمت عملی (QUAD strategy) کو حتمی شکل دے سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ روس، بھارت اور وسطی ایشیائی ممالک اگلے ماہ ہونے والے ایس سی او اجلاس میں پاکستان اور چین کی کابل کی طرف جھکاؤ رکھنے والی کسی بھی غیر مشروط ممکنہ پیش رفت کو ناکام بنانے کے لیے مل کر کھڑے ہوسکتے ہیں۔ اس طرح پاکستان جتنا بھی چین کے طرف جھکتا جائے گا، اتنا ہی علاقائی اور عالمی تنہائی سے دوچار ہوتا جائے گا۔
پاکستان کی داخلی سیاست انتہائی منقسم اور کمزور ہے۔ بدقسمتی سے ایسا اس وقت ہو رہا ہے جب اسے عالمی سطح پر قومی سلامتی کے چیلنج کا سامنا ہے۔ اسٹبلشمنٹ کا مسلط کردہ تحریک انصاف کا ہائبرڈ نظام بری طرح ناکام ہو چکا۔ یہ سطحی اور عامیانہ گڈگورننس فراہم کرنے کے بھی قابل نہیں۔ یہ نظام حزب اختلاف کو ختم اور میڈیا کی آزاد سلب کرنے اور ریاستی داروں، جیسا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے آئینی حقوق کو دبانے کی کوشش کرتے ہوئے ایسی طاقت حاصل کرنے کی خواہش رکھتا ہے جس کا کوئی احتساب نہ کرسکے۔ اب اسے معاشی بحران کا سامنا ہے جو ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ سے گلیوں میں فسادات ہونے اور شورش پھوٹ پڑنے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔
تین سال قبل، جب سے اس ہائبرڈ حکومت نے اقتدار سنبھالا، ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ مسلسل گرا ہے۔ 2018 ء میں ڈالر کے نرخ 120 روپے تھے، رواں ہفتے ڈالر 170 روپے کا ہے۔ کرنسی کی قدر گرنے سے کوویڈ کی وجہ سے طویل لاک ڈاؤن، دہرے ہندسوں میں مہنگائی، بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور غربت کے مسائل دوچند ہوچکے ہیں۔ گزشتہ ماہ سے پاکستانی روپے کی قدر میں دس فیصد گراوٹ دیکھنے میں آئی، حالاں کہ اسٹیٹ بنک آف پاکستان نے اربوں ڈالر مارکیٹ میں پھینکے۔ تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے، کرنٹ اکاؤنٹ منفی ہے اور رواں برس تیس بلین ڈالر کا قرض واپس کرنا ہے۔ صرف آئی ایم ایف اور اس کے معاون مالیاتی ادارے ہی پاکستان کو بیل آؤٹ کر سکتے ہیں۔ لیکن انہیں واشنگٹن کی طرف سے گرین لائٹ کی ضرورت ہے۔ اس دوران واشنگٹن اپنے تزویراتی دشمن رکھنے والے مغربی ایشیا (چین، روس، ایران) اور دہرے رویہ رکھنے والے پاکستان کے حوالے سے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔
حالیہ کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں کامیابی سے حوصلہ پاتے ہوئے پی ڈی ایم میں شامل اپوزیشن جماعتیں ملک کے طول و عرض میں احتجاج کرنے کے لیے کمر باندھ رہی ہیں۔ ممکن ہے کہ انہیں حکومتی اقدامات سے مایوس وکلا، صحافیوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کا ساتھ بھی حاصل ہو جائے۔ اس دوران عدلیہ پر بنیادی حقوق اور عدلیہ کی آزادی کے لیے کھڑے ہونے کے لیے عوامی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ موجودہ نظام کو صرف طاقت ور اسٹبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہے۔ لیکن اس پر بھی مقامی اور بیرونی طور پر بہت زیادہ دباؤ ہے کہ یہ اپنے دوستوں سے ملنے والے فوائد اور دشمنی رکھنے کی قیمت کا جائزہ لے۔
دکھائی یہی دیتا ہے کہ معیشت، گورننس اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے قومی سلامتی کو لاحق خطرات کا پانی سر سے بڑھ رہا ہے۔ لیکن ابھی بھی اسٹبلشمنٹ کی قیادت مسائل کے حل کے ممکنہ امکانات کی بابت ابہام کا شکار ہے۔ گزشتہ تیس دنوں میں تحریک طالبان پاکستان، القاعدہ، داعش خراسان، ایسٹ ترکستان اسلامک موونٹ کے سرحد پار سے ہونے والے حملوں میں پچاس سے زیادہ پاکستانی فوجی شہید کر دیے ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان کے لیڈر، ولی محمد نے کھلے عام اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستان سے علاقہ چھین لے گا۔ لیکن افغان طالبان، جن کی کامیاب مزاحمت اور دوبارہ اقتدار میں آنا پاکستان کے مرہون منت ہے، کو اپنے محسن کے خدشات پر کوئی تشویش دکھائی نہیں دیتی۔
اگر عالمی برداری کابل میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کے پاکستان کے مطالبے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیتی ہے تو کیا ہو گا؟ کیا اسلام آباد خود ایسا کرے گا (شاید چین بھی) اور معاشی تباہی اور عالمی تنہائی کا خطرہ مول لے گا؟ اسی طرح اسٹبلشمنٹ کے داخلی سیاست کی بابت مشکل چوائس پر بھی بہت سے سوالات اٹھتے ہیں۔ کیا یہ بڑھتی ہوئی سیاسی اور معاشی مشکلات کے باوجود اس غیر مقبول اور نا اہل حکومت کی حمایت کرتی رہے گی، حالاں کہ اس کی وجہ سے اسٹبلشمنٹ پر دباؤ ہے، اور اس دباؤ کی وجہ سے اسٹبلشمنٹ خارجہ پالیسی اور سکیورٹی کے امور پر فیصلہ سازی میں مشکل پاتی ہے۔
پاکستان کو مشکل دور کا سامنا ہے۔ اسے دیکھتے ہوئے حقیقت پسندانہ فیصلوں کی ضرورت ہے۔ ملک یا بیرونی دنیا میں کوئی بھی ہماری ناکام قومی پالیسی اور عالمی بیانیے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
(بشکریہ: دی فرائیڈے ٹائمز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker