ریاض ( خصوصی رپورٹ ) : پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کےآئندہ چند روز میں سعودی عرب پہنچنے کا امکان ہے اور سعودی عرب میں ان کے قیام کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں ۔
مسلم لیگ نون کے ذرائع کے مطابق یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ وہ سعودی عرب میں کتنا عرصہ قیام کریں گے ۔ ذرائع کے مطابق ان کے باورچی اور خاص خدمت گار سوموار کے روز سعودی عرب پہنچ گئے ۔ لندن میں کوروناکی نئی لہر کے بعد دیگر ممالک کی طرح سعودی عرب نے بھی برطانیہ سے فضائی رابطہ منقطع کر رکھا ہے تاہم اس بات کا امکان ہے کہ انہیں ائیر ایمبولنس یا خصوصی شاہی طیارے میں لندن سے سعودی عرب لایا جائے گا ۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات میں کشیدگی کے حوالے سے خبریں کئی ماہ سے گردش میں ہیں اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے خلاف پاکستانی میڈیا میں مسلسل خبریں گردش کر رہی ہیں ان خبروں سے سعودی حکومت نا خوش ہے
مولانا طاہر اشرفی کے مطابق ایک عرب دوست نے کہا کہ ہم پاکستان کا میڈیا دیکھتے پیں بالخصوص سوشل میڈیا جس میں صبح شام یہ بات ہو رہی ہوتی ہے کہ محمد بن سلمان کے خلاف بغاوت ہو گئی ہے جس سے منفی تاثر پھیل رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق نواز شریف سعودی عرب میں عمرے کے بعد اگلے لائحہ عمل کا فیصلہ کریں گے تاہم ان کی فوری طور پر پاکستان آمد کا کوئی امکان نہیں ۔
دوسری جانب پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی نے پیر کو پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی ہےسفارتی ذرائع اس ملاقات کو نواز شریف کی سعودی عرب آمد کے تناظر میں اہمیت دے رہے ہیں ۔اسلام آباد میں وزیراعظم ہاوس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات میں سعودی سفیر اور عمران خان نے دو طرفہ تعاون اور کورونا وائرس کی صورتحال پر بات چیت ہوئی۔ اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط، دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو مزید تقویت دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔
اس سے قبل پچھلے ہفتے سعودی سفیر نے پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقات کی تھی۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ملاقات میں باہمی دل چسپی کے امور، دفاعی تعاون اورعلاقائی سیکیورٹی پرتبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں سعودی عرب کے سفیر نے کہا کہ سعودی عرب خطے کے تمام ایشوز پر پاکستان کے موقف کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
فیس بک کمینٹ

