ایک ایسا آزاد منش لڑکا جس کا جو جی چاہے کر گزرے ۔ جو من میں آئے پورا کرے۔ جو سوچے پا لے۔ نہ کوئی زیادہ روک ٹوک۔ نہ کوئی ڈانٹ ڈپٹ۔ نہ کوئی خاص سزا جزا۔ ایک تلخ ترین ماحول میں بھی ایک بھر پور ذہنی اور جسمانی آزادی سے جیئے جانے والا ایک لڑکا جب باپ بنتا ہے تو اس کے رویئے ، اس کا مزاج اور اس کی آزادی یکسر بدل جاتے ہیئں۔ وہ ایک غیر ذمہ دار من مست و من موجی لڑکے سے ایک ذمہ دار باپ کا رتبہ بے مثل پاتا ہے۔ یہ نہیں کہ اب وہ کچھ نہیں سوچتا وہ پہلے سے کہیں زیادہ عملی اور ذمہ دار بن کر سوچتا ہے۔ جس پہلے دن وہ باپ کا درجہ فاضل پاتا ہے اس کے دل و دماغ میں ہارمونل تبدیلیوں کا غیر محسوس عمل شروع ہو جاتا ہے۔ اب وہ بچوں کو سامنے رکھ کر سوچتا ہے۔ زیادہ لگاو ، محبت اور فکر کے ساتھ سوچتا ہے۔
جس دن انسان باپ کا درجہ حاصل کرتا ہے سچ تو یہ ہے کہ اس دن سے ہی اس کی اپنی ذات کی نفی ہو جاتی ہے۔ اب وہ خود ہی اپنی ذات سے خود بخود ہجرت کر جاتا ہے۔ اس کی ذاتی خواہشات ختم ہو جاتی ہیں۔ اب وہ انفرادی نہیں سوچتا بلکہ اجتماعی سوچتا ہے۔ پھر سے وہ ہر بچے کے ساتھ دوبارہ بچہ بنتا ہے۔ اس کے ساتھ روتا ہنستا اور چیختا پکارتا ہے۔ اس کے ساتھ بڑا ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ بیمار ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ صحت مند ہوتا ہے ۔ اس کے ساتھ جاگتا سوتا ، آٹھتا بیٹھتا ہے۔ جب ایک بچہ پاوں پہ کھڑا ہوتا ہے قسم سے ایک باپ بھی اسی دن پورے سماجی و شخصی اعتماد سے زمین پر کھڑا ہوتا ہے۔ جب پہلی بار بچہ زمین پر چلنے کو قدم اٹھاتا ہے یقین جانیے ایک باپ بھی اسی دن ایک وضع و سرخروئی سے قدم آٹھاتا ہے۔ بچے کے ساتھ ساتھ ایک باپ بھی جوان ہوتا ہے۔ بچے باپ کی انرجی ہوتے ہیں۔ بچوں سے ایک باپ کو مزید کچھ کرنے ، عملی منصوبے بنانے اور نت نئے چیلنج کا سامنا کرنے کا جوش ملتا ہے۔ جب اولاد باپ کے کندھوں برابر لگ کے چلتی ہے تو باپ اپنے آپ کو دنیا کا ایک خوش نصیب اور طاقت ور باپ سمجھتا ہے۔ اولاد باپ کی تڈ، آسرا اور مان ہوتی ہے۔ اولاد اس کے بڑھاپے کی چھڑی ہوتی ہے۔ اگر اولاد فرض شناس ، قدردان اور ذمہ دار ثابت ہوتی ہے تو باپ کبھی بوڑھا ہوتا ہی نہیں۔ کوئی پریشانی یا کوئی بیماری اس کے پاس تک نہیں آتی۔ وہ ہر دم خود کو خوش حال ، تازہ دم ، جوان ، پر عزم اور پر جوش تصور کرتا ہے۔
والد اللہ تعالیٰ کی طرف سے اولاد کے لیے ایک عظیم نعمت ہے۔ لفظ ‘والد’ کہنے کو تو چار حروف کا مرکب ہے لیکن اولاد کے لیے اپنے اندر ولایت، ایثار و وفا، الفت و شفقت، لطف و کرم، دانائی اور دستگیری سموئے ہوئے ہے۔ ایک والد پورے گھر کو سماجی اور معاشی طور پر ڈرائیو کر رہا ہوتا ہے۔ کئی ظاہری اور باطنی خاندانی اور غیر خاندانی آزمائشوں کا سامنا واحد اسی شخصیت کو ہوتا ہے۔ اولاد کیا جانے کہ ان کا والد باہر کی کتنی معاشی اذیتوں کو جھیل کے گھر آتا ہے ۔ ہر سانس وہ کتنا ٹوٹتا ہے اولاد کیا جانے۔ والد برگد کا وہ گھنا درخت ہے جو خود تو دھوپ میں جلتا ہے مگر اولاد کو سایہ باہم پہنچاتا ہے۔
Father,
You are my Super Hero ,
Strong and brave,
You protect me always!
My heart you save
With hugs and kisses ;
You make my day
In your arms ,
I feel safe in every way !!
آج کے نو جوان والدین خصوصا والد کو سرسری لیتے ہیں۔ والد کی نصیحتوں کو ایک کان سے سنتے ہیں دوسرے کان سے نکال دیتے ہیں۔ بلکہ عصر حاضر کی نسل تو ایک کان سے سننا تک گوارا نہیں کرتی۔ والدین سمجھا رہے ہوتے ہیں بچوں کی توجہ موبائل فون پر مرکوز ہوتی ہے۔ ہاں ہوں ہاں کے علاوہ کوئی دوسری مثبت فیڈ بیک نہیں ملتی۔ بچوں کو کیا پتہ والدین کی یہ باتیں ان کے لاکھوں تجربات اور مشاہدات کا نچوڑ ہیں۔ پتہ نہیں والدین کتنی تلخ حقیقتوں، آزمائشوں اور دکھوں کے پل صراط سے گزر کر کچھ سیکھ کر اب بچوں کو سمجھا رہے ہوتے ہیں۔ ہر والد کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے دوسروں سے اچھا پہنیں ، اچھا کھایئں ، اچھا پڑھیں اور سب سے یہ کہ اچھے انسان بنیں۔ والدین سے بڑھ کر کون مخلص ہو سکتا ہے۔
“I talk and talk and talk, and I haven’t taught people in 50 years what my father taught by example in one week.” —Mario Cuomo
ایک والد کو بھی چاہیئے کہ وہ ہر اچھے کام میں بچوں کی حوصلہ افزائی کریں۔ ان کو بہترین مواقع فراہم کریں۔ ان کی ضروریات کا خیال رکھیں۔ والدین کی سب سے قیمتی سرمایہ کاری اس کی اولاد ہوتی ہے۔ اگر وہ اپنی اولاد پر جائز اور ضروری خرچ کریں گے تو بچے پڑھ لکھ کے ایک بہترین ذمہ دار اولاد ثابت ہوں گے۔ جو اپنی وراثتی املاک کے محافظ بھی بنیں گے اور خود اس رزق حلال سے اپنی جائیداد بھی بنایئں گے جو ان کی معاشرتی اور ذاتی بقا کے لئے ضروری ہے۔
اولاد کا بھی فرض اولین ہے کہ وہ اپنے والدین کے ہر جائز اور مفید مشورے پر عمل پیرا ہوں۔ والدین چاہے جس عمر میں ہوں بچوں کو قرآن پاک کی یہ نصیحت پلے باندھنی ہوگی کہ اپنے والدین سے حسن اخلاق سے پیش ایئں۔ بچوں کو یاد رکھنا ہو گا کہ والدین میں سے ایک جنت کا دروازہ اور دوسرے کے قدموں میں جنت جیسی قیمتی چیز ڈھیر کر دی گئی۔ والدین کا اس سے بڑھ کر اور مقام کیا ہو سکتا ہے۔
عموما آج کے اس بے ہنگم اور بے لحاظ دور میں یہ بات اکثر مشاہدہ کی گئی ہے کہ موبائل فون کے بے جا استعمال سے بچوں کی اخلاقیات کافی حد تک بگڑ گئی ہیں۔ سوشل میڈیا ،فیس بک، ٹک ٹاک ، وائس ایپ پتہ نہیں کیا کیا ہمیں تو بہت ساری ایپس اور فیچرز کے نام تک معلوم نہیں بچوں میں ذہنی، نفسیاتی اور اخلاقی طور پر بہت بگاڑ پیدا کر چکے ہیں۔ ان میں ضد، چڑچڑاپن زیادہ دیکھنے کو ملا ہے۔ سارا سارا دن موبائل فون کی سکرین پر بے مقصد اور بلا ضرورت نظریں گاڑے رکھنا آنکھوں پر دباؤ کا سبب بنتا ہے۔ جس سے دید میں کمی ہونے کے خطرات موجود ہیں۔ ساتھ ساتھ بچوں کی گردن اور کمر میں درد ایسے تکلیف دہ خدشات بھی موجود ہیں۔ بچوں سے صرف اتنا کہنا ضروری ہے کہ وہ کھیل اور پڑھائی، سونے اور جاگنے اور سوشل میڈیا کے استعمال میں اعتدال رکھیں۔ آج کے اس سائنسی دور میں بچوں کو موبائل فون اور بایئک لے کر دینا ہر والد کی مجبوری ہے مگر بچوں کو بھی چاہیئے وہ اپنی ان میسر کردہ سہولیات کا مثبت اور ضروری استعمال کریں۔ بچوں کا پرائم کنسرن ان کی تعلیم ہونا چاہئے۔ وقت ضائع نہ کریں۔ وقت کی قدر کو سمجھیں۔ یہی تعلیم ان کو ایک بہترین روزگار اور ایک ذمہ دار انسان بنائے گی ۔ اولاد والد کی پہچان ہوتی ہے۔ اولاد کے لئے ضروری ہے کہ وہ بھی والد کے آگے سرخروئی سمیٹیں۔ معاشرتی ، دنیاوی اور دینی مقام اور رتبہ حاصل کریں۔
مجھ کو تھکنے نہیں دیتا یہ ضرورت کا پہاڑ
میرے بچے مجھے بوڑھا نہیں ہونے دیتے۔
فیس بک کمینٹ

