تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی اچانک واپسی کے بعد شیخ رشید ’سازش‘ کی تلاش میں

نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نے سیکورٹی الرٹ کی وجہ سے گزشتہ روز اچانک پاکستان کا دورہ یک طرفہ طور سے ختم کرکے اپنی ٹیم کو فوری طور سے واپس بلانے کا اعلان کیا ۔ یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا جب پاکستان اور نیوزی لینڈ کی ٹیموں کے درمیان پہلا ٹی 20 تھوڑی دیر بعد ہی راولپنڈی اسٹیڈیم میں ہونے والا تھا۔ یہ صورت حال پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کے حوالے سے پریشان کن ہے۔
وزیر اعظم عمران خان جو اس وقت شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے تاجکستان میں موجود تھے، نے یہ اطلاع ملنے پر نیوزی لینڈ کی ہم منصب جیسنڈا آرڈرن سے فون پر رابطہ کیا اور انہیں یہ فیصلہ تبدیل کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ عمران خان نے نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کو بتایا کہ پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی دنیا کی بہترین ایجنسیوں میں شامل ہے لیکن ہمارے پاس مہمان ٹیم کو لاحق کسی سیکورٹی خطرہ کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔ تاہم نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے پاکستان کا شاندار میزبانی پرشکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کے فیصلے سے پوری طرح متفق ہیں اور اس کے ساتھ ہیں۔ کیوں کہ کھلاڑیوں کی حفاظت سب سے اہم ہے۔اس سے پہلے نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ وہائٹ کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ ’انہیں سرکاری ذرائع سے جو سیکورٹی الرٹ موصول ہوئی تھی، اس کے بعد ٹیم کے لئے پاکستان کا دورہ جاری رکھنا ممکن نہیں تھا۔ مجھے اندازہ ہے کہ یہ فیصلہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے لئے ایک دھچکا ہوگا جس کی میزبانی قابل تعریف تھی۔ تاہم کھلاڑیوں کی حفاظت سب سے اہم ہے اور ہمیں یقین ہے کہ یہ واحد آپشن ہے‘۔ نیوزی لینڈ کے اس یک طرفہ فیصلہ کے بعد پی سی بی کے چئیرمین رمیز راجا نے ایک بیان میں اس فیصلہ کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ پاکستانی کرکٹ فینز کے لئے ایک افسوسناک دن تھا۔ سیکورٹی خطرہ کے نام پر یک طرفہ طور سے ٹیم کا دورہ ختم کرنا مایوس کن ہے۔ خاص طور سے جب اس خطرہ کی تفصیلات بھی فراہم نہیں کی گئیں۔ میں نہیں جانتا کہ نیوزی لینڈ کس دنیا میں رہتا ہے‘۔ انہوں نے اس فیصلہ کے خلاف انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔
نیوزی لینڈ کا فیصلہ پاکستان کرکٹ کے لئے شدید دھچکے سے کم نہیں۔ مارچ 2009 میں لاہور میں سری لنکا کرکٹ ٹیم پر دہشت گرد حملہ کے بعد پاکستان کی سخت کوششوں ، محنت اور یقین دہانیوں کے بعد غیر ملکی ٹیموں نے پاکستان کا دورہ شروع کیا تھا۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم اٹھارہ سال بعد پاکستان کے دورے پر آئی تھی جسے غیر واضح خطرہ کی وجہ سے اچانک منسوخ کردیا گیا۔ نیوزی لینڈ کرکٹ کا یہ فیصلہ پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کے مستقبل کے لئے شدید مایوس کن ثابت ہوسکتا ہے۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم کا دورہ اچانک منسوخ ہونے کے بعد اب آئیندہ ماہ انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کا دورہ بھی اندیشوں کا شکار ہوگیا ہے اور خیال ہے کہ اس صورت حال میں شاید آسٹریلیا کی ٹیم بھی پاکستان آنے سے انکار کردے جو 24 برس بعد فروری۔ مارچ 2022 میں پاکستان کا دورہ کرنے والی ہے۔
تاہم اس صورت حال پر جذباتی بیان دینے اور شدید رد عمل ظاہر کرنے کی بجائے ٹھنڈے دل و دماغ سے صورت حال پر غور کرنے اور دنیا کو یقین دلانے کی ضرورت ہے کہ پاکستان انتہاپسندی سے نمٹنے کی سنجیدہ کوششیں کررہا ہے اور دہشت گردی کے حوالے سے ملکی سیکورٹی فورسز نے ٹھوس اور کامیاب حکمت عملی اختیار کی ہے۔ پاکستان اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہے۔ البتہ نیوزی لینڈ کے اس فیصلہ کے بعد اپنے حالات کا جائزہ لینے اور معاملات کو وسیع تر تناظر میں سمجھنے کی بجائے اگر وزیر داخلہ شیخ رشید کی طرح جذباتی اور نعرے بازی کی بنیاد پر مشتمل بیان دیے جائیں گے تو اس سے معاملات سنبھلنے کی بجائے شبہات اور بے یقینی میں اضافہ ہوگا۔ نیوزی لینڈ کا فیصلہ اس ملک کی سرکاری انٹیلی جنس ایجنسی کی معلومات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔ اس فیصلہ پر افسوس کا اظہار تو شاید درست ہے لیکن اس کو ’احمقانہ‘ قرار دینے سے پہلے ان حالات کا جائزہ لینا بھی مناسب ہوگا جو افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے اور تحریک طالبان پاکستان کے پے در پے حملوں کی وجہ سے سامنے آئے ہیں۔وزیر داخلہ شیخ رشید نے نیوزی لینڈ کے فیصلہ کو ’سازش‘ کا نتیجہ قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ ان کی وزارت نے نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے لئے فول پروف سیکورٹی کا انتظام کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے لئے پاکستانی فوج کے کمانڈوز تعینات کرنے کے علاوہ 4000 پولیس افسر مہمان ٹیم کی حفاظت پر مامور کئے گئے تھے۔ ’ہم نے انہیں یقین دلانے کی کوشش کی کہ آپ کی ٹیم کو کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن وہ نہیں مانے‘۔ وزیر داخلہ نے یہ واضح نہیں کیا کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم کا دورہ منسوخ کروانے کی سازش کون کرسکتا ہے۔ نیوزی لینڈ ایک چھوٹا سا خوشحال ملک ہے جو کسی بڑی عالمی کشمکش کا حصہ نہیں ہے۔ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ شیخ رشید اس بیان کے ذریعے بالواسطہ طور سے بھارت کو اس سازش کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں اگرچہ انہوں نے ہمسایہ ملک کا نام نہیں لیا ۔ البتہ دو پہلو سے یہ بیان غیر ذمہ دارانہ اور پاکستان کے وسیع تر مفادات کے خلاف ہے۔
اول تو سازش کا لفظ پاکستانی سیاست دان اور حکمران اس تواتر سے استعمال کرتے ہیں کہ یہ دشمن کی کسی کارروائی سے زیادہ حکومت کی ناکامی کا استعارہ بن چکا ہے۔ خاص طور سے جب ملک میں سیکورٹی کے ذمہ دار وزیر ایک طرف نیوزی لینڈ پر سیکورٹی الرٹ کی تفصیلات نہ دینے کا الزام لگا رہے ہیں لیکن خود اس نو دریافت شدہ ’سازش‘ کی کوئی تفصیل بتانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ اس کے علاوہ جب ایک طرف پاکستان کو ہر لحاظ سے محفوظ قرار دیا جاتا ہے اور ملکی انٹیلی جنس کو دنیا کی ’بہترین انٹیلی جنس‘ کا اعزاز بھی دیا جاتا ہے اور ساتھ ہی ایک کرکٹ ٹیم کی حفاظت کے لئے وزیر داخلہ کی معلومات سے ہی یہ بات یقینی ہوجاتی ہے کہ پاکستان میں غیر ملکیوں کی زندگیوں کو خطرہ تو بہر حال لاحق ہے۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ ایک ٹیم کی حفاظت کے لئے پاک فوج کے کمانڈوز تعینات کئے جائیں اور ہزاروں پولیس والے اس کام پر مامور ہوں۔ گویا پاکستان محفوظ تو نہیں ہے لیکن حکومت مہمانوں کو ’حصار بند‘ کرکے ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کی کوشش کرتی ہے۔ شیخ رشید اس صورت حال پر ٹھنڈے دل سے غور کریں تو وہ انہیں خود ہی یہ فرق محسوس ہوجائے گا۔
اس اندیشے کو مکمل طور سے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ کسی سطح پر بھارت نے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کو ناکام بنانے میں کردار ادا کیا ہو۔ اس سے پہلے بھی بھارت آئی سی سی کے پلیٹ فارم پر پاکستانی کرکٹ کے لئے مشکلات پیدا کرتا رہا ہے اور خالصتاً سیاسی مقصد کے لئے بھارتی کرکٹ ٹیم کو پاکستان کے ساتھ کھیلنے سے منع کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی نوٹ ہونی چاہئے کہ دنیا میں دہشت گردی کے خطرے کے بارے میں معلومات کے تبادلے کا جو نظام استوار کیا گیا ہے اس میں تمام عالمی انٹیلی جنس ایجنسیاں اپنے دوست ملکوں کو ایسے خطروں کے بارے میں آگاہ کرتی رہتی ہیں۔ یہ معلومات مختلف ذرائع سے ہوتی ہوئی کسی بھی ملک کی انٹیلی جنس ایجنسی کے پاس پہنچتی ہیں جو اپنے تجربے اور معلومات کی روشنی میں ان کا جائزہ لے کر ضروری اقدام کرتی ہیں۔
اس پس منظر میں یہ قیاس مکمل طور سے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ بھارتی انٹیلی جنس نے ٹی ٹی پی کی حالیہ سرگرمیوں کے تناظر میں کچھ معلومات اپنے عالمی پارٹنرز کے ساتھ شئیر کی ہوں جو براہ راست یا بالواسطہ طور سے نیوزی لینڈ کی انٹیلی جنس کے علم میں آگئی ہوں اور اس نے پاکستان میں نیوزی لینڈ کے شہریوں کو لاحق خطرات کے بارے میں وارننگ جاری کی ہو ۔ دنیا کے موجودہ حالات میں اس قسم کی انٹیلی جنس شئیرنگ غیر معمولی طریقہ نہیں ہے لیکن اس کی بنیاد پر ہر ملک اپنی صوابدید کے مطابق فیصلہ کرتا ہے۔ اس پیچیدہ نظام میں بھارتی سازش کا سرا تلاش کرنا آسان نہیں ہوگا۔ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے تناظر میں شاید بہت سے پاکستانی ایسا محسوس کریں اور اسے بھارتی ایجنسیوں کی سوچی سمجھی سازش قرار دیں لیکن ملک کے وزیر داخلہ جب یہ بیان دیتے ہیں اور اپنی مایوسی کو سازش کہا جائے گا تو اسے بنیاد طور پر اسے حکومت کی ناکامی ہی سمجھا جائے گا۔
اس حوالے سے البتہ اس نکتہ پر بھی غور کی ضرورت ہے کہ جو معلومات نیوزی لینڈ انٹیلی جنس تک پہنچیں، ان تک دنیا کی سب سے اعلیٰ پاکستانی انٹیلی جنس کو کیوں رسائی نہیں تھی۔ اور کیا وجہ ہے کہ ان معلومات کی بنیاد پر فیصلہ سے پہلے ہی پاکستانی انٹیلی جنس نیوزی لینڈ حکام کو کیوں نہیں بتا پائی کہ پاکستان میں سیکورٹی کے بارے میں ’فیک نیوز‘ پھیلائی جارہی ہیں۔ انہیں قابل اعتبار نہ سمجھا جائے۔ ایسی صورت میں شاید موجودہ پریشان کن صورت حال سے بچا جاسکتا تھا۔اس جذباتی ماحول میں بعض حلقے نیوزی لینڈ کو سیاسی و سفارتی طور سے سزا دینے کے لئے ویلنگٹن میں پاکستانی ہائی کمیشن بند کرنے کا مشورہ بھی دے رہے ہیں ۔ اس رائے کے مطابق اس طرح نیوزی لینڈ کو بھی اندازہ ہوگا کہ پاکستان کے خلاف ’توہین آمیز‘ رویہ اختیار کرنے کی قیمت بھی ادا کرنا پڑے گی اور دنیا کو بھی علم ہوجائے گا کہ پاکستان اپنے خلاف فیصلوں پر سخت جواب دینے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ تاہم ایسے بیان یا مشورے جذباتی رد عمل کے طور پر سامنے آرہے ہیں۔ حکومت کو ایک ناخوشگوار واقعہ کے بعد کسی بھی انتہائی اقدام سے گریز کرنا چاہئے۔ البتہ یہ اہم ہوگا کہ ملک میں سیکورٹی کی صورت حال کا از سر نو جائزہ لیا جائے اور قومی سلامتی کے معاملات کو سیاسی بیان بازی اور پوائینٹ اسکورنگ کے لئے استعمال کرنا بند کیا جائے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker