اہم خبریں

آئی پی پیز سکینڈل : نیب کی طرف سے پرویزمشرف کے خلاف تحقیقات کا حکم

اسلام آباد : قومی احتساب بیورو نیب نے ملکی مفاد کے خلاف معاہدوں سے متعلق پرویز مشرف کے خلاف شکایات کو انکوائری کے لئے منظور کر لیا اور تین ماہ میں تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ مشرف دور میں آئی پی پیز کے ساتھ ملکی مفاد کے خلاف احمقانہ شرائط پر معاہدے کئے گئے جن کی وجہ سے 1400ملین سرکلر ڈیٹ کی مد میں ادا کر نا پڑتا ہے اور ملکی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے ۔ شکایت قانون کنندہ معروف ماہر قانون کر نل ریٹائرڈ انعام الرحیم نے بتایا کہ سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ نے اس کیس میں ریمارکس دئے تھے کہ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے گلے کا پھندہ بنے ہوئے ہیں ۔ پتہ نہیں کون لوگ تھے جنہوں نے معاہدے کئے ؟ انہوں نے بتایا کہ 1993ءمیں بجلی کی پیدا وار کے لئے جو معاہدے کئے گئے تھے انہیں نواز شریف نے اپنے دور حکومت میں چیلنج کیا اور عدالت نے کالعدم قراردے دیا تھا پھر پرویز مشرف آ گئے انہوں نے ملکی مفاد کے خلاف نہ صرف معاہدے کئے بلکہ اس حوالے سے عدالت میں دائر رٹ بھی واپس لے لی گئی ۔ مشرف دور میں حبکو کے ساتھ ایک میٹنگ کے دوران چیئر مین واپڈا جنرل ذوالفقار نے ٹیرف بڑھانے سے متعلق شرائط ماننے سے انکار کیا تو اس وقت کے وزیر خزانہ شوکت عزیز نے جنرل پرویز مشرف سے فون پر بات کی جنرل مشرف نے چیئر مین واپڈا کو ہدایت کی کہ شوکت عزیز کی بات پر عمل کرو جس کے بعد حبکو کے چیف ایگزیگٹو کے ساتھ معاہدہ کر لیا گیا ۔ کرنل انعام الرحیم نے بتایا کہ تمام دستاویزات نیب کو فراہم کر دی گئی ہیں یہ ملکی مفاد کے صریحاً خلاف معاہدہ تھا جس کی شرائط میں یہ بھی شامل تھا کہ ادائیگیاں امریکی ڈالر میں ہوں گی ۔ پلانٹ گنجائش سے کم بجلی بنائے تو بھی ادائیگی ہو گی پلانٹ کو تیل حکومت فراہم کرے گی اور اس کی مرمت کی ذمہ دار بھی حکومت پاکستان ہو گی یہ معاہدہ ملکی مفاد کے خلاف ہے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker