اسلام آباد: ملک بھر میں آج عیدالفطر مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جارہی ہے۔اس موقع پر ہم گردو پیش کے قارئین کو مبارک باد پیش کرتے ہیں ۔ عیدالفطر کی مناسبت سے ملک بھر کی چھوٹی بڑی مساجد اور عید گاہوں میں نماز عید کے اجتماعات ہوئے جن میں ملکی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کیلئے خصوصی دعائیں کی گئیں۔کراچی شہر میں عیدالفطر کے چھوٹے بڑے اجتماعات ہوئے جہاں گورنر سندھ عمران اسماعیل اور میئر کراچی وسیم اختر نے پولو گراؤنڈ میں نماز عید ادا کی۔
اسلام آباد میں عید کا سب سے بڑا اجتماع شاہ فیصل مسجد جب کہ راولپنڈی میں لیاقت باغ میں ہوا۔وزیر اعظم عمران خان نے نماز عید اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ میں قائم مسجد میں نماز عید ادا کی، بنی گالہ سیکرٹریٹ کے ملازمین اور سیکیورٹی اسٹاف نے بھی وزیراعظم کےساتھ نماز عید ادا کی، نماز عید کے بعد وزیراعظم نے ملازمین اور سیکیورٹی اسٹاف سے عید ملی اور انہیں مبارک باد دی۔صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے فیصل مسجد اسلام آباد میں عید کی نماز ادا کی جب کہ اراکین پارلیمنٹ اور سفراء سمیت شہریوں کی بڑی تعداد نے فیصل مسجد میں نماز عیدالفطر ادا کی۔چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، گورنر بلوچستان امان اللہ یاسین زئی اور وزیراعلیٰ جام کمال نے گورنرہاؤس میں نماز عیدادا کی۔خیبرپختونخوا کے بعض علاقوں میں عید پیر کو منالی گئی تاہم زیادہ تر علاقوں میں آج بروز بدھ ہی عید منائی جارہی ہے۔پشاور میں عید کا بڑا اجتماع سنہری مسجد اور قیوم اسٹیڈیم میں منعقد ہوا، اس کے علاوہ اندرون شہر، دلزاک روڑ، ورسک روڈ اور صدر کے مختلف مساجد میں نماز عید ادا کی گئی۔عیدالفطر کے اجتماعات کی سکیورٹی کیلئے سخت انتظامات کئے گئے ہیں، مساجد اور عیدگاہوں کی سیکیورٹی کیلئے پولیس کے جوان تعینات کیے گئے۔مساجد اور امام بارگاہوں کے داخلی راستوں پر واک تھرو گیٹس اور سکیورٹی کیمرے بھی نصب کیے گئے جب کہ اہم مقامات اور تنصیبات کی سکیورٹی کیلئے پاک فوج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس کے جوان عیدالفطر کے موقع پر اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔یاد رہے کہ پشاور کی مسجد قاسم علی خان کے خطیب مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے گزشتہ روز شوال کا چاند نظر آنے کا اعلان کیا تھا جس کی توثیق صوبائی حکومت نے بھی کی اور صوبے میں سرکاری طور پر عید منانے کا اعلان کیا۔تاہم وزیراطلاعات کے پی کے شوکت یوسف زئی نے کہا ہے کہ صوبے میں عید کے اعلان سے پہلے وزیراعظم عمران خان کو بتایا گیا تھا جس پر وزیراعظم نے جواب دیا کہ آپ کا معاملہ ہے آپ بہتر سمجھتے ہیں، مفتی منیب کے کہنے پر روزہ رکھا مگر ایک دن پہلے والا روزہ ٹھیک تھا، ایک روزے کا کفارہ ادا کریں گے اور دوبارہ رکھیں گے۔

