اہم خبریں

کابل پرطالبان کے حملے : 65 بچوں سمیت سیکڑوں زخمی

کابل : افغانستان کے دارلحکومت کابل میں صبح نو بجے کے قریب کار بم دھماکے کے بعد حملہ آور ایک عمارت میں داخل ہو گئے۔حکام نے اب تک ایک شہری کی ہلاکت اور 93 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے جبکہ سکیورٹی اہلکاروں اور حملہ آوروں کے درمیان تصادم کا سلسلہ جاری ہے۔افغان وزرات صحت کے ترجمان نے ٹی وی پر بیان کے دوران بتایا کہ 93 افراد زخمی ہیں۔ جبکہ اب تک ایک شہری کی لاش ہسپتال منتقل کی گئی



اس سے قبل افغانستان کی وزارت داخلہ نے کہا تھا کہ کابل میں ہونے والے کار بم دھماکے میں 65 افراد زخمی ہوئے ہیں۔حکام کے مطابق سکیورٹی اہلکار حملہ آوروں کے خالف آپریشن کر رہے ہیں جو کہ دھماکے کے بعد قریب موجود عمارت میں داخل ہوگئے تھے۔وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ صبح نو بجے کے قریب گلبہار ٹاور کے قریب وزارت دفاع کے لاجسٹک اینڈ انجینئیرنگ ڈیپارٹمنٹ کے قریب کار بم دھماکہ ہوا اور پھر خودکش حملہ آور ایک زیر تعمیر عمارت کے اندر داخل ہو گئے جن کا پولیس کے ساتھ تصادم جاری ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ اب تک ایک خودکش حملہ آور ہلاک ہوا ہے۔ایک شہری کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔
وزارت داخلہ نے ابتدائی طور پر بتایا تھا کہ زخمی ہونے والے 65 افراد میں نو بچے بھی شامل ہیں تاہم بعد میں محکمہ تعلیم کے حکام کے حوالے سے خبر آئی کہ زخمیوں میں سکول کے 50 طالبعلم بھی شامل ہیں۔ جبکہ ان حملوں میں پانچ سکولوں کی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔



طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے میڈیا کو بھجوائے گئے ایک پیغام میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔طالبان کا کہنا ہے کہ حملے کا ہدف وزارت دفاع کا لاجسٹک اور انجینئیرنگ ڈیپارٹمنٹ تھا۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فائرنگ کی آوازیں اب بھی سنائی دے رہی ہیں۔پرائیویٹ ٹی وی چینل شمشاد کا دفتر بھی اسی علاقے میں موجود ہے جس کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عمارت کو جزوی نقصان پہنچا ہے جبکہ اس کے عملے کے کچھ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔خیال رہے کہ یہ حملے ایک ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان دوہا میں مذاکرات کا ساتواں دور جاری ہے۔گذشتہ روز بھی طالبان نے اپنے بیان میں افغانستان کے مختلف علاقوں میں 50 حملے کرنے کی تصدیق کی تھی تاہم وزارت دفاع نے اس کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ زیادہ تر حملوں کو پسپا کر دیا گیا ہے۔
(‌بشکریہ :‌بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker