اختصارئے

وحید مراد کو مداحوں سے بچھڑے 36 برس بیت گئے

کراچی : لالی ووڈ کے معروف اداکار اور فلم ساز وحید مراد کو مداحوں سے بچھڑے 36 برس بیت گئے۔ وحید مراد 2اکتوبر 1938کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ پاکستان کی تاریخ میں کبھی کسی ہیرو کو اتنی پذیرائی حاصل نہیں ہوئی جتنی وحید مراد کو حاصل ہوئی۔اُن کا ہر انداز نرالا تھا ان کے مداحوں نے ان کا ہر اسٹائل کاپی کیا ۔ 1961ء میں انہیں ایس ایم یوسف کی فلم ’اولاد‘ میں ایک اہم کردار کے لیے پہلی بار کاسٹ کیا گیا اور یوں بطور اداکار وحید مراد کی پہلی فلم ’اولاد‘ اگست 1962ء میں ریلیز ہوئی اور گولڈن جوبلی کا اعزاز حاصل کیا
وحید مراد کو اصل شہرت اپنی ذاتی فلم ’ہیرا اور پتھر‘ سے حاصل ہوئی جبکہ وحید مراد کو پاکستان کی پہلی پلاٹینیم جوبلی فلم ’ارمان‘ کا فلم ساز، مصنف اور ہیرو ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ وحیدمراد کی 1966میں بننے والی فلم ’ارمان‘ نے باکس آفس کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے۔ اس فلم کے گانے ’کو کو کورینا‘ اور ’اکیلے نا جانا‘ آج بھی ان کے چاہنے والوں کے ذہنوں میں تروتازہ ہیں۔ انہوں نے 124فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں جن میں ١ پشتو اور 8 پنجابی فلمیں شامل ہیں۔ 1980میں وحید مراد ایک حادثے کا شکار ہوگئے جس کی وجہ سے ان کا چہرہ شدید زخمی ہوگیا اور پلاسٹک سرجری کروانا پڑی اس کے بعد فلموں میں ہونے والی ناکامی نے وحید مراد کو دل برداشتہ کر دیا اور23نومبر 1983 کی صبح فلم انڈسٹری کا یہ درخشاں آفتاب ہمیشہ کے لیے ڈوب گیا۔ وحید مراد کو ہیرا اور پتھر،ارمان،عندلیب اور مستانہ ماہی میں بہترین اداکاری پر نگار ایوارڈ دیا گیا جبکہ ان کو 2002میں لائف ٹائم لیجنڈایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ وحید مراد پاکستان کے ان ہیرو میں سے ہیں جن کی اداکاری حقیقت کے قریب تر تھی۔ پاکستانی اداکاروں میں جو شہرت اور عزت وحید مراد کے حصہ میں آئی وہ کبھی کسی کو نصیب نہیں ہوئی ۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker