اہم خبریں

ایران میں دوسرے روز بھی احتجاجی مظاہرے : ٹرمپ کی جانب سےوارننگ

تہران : ایران کے گذشتہ ہفتے تہران میں ایک یوکرینی مسافر طیارے کو مار گرانے کے اعتراف کے بعد شہریوں کا احتجاج اتوار کو دوسرے روز بھی جاری رہا، جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا کہ وہ مظاہرین کو ہلاک کرنے سے باز رہے۔
رواں ماہ امریکی حملے میں ایرانی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کے مارے جانے کے ردعمل میں ایران نے آٹھ جنوری کو عراق میں امریکی فوجی اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کے بعد تہران کے امام خمینی ہوائی اڈے سے اڑنے والے ایک یوکرینی طیارے کو ’غلطی‘ سے مار گرایا تھا، جس میں عملے کے ارکان سمیت تمام 176 مسافر ہلاک ہوئے تھے۔
تہران پہلے پہل واقعے کو حادثہ قرار دیتا رہا تاہم عالمی دباؤ پر تسلیم کیا کہ اس نے غیر ارادی طور پرغلطی سے طیارے کو امریکی کروز میزائل سمجھ کر نشانہ بنایا تھا۔
ایرانی حکومت کے اعتراف کے بعد ملک میں ہزاروں طلبہ اعلیٰ عہدے داروں کی برطرفی اور ان کے احتساب کا مطالبہ کرتے ہوئے سٹرکوں پر نکل آئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی حکومت نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا اور مظاہرین کے علاوہ برطانوی سفیر کو بھی گرفتار کر لیا تھا تاہم انھیں بعد میں رہا کر دیا گیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر نے اس صورت حال کے تناظر میں اتوار کی رات اپنی ٹویٹ میں کہا: ’ایران کے رہنماؤں کے لیے میرا پیغام ہے کہ وہ اپنے مظاہرین کو ہلاک نہ کریں۔‘

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker