اہم خبریںبلوچستانکشمیرگلگت بلتستان

سردی کا تیس سالہ ریکارڈٹوٹ گیا :آزاد کشمیر ، بلوچستان، گلگت بلتستان میں75افراد ہلاک

اسلام آباد : گذشتہ دو روز کے دوران مسلسل برفباری اور بارشوں کے باعث پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور صوبہ بلوچستان میں کم از کم 75 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے این ڈی ایم اے کے مطابق حالیہ بارشوں اور برفباری کے باعث پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 55 ہو چکی ہے۔
این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان میں پیش آئے مختلف واقعات میں اب تک 20 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں وادی نیلم کے سورنگن گاؤں میں 19 افراد برفانی تودہ تلے دب کر ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 10 افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔
تودے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے کوششیں جاری ہیں جبکہ متاثرین کے لیے راشن، ٹینٹ اور گرم کپڑے روانہ کر دیے گئے ہیں۔صحافی ایم اے جرال کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ضلع نیلم حالیہ برفباری اور بارشوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔
ضلع نیلم کے علاقے سرگان بکوالی میں برفانی تودے کی زد میں آ کر چھ افراد ہلاک ہوئے جبکہ چھ ہی کے قریب رہائشی مکانات مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں۔
ضلع نیلم ہی کے علاقے چکناٹ میں پانچ، کیل کالالوٹ میں تین، پھلواری میں دو جبکہ لاوٹ بالا، ڈوڈنیال غوری اور بنٹال میں برفانی تودوں کی زد میں آ کر ایک، ایک شخص ہلاک ہوئے ہیں۔پاکستان کے زیر انتظام کشمیر می مجموعی طور پر 16 رہائشی مکانات مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں جبکہ 14 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔کشمیر میں شدید برفباری کے باعث نیلم ویلی روڈ، باغ سے چیکر اور لسڈانا روڈز، لیپا ویلی روڈ اور دیگر مرکزی شاہراہیں اور رابطہ سڑکیں متعدد مقامات پر ٹریفک کے لیے بند ہیں۔
این ڈی ایم اے کے مطابق صوبہ بلوچستان میں مسلسل برفباری اور بارش کے باعث چھتیں گرنے اور دیگر واقعات میں اب تک 20 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 23 زخمی ہیں۔ ہلاک ہونے والے 20 افراد میں 12 خواتین اور سات بچے بھی شامل ہیں۔
ژوب میں نو، قلعہ عبداللہ میں چھ جبکہ کوئٹہ، پشین اور مستونگ میں ایک، ایک ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔
کوئٹہ میں گذشتہ شب شدید برفباری کے باعث کان مہترزئی میں پھنسے 300 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔ اگرچہ مختلف شاہراہوں اور رابطہ سٹرکوں کو ہلکی ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے تاہم پھسلن کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہے۔صوبہ بلوچستان کے علاقوں کوئٹہ، مستونگ، قلات، قلعہ سیف اللہ اور دیگر شہروں میں عوام کو اشیائے ضروریہ کے حصول میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
سکردو سے صحافی موسٰی چلونکھا کے مطابق پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان کے بلتستان ڈویژن کے چاروں اضلاع سکردو، کھرمنگ ،گنگچھے اور ضلع شگر میں ہفتے کے روز سے مسلسل برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔شدید برف باری کے باعث نظام زندگی مفلوج ہے اور وہاں کے لوگ گھروں کو محصور ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے۔ بلتستان ڈویژن کے ہیڈکوارٹر سکردو سے باقی اضلاع کا زمینی رابطہ بھی منقطع ہو چکا ہے اور ایسے میں عوام کو سخت مشکلات اور پریشانی کا سامنا ہے۔
سکردو میں شدید برفباری کے باعث بجلی اور انٹرنیٹ سروس معطل ہے، سکردو شہر میں تمام کارباری مراکز بھی 80 فیصد کے قریب بند ہیں جس کے باعث لوگوں کی اشیائے ضروریہ تک رسائی مشکل ہو گئی ہے۔
بلتستان کے چاروں اضلاع کے سرکاری دفتروں میں پیر اور آج (منگل) کے روز ملازمین کی حاضری نہ ہونے کے برابر رہی۔ بلتستان میں رواں برس سردی کی شدت میں کافی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، سکردو شہر میں درجہ حرارت منفی 21 تک ریکارڈ کیا گیا جبکہ بالائی علاقوں میں پارہ نقطہ انجماد سے منفی 28 تک گر گیا ہے جو کہ گزشتہ 30 برسوں میں سب سے زیادہ ہے۔
وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان نے برف باری کے باعث بند شاہراہوں کو برف باری کا سلسلہ رکنے کے بعد کھولنے کے لیے متعلقہ محکموں کو ہدایت بھی جاری کر دی ہیں۔ شدید برف باری اور خراب موسم کے باعث سکردو اور اسلام آباد کے درمیان پی آئی اے کی پرواز بھی کئی روز سے معطل ہے۔
بلوچستان میں دو روز کے دوران جن علاقوں میں سب سے زیادہ برفباری ہوئی ہے ان میں کان مہترزئی کا علاقہ بھی شامل ہے۔کوئٹہ سے اندازاً شمال مشرق میں سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع اس علاقے کا شمار سرد ترین علاقوں میں ہوتا ہے۔سڑکوں پر پھسلن کے باعث اس علاقے میں گاڑیوں کو آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
شدید سردی اور قرب و جوار کے علاقوں میں رہائش یا پناہ لینے کے لئے انتظام نہ ہونے کی وجہ سے یہ افراد ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہو گئے تھے
پیر کی شام کے وقت پھسلن کے باعث اس علاقے میں گاڑیوں کی ایک بڑی تعداد پھنس گئی تھی جن میں تین سو سے پانچ سو قریب افراد موجود تھے۔
شدید سردی اور قرب و جوار کے علاقوں میں رہائش یا پناہ لینے کے لئے انتظام نہ ہونے کی وجہ سے یہ افراد ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہو گئے تھے۔ تاہم مقامی انتظامیہ کی جانب سے ان افراد کو ریسکیو کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا جو کہ رات گئے تک جاری رہا۔
پیر کے روز مسلسل برفباری اور بارش کے باعث کوئٹہ کراچی ہائی وےکو لکپاس، کوئٹہ سبّی ہائی وے کو دشت، کوئٹہ ژوب ہائی وے کو کان مہترزئی اور کوئٹہ چمن ہائی وے کو کوژک کے مقام پر بند کرنا پڑا تھا۔دن کے وقت ان علاقوں میں ٹریفک کو کسی حد تک بحال کرنے کی کوشش کی گئی تھی تاہم رات کو سردی کی شدت میں اضافے اور پھسلن کی باعث گاڑیوں کی آمدورفت میں مشکل ہو گیا ہے۔جہاں ان علاقوں میں برف باری کی وجہ سے لوگوں کو آمد ورفت میں مشکلات کا سامنا ہے وہیں کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں جہاں جہاں گیس کی سہولت موجود ہے وہاں گیس کے پریشر میں کمی کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker