اہم خبریں

معروف ناول نگار نثار عزیز بٹ انتقال کر گئیں

گوجرانوالہ : معروف ناول نگار نثار عزیز بٹ جمعہ کے روز انتقال کر گئیں ۔ ان کی عمر 93 برس تھی ان کے انتقال سے ناول نگاری کے ایک عہد کا خاتمہ ہو گیا ۔ نثار عزیز بٹ اپنے عہد کی بڑی ناول نگار تھیں ۔ اردو ادب کی تاریخ میں ان کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔وہ 1927 ء میں مردان میں پیدا ہوئیں ۔
نثار عزیز بٹ خواتین ناول نگاروں کی اس کہکشاں سے تعلق رکھتی تھیں جنہوں نے ناول نگاری پر دوررس اثرات مرتب کیے۔ 1925ءسے 1930ءکے درمیان پیدا ہونے والی ان خواتین ناول نگاروں میں قرة العین حیدر، خدیجہ مستور، جمیلہ ہاشمی، الطاف فاطمہ اورافسانہ نگاروں میں ممتازشیریں اورہاجرہ مسرور کے نام قابل ذکر ہیں۔نثار عزیز بٹ نامور سیاستدان اورسابق وزیرخزانہ سرتاج عزیز کی بڑی بہن تھیں۔
نثار عزیز بٹ کے ناولوں کا موضوع آئیڈیلزم ہے۔ ان کے ناولوں میں ”نگری نگری پھرا مسافر “، ”نے چراغِ نے گل “ ، ”کاروانِ وجود “، ”دریا کے سنگم“ شامل ہیں۔ ان کے ناولوں کے زیادہ تر کردار آئیڈیلزم کا شکار ہیں۔
”نگری نگری پھرا مسافر “ میں ایک بنیادی کردار ”افگار “ کا ہے۔ جو آئیڈیلزم کا شکار ہے۔ یہ کردار لاتعداد محرمیوں سے بنا ہوا ہے۔ بچپن کی محرومیوں او راحساسِ تنہائی نے اسے انتشار پسند بنا دیا ہے۔ لوگ اس سے محبت چاہتے ہیں لیکن وہ کائنات کی حقیقت اور معنویت کی تلاش میں لگی رہتی ہے۔ وہ تصوف سے بھی وابستہ ہے۔ آخر میں وہ کہتی ہے کہ حقیقت کی جستجواچھی چیز ہے لیکن اگر راستہ مل جائے تو سفر ختم ہو جائے گا۔
”کاروانِ وجود “ کا کردار ثمر صالح بھی افگار کی طرح آئیڈیلزم کا شکار ہے۔ نثار عزیز بٹ ”نے چراغ نے گل “ میں سماجی اور معاشرتی مسائل سے پردہ اُٹھاتے ہیں۔ خصوصاً سماجی رشتوں کی تبدیلی سے نوجوانوں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker