اہم خبریں

جنوبی پنجاب صوبے کا بل قومی اسمبلی میں پیش کرنے اور سیکریٹریٹ بہاول پور میں بنانے کا فیصلہ

وزیراعظم عمران خان سے آج جنوبی پنجاب کے اراکین اسمبلی نے ملاقات کی جس کے دوران بہاولپور میں وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ‌ کیلئے ساڑھے 3ارب روپے کے فنڈز مختص کئے جائیں گے۔
اہم فیصلے کے بعد معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان اور وزیر خارجہ شاہ محمود نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ معاون خصوصی نے اپنے خطاب میں کہا کہ بہاولپور میں وزیراعلی سیکرٹریٹ کا قیام تحریک انصاف حکومت کا جنوبی پنجاب صوبہ کی طرف پہلا قدم ہے۔ بہاولپور کے لئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری اورایڈیشنل آئی جی تعینات کیے جائیں گے۔ فردوس عاشق نے مزید کہا کہ وزیراعظم جنوبی پنجاب کےعوام کی محرومیاں دور کرنا چاہتے ہیں، جس پر عملدرآمد کیلئے وزیراعظم نے جنوبی پنجاب کی لیڈرشپ سے آج طویل مشاورت کی اور عوام سے وعدوں کی تکمیل کا جائزہ لیا گیا۔جنوبی پنجاب کی لیڈر شپ نے اپنی رائے سے وزیراعظم کو آگاہ کیا جس کے بعد بہاولپور میں سیکرٹریٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اس موقع پر وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب بھی شریک تھے، جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کیلئے اسمبلی میں بل پیش کیا جائےگا، بل پر دیگر سیاسی جماعتوں سے مشاورت اور تائید حاصل کی جائےگی۔ شاہ محمود نے کہا کہ جنوبی پنجاب کی محرومیوں کو ختم ہونا چاہیے، آبادی کے تناسب سے 35 فیصد فنڈ جنوبی پنجاب کیلئےمختص کریں گے، ماضی میں وعدے کے مطابق جنوبی پنجاب کو فنڈز نہیں ملا کرتے تھے، جنوبی پنجاب کےعوام کیلئے سیکریٹریٹ کا فیصلہ ہوا ہے، اپریل میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری، ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب تعینات کیا جائے گا۔ دونوں میں سے ایک افسر بہاولپور اور دوسرا ملتان میں موجود ہو گا، سیکریٹریٹ کیلئے ساڑھے 3ارب روپے درکار ہوں گے۔
وزیرخارجہ نے مزید بتایا کہ جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ کیلئے ایک آئی جی بھی ہوگا، سیکریٹریٹ کیلئے 1350 پوسٹیں بنیں گی، سیکریٹریٹ کے منصوبے کو آج حتمی شکل دی گئی ہے۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میں ان تمام افراد کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں جنہوں نے جنوبی پنجاب کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھاکہ جنوبی پنجاب کے صوبہ بنے کے بعد تمام لوازمات جو باقی صوبوں کو حاصل ہیں مثلاً این ایف سی، وفاقی میں نمائندگی اسے بھی ملے گی جبکہ ترقی کے لیے درکار اقدمات بھی اس صوبے کو حاصل ہوں گے۔ایک سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا پچھلے ادوار میں 2 تہائی کے باجود مسلم لیگ (ن) نے جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے لیے کچھ نہیں کیا۔ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں 2 تہائی اکثریت نہ ہونا سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ دیگر جماعتیں بالخصوص پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے لیے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا ساتھ دیں گے کیوں کہ ماضی میں بینظیر بھٹو شہید، بلاول بھٹو بھی جنوبی پنجاب کے صوبے کے بارے میں بات کرچکے ہیں۔
وزیر خارجہ کے مطابق اب بجٹ میں مختص شدہ فنڈز کو ایسا تحفظ دے دیا گیا ہے جسے واپس نہیں لیا جاسکے گا۔انہوں نے کہا کہ چونکہ بل کے لیے آئینی ترمیم درکار ہے اور اس کے لیے سیاسی مفاہمت میں وقت لگے گا اس لیے اجلاس میں یہ بھی فیصلہ ہوا کہ عوام کے دیرینہ مطالبے پر بلا تاخیر ان کے مسائل ان کے دہلیز کے قریب حل کرنے کے لیے سیکریٹریٹ قائم کرنے کا فیصلہ ہوا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں جنوبی پنجاب میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری اور ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) کو تعینات کردیا جائے کیوں کہ انفرا اسٹرکچر اورایک مکمل سیکریٹریٹ بننے وقت درکار ہے۔انہوں نے کہ اس سلسلے میں مالیاتی ضروریات کا عمل بھی مکمل کرلیا گیا ہے جس کے تحت چیف سیکریٹری نے آگاہ کیا کہ سیکریٹریٹ کے لیے ساڑھے 3 ارب روپے اور 1350 اضافی آسامیاں درکار ہیں۔
شاہ محمود قریشی نے سابق قائم مقام وزیر اعظم بلخ شیر مزاری کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔
اس کے ساتھ کا کہنا تھا کہ میں ان تمام افراد کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں جنہوں نے جنوبی پنجاب کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھاکہ جنوبی پنجاب کے صوبہ بنے کے بعد تمام لوازمات جو باقی صوبوں کو حاصل ہیں مثلاً این ایف سی، وفاقی میں نمائندگی اسے بھی ملے گی جبکہ ترقی کے لیے درکار اقدمات بھی اس صوبے کو حاصل ہوں گے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker