قلندرز کیا کرنے والے ہیں، نئی اٹھان سے اہل لاہور تو جی اٹھے پورا پاکستان حیران لیکن خوشگوار موڈ میں ہے۔ فتح کا نسخہ کہاں سے ایسا ہاتھ لگاہے کہ ٹیمیں ڈھیر ہوجاتی ہیں۔ قلندرز تو اس سنسنی خیز ڈرامے کی طرح آگے بڑھ رہے ہیں جس کا ابتدائی منظرنامہ ولن کے نام ہوتا ہے بعد میں ہیرو کے پاس موقع ہوں یا نہ ہوں لیکن ڈرامہ ہیرو کے نام ہی ہوتا ہے۔
یہ فلمی انداز ہی تو ہے کہ کہاں درپے شکستوں پربیزاریت تھی تو کہیں قلندرز کی منیجمنٹ پرتنقید،کہیں سہیل اختر کی کپتانی ہدف تھی تو کہیں سلیکشن پر سوالات اور کہیں تجربہ کار حفیظ پر انگلیاں تھیں تو کہیں فخر زمان کی تیکنیک زیر بحث تھی لیکن پھر سب کچھ اچھا ہوگیا ۔ بین ڈنک کا بلا برسا، سامت پٹیل کی گیندیں گھومیں اور 200 رنز سے زائد کا ہدف سیٹ کرنا یا 200 کے قریب کے ٹارگیٹ کو عبور کرنا مسئلہ ہی نہیں رہا۔
یہ راتوں رات ہوا یا اس کے پیچھے کوئی راز ہے ۔پشاور کی کپتانی بدلی ،حالات قلندرز کے تبدیل ہوئے۔ اس میں کوئی راز ہے یا نہ نظر آنے والا کنکشن ؟وہاب ریاض کی ” ریاضت “قلندری ہی رہی شاید ڈیرن سیمی کی ایسی نہ ہوتی ۔
زلمی کے نئے کپتان وہاب ریاض کے فیصلے کچھ زیادہ اچھے نہ تھے .قلندرز کیخلاف آخری میچ میں 15 واں اوور حسن علی سے کروایا. 8 رنز بنے اور سکور ایک وکٹ پر 135تھا. 16واں اوور بریهویٹ کو تھمایا تو 13 رنز بنے .17 واں اوور خود کرانے آئے اور 8 رنز دیئے. 18واں اوور بریهویٹ کو دیا 8 سکور بنے .اب 2 اوور ز میں 24 رنز درکار تھے. نئے بیٹسمین وائس اور پٹیل وکٹ پر موجود تھے .19 واں اوور راحت علی کو دینے والا نہیں تھا. یہ اوور یا تو 10 سے 15 اوور ز کے درمیان نکلوالیا جاتا اور وہاب اپنا یا حسن علی کا اوور بچالیتے اور اگر یہ بھی ہوگیا تھا تو 3 اوور ز میں 26 رنز دینے والے یاسر شاہ یا لیوس گریگوری میں سے کسی ایک کا سامنا نئے بلے بازوں کو مشکل میں ڈال سکتا تھا. ڈیرن سیمی کپتان ہوتے تو یہ ترتیب واقعی نہ ہوتی. قلندرز کے اگلے حریف عماد وسیم اور شان مسعود میں سے مسعود ”ریاضت” جیسی بے نیازی دکھاسکتے ہیں. ویسے ڈیرن سیمی کی پوزیشن کی تبدیلی میں ایسا کچھ توہے جو بالکل فلمی سین کی طرح ہی ہوا ہے.
قلندرز پوائنٹس ٹیبل پر اب تیسری پوزیشن پر آگئے ہیں اور پیش قدمی کم سے کم دوسری پوزیشن تک کریں گے۔ ملتان سلطانز کی شکستیں یا کسی میچ کی بارش قلندرز کو نمبر ون بھی بنا سکتی ہے۔ گویا پلے آف میچ کا ہدف گولڈن میچ ہوگا. زلمی کی شکست کے بعد ٹیبل پر پوزیشن کچھ واضح سی ہوتی ہی جا رہی ہے.پس منظر سے پیش منظر کا دھندلا پن خاصا دورا ہوا ہے. اس وقت ملتان کے 11،زلمی کے 9،قلندرز کے 8،اسلام آباد اور کراچی کے 7،7اور کوئٹہ کے 6 پوائنٹس ہیں . لاہور کے 2میچ باقی ہیں. اگلا میچ 11 مارچ کو کوئٹہ اور ملتان کا ہے .کوئٹہ جیتے تو اس کے کنگز اور یونائیٹڈ سے زیادہ، قلندرز کے برابر 8 پوائنٹس ہوجائیں گے اس کا ایک مقابلہ باقی ہوگا ویسے بدھ کو کو بارش کی پیش گوئی ہے میچ ختم ہوا تو گلیڈی ایٹرز آخری میچ ہوتے ہوئے بھی سیدھے باہر ہوجائیں گے.اگلا میچ 12 مارچ کو لاہور کراچی کا ہوگا. لاہور جیتے تو اس کے 10 اور کراچی کے 7 پوائنٹس رہیں گے .قلندرز فائنل 4 کی ٹکٹ حاصل کرنے والی دوسری ٹیم بن جائیگی۔ اس تصوراتی صورت میں کوئٹہ (فتح کی صورت میں )8 اور کراچی 7 پوائنٹس کے ساتھ مقابلے پر ہونگے.اور اگر کراچی لاہور کی فتوحات پر فل سٹاپ لگاتا ہے تو خاصا ڈرامائی موڑ ہوگا جو قریب ہوتا لگتا ہے .اگر ایسا ہوا تو صورتحال یوں بنے گی .
ملتان .11 پوائنٹس
کراچی .9 پوائنٹس
پشاور 9 پوائنٹس
لاہور. 8 پوائنٹس
کوئٹہ .8 پوائنٹس
اسلام آباد .7 پوائنٹس.
اس حالت میں سب کے دیئے روشن ہونگے.
اگلا میچ ملتان پشاور کا پشاور کیلئے نہایت اہم ہوجائےگا. پشاور کو جیت دوسروں کے نتائج سے بے پروا ہ کردے گی .اس کے 11 پوائنٹس ہوجائیں گے .فرض کریں زلمی یہاں بھی ہارجاتی ہے تو اس کے میچ ختم اور 9پوائنٹس پر فل سٹاپ ہوگا. 14مارچ کا اگلا مقابلە کراچی اور اسلام آباد کا ہوگا اور یہاں سے اصل کھیل شروع ہوگااسلام آباد ہارا تو اسکا ایونٹ تمام.کنگز کے 11پوائنٹس ہوجائیں گے.سیٹ پکی اور اگر اسلام آباد جیتا تو یونائیٹڈ کے 9 یعنی زلمی وکنگزکے برابر پوائنٹس ہوجائیں گے.کشمکش آخری مرحلے میں عروج پر ہوگی. اہم میچ لاہور اور ملتان کا ہوگا قلندرز جیتے تو اس کے 10 پوائنٹس ہونگے سیٹ کنفرم ہوجائے گی ہارے تو ساری امیدیں یہیں خاک ہوجائیں گی .آخری میچ کوئٹہ اور کراچی کا ہوگا. کوئٹہ جیتا تو فائنل 4 منزل ہوگی اور زلمی ،کنگزاور یونائیٹڈ میں سے 2 بہتر نیٹ رن ریٹ والی ٹیموں کو کنفرمیشن ملے گی اگر لاہور بھی جاچکا ہوا تو کوئٹہ کی جیت کے بعد ایک ٹیم ان میں سے آگے آئےگی .کراچی کی فتح سے کوئٹہ باہر. لاہور پہلے ہی باہر ہوا تو محض کراچی کی فتح و کوئٹہ کی شکست زلمی و یونائیٹڈ کو غیبی مدد دیتے ہوئے اپنے ساتھ فائنل 4 میں لے جائے گی.
فیس بک کمینٹ

