عمران عثمانیکھیللکھاری

انگلینڈ کا دورہ سری لنکا،فکسنگ کی آوازیں پھر تازہ ۔۔ عمران عثمانی

انگلینڈ کے گزشتہ دورہ سری لنکا کے موقع پر میزبان ٹیم میچ فکسنگ کی تازہ ترین بازگشت میں شدید دبائو میں تھی۔ 15 ماہ بعد اب آئی لینڈر اگرچہ اس بڑی پریشانی سے نکل آئے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اب بھی سری لنکا میں کرکٹ کرپشن سے پاک ہوچکی ہے؟
2018 کے دورے میں انگلینڈ نے جب سری لنکا کو 3-0 سے ہرایا تھا تو اس وقت سری لنکا میں آئی سی سی کی چھتری تلے فکسنگ و کرپشن کے 22 کیسز چل رہے تھے۔یہ اس کے اثرات ہی تھے کہ آئی لینڈرز اتنی آسانی سے ہارگئے۔
2018 میں انگلینڈ کے سری لنکا پہنچنے سے تھوڑا قبل ہی معروف نشریاتی ادارے الجزیرہ نے میچ فکسرز ڈاکومنٹری چلادی تھی جس میں گالے گرائونڈ کے پچ مین نے وعدہ کیا تھا کہ وہ پہلے ٹیسٹ کیلئے بنائی جانے والی پچ کے بارے میں معلومات بیچ دے گا. اس وقت کے سری لنکن کھیلوں کے وزیر ہیرن فرنینڈو نے آئی سی سی کو بتایا تھا کہ ان کے ملک میں کرکٹ چلانے والے اوپر سے نیچے تک چور اور کرپٹ ہیں. بعد ازاں معروف سری لنکن سیاستدان اور آئی سی سی چیئرمین شپ کے حصول کے عزائم رکھنے والے سماتهی پالا کا نام اس کیس میں آیا اور پھر برسٹل سے ان کے بکی دوست کی گرفتاری و میچ بک چلانے کی تفصیلات ورقم کی بر آمد گی اور سری لنکا میں انکی فیملی کے نام پر چلنے والی بک فرم تک رسائی نے نہ صرف کافی باتیں کھولیں ساتھ ہی اس معاملے کو ختم کرنے میں مدد بھی ملی۔
فکسنگ و کرپشن کے تانے بانے سابق سری لنکن کپتان ،ورلڈ کپ ونر اور اس زمانے میں سری لنکا سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین رہنے والے معروف نام سنته جے سوریا تک بھی گئے .ان کے دور میں آئی لینڈرز ہوم گرائونڈ میں زمبابوے جیسی ٹیم سے سیریز بھی ہارے تھے. آئی سی سی کو بعد ازاں ایسے شواہد ملے کہ جے سوریا 2 سال کےلئے کرکٹ سرگرمیوں سے معطلی و کرکٹرز تک رسائی میں روک دیئے گئے. سابق ٹیسٹ کرکٹر ز و موجود ە کرکٹ آفیشلز نووان زوئیسا اور گونا وردھنے بھی سزا کی لپیٹ میں آگئے. دلچسپ بات یہ ہے کہ جے سوریا نے معطلی کی سزا تسلیم کی جبکہ مذکورہ دونوں کرکٹرز نے اپیل کر رکھی ہے.
سری لنکا میں آئی سی سی نے سب آفسز بھی بنائے مقامی حکومتی اقدامات میں کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں پارلیمنٹ نے 5 سال جیل اور ساڑھے 5 لاکھ ڈالرز جرمانے کی سزائیں بھی منظور کیں لیکن ساتھ ساتھ کچھ اور بھی ہے. کولمبو پولیس نے گزشتہ ماہ ہی سپیشل ٹاسک فورس بنائی ہے. آئ سی سی سے 2 اہم میٹنگ بھی ہوچکی ہیں لیکن دوسری طرف سری لنکن اینٹی کرپشن آفیسر تبدیلی در تبدیلی کی زد میں رہتے ہیں.
ایک ایسے وقت میں جب 2 سالہ تحقیقات ہونے کو ہیں 900 صفحات کی تفصیلی رپورٹ کا انکشاف ہوا ہے جس میں 12 صفحات ناقابل تردید ثبوت سے بھرے ہیں سری لنکا ایک مرتبہ پھر انگلینڈ کی میزبانی کرنے جارہا ہے. انٹر نیشنل کرکٹ کونسل کے اینٹی کرپشن یونٹ نے سری لنکا کرکٹ کی شفافیت کی گواہی دینے سے انکار کردیا ہے. آئی سی سی کے مطابق پلیئرز کی حد تک بہت بہتری ہے لیکن فکسنگ اور کرپشن کی جڑیں گہری ہیں اسلئے سر ی لنکا کرکٹ کی شفافیت اور کلیئرنس کی گواہی ہم دے نہیں سکتے .
سری لنکا کرکٹ آئی سی سی ریڈار پر کڑی نگرانی میں چلے گی لیکن آنے والے دنوں میں بڑے انکشافات کی توقع ہے. انگلش ٹیم 2 ٹیسٹ کی سیریز کیلئے موجود ہے جس کا آغاز 19 مار چ سے ہوگا.

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker