اہم خبریں

اعانت جرم میں سزائے موت کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیلوں کی سماعت

اسلام آباد : فوجی عدالتوں سے درجنوں افراد کو ملنے والی موت کی سزا کو کالعدم قرار دینے کے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاق کی طرف سے دائر کی گئی اپیلوں کی سماعت کے دوران ملزمان کے وکلا نے سپریم کورٹ کو بتایا گیا ہے کہ ’زیادہ تر ملزمان کو صرف اعانت مجرمانہ‘ کی بنا پر موت کی سزا سنائی گئی ہے۔
جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بدھ کے روز وفاق کی طرف سے دائر کی گئی اپیلوں کی سماعت کی تو ان ملزمان کے وکلا نےموقف اختیار کیا کہ ان کے موکلوں کو براہ راست شدت پسندی یا دہشتگردی کے مقدمے میں ملوث ہونے پر گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ سہولت کار یا کسی کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔
ملزمان کے وکلا نے موقف اختیار کیا کہ وفاق کی طرف سے دائر کی گئی اپیلوں میں ملزموں کے اقبالی بیان کے علاوہ اور کوئی شواہد موجود نہیں ہیں اور اقبالی بیان بھی ایسے جو ایک سال سے زیادہ عرصے تک حراست میں رکھنے کے بعد ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے سنہ2018 میں فوجی عدالتوں سے ملنے والی سزا کے خلاف دائر کی گئی اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے71 افراد کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔
سویلین کورٹ میں ابھی تک اعانت کے جرم میں صرف سابق وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کو موت کی سزا سنائی گئی تھی اور یہ جماعت اس کو عدالتی قتل قرار دیتی ہے۔ پاکستان کی عدالتوں میں اس فیصلے کو ریفرنس کے طور پر پیش نہیں کیا جاتا۔
فوجی عدالت سے موت کی سزا پانے والے عرش کے وکیل ذوالفقار بھٹہ کا کہنا تھا کہ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاق کی طرف سے دائر کی گئی اپیل بدنیتی پر مبنی ہے۔اُنھوں نے کہا کہ اس اپیل کے ساتھ صرف پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ لگایا گیا ہے جبکہ فوجی عدالتوں سے ملنے والی سزاؤں کا ریکارڈ اس کے ساتھ نہیں لگایا گیا۔
اُنھوں نے کہا کہ فوجی عدالتوں میں ان ملزمان کو اپنی پسند کا وکیل کرنے کی اجازت نہیں دی گئی جبکہ ان افراد کے ورثا کو میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ ان کے رشتہ داروں کو فلاں مقدمے میں موت کی سزا سنائی گئی ہے۔
ذوالفقار بھٹہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے مختلف مقدمات میں گرفتار ہونے والے زیادہ تر افراد کو سنہ 2016میں گرفتار کیا گیا جبکہ ان کے اقبالی بیان ایک سال کا عرصہ گزرنے کے بعد ریکارڈ کیے گئے۔تین ملزموں کے وکیل انوار الحق کا کہنا تھا کہ آئین کی21 ویں ترمیم کے تحت فوجی عدالتوں کو اختیارات دیے گئے تھے لیکن اس میں ضابطہ فوجداری اور قانون شہادت کے قانون پر اس طرح عمل درآمد نہیں کیا گیا جو کہ قانون سے مطابقت رکھتے ہوں۔
بینچ میں موجود جسٹس منیب اختر نے ملزم کے وکیل سے استفسار کیا کہ فوجی عدالتوں میں ملزمان کے جب اقبالی بیان ریکارڈ کیے گئے تھے تو کیا وہ مجسٹریٹ کی موجودگی میں نہیں لیے گئے جس پر انوار الحق کا کہنا تھا کہ اقبالی بیان کو ریکارڈ کرنے میں تاخیری حربے ان معاملات کو مشکوک بنا دیتے ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ ان کے موکل پر ایک سویلین حاجی محمد کو قتل کرنے کا الزام ہے اور مقتول کے ورثا نے بھی ان کے موکل کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کروایا۔اُنھوں نے کہا کہ ان کے موکل کو اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے ایک ملزم کے بیان پر فوجی عدالت سے موت کی سزا سنائی گئی جبکہ ان کا موکل موقع پر موجود ہی نہیں تھا۔
جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں ان کے موکل کے بارے میں لکھا ہے کہ ان کا تعلق کالعدم تنظیم جماعت الااحرار سے ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ 21ویں آئینی تریم کے تحت فوجی عدالتیں ان سویلین کے خلاف بھی کارروائی کرسکتی ہیں جن کا تعلق کسی کالعدم تنظیم سے ہو۔
متعدد ملزمان کے وکلا کا کہنا تھا کہ ان کے موکلوں نے فوجی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف آرمی چیف کو اپیلیں بھی کیں جو کہ مسترد کردی گئیں۔ان وکلا کا کہنا تھا کہ حکام کی طرف سے ابھی تک فوجی عدالتوں کی طرف سے کیے گئے فیصلوں کی نقول فراہم نہیں کی گئیں۔
ایڈشنل اٹارنی جنرل ساجد الیاس بھٹی نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر کسی ملزم کا وکیل ریکارڈ دیکھنا چاہے تو اس کو ریکارڈ تو دکھایا جاسکتا ہے لیکن فراہم نہیں کیا جاسکتا۔
اُنھوں نے کہا کہ اگر ملزمان کے وکلا12 مارچ تک اپنے دلائل مکمل کرلیے تو وہ بھی اسی روز اپنے دلائل مکمل کرلیں گے۔سماعت کے دوران بینچ کے سربراہ جسٹس مشیر عالم نے بھی عندیہ دیا ہے کہ اگر کل تک سماعت مکمل ہوگئی تو عدالت اس پر فیصلہ محفوظ بھی کرسکتی ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker