اہم خبریں

کورونا وائرس : مکہ اور مدینہ میں کرفیو ، کربلا اور دمشق میں بھی زائرین پر پابندی

لندن : دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ اموات کی تعداد 53 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے۔سپین میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 950 اموات کے بعد ملک میں ہلاکتوں کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس سے پہلے اٹلی میں اموات 10 ہزار سے زیادہ ہو گئی تھیں۔امریکہ میں بیروزگاری کی وجہ سے حکومت کو امداد کے لیے ریکارڈ 66 لاکھ سے زیادہ درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ یہاں بھی اموات کی تعداد چھ ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے۔سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق مکہ اور مدینہ میں 24 گھنٹوں کے کرفیو کا اعلان کیا
عراق کے صوبے کربلا میں حکام نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے زائرین کی مقدس مقامات پر حاضری پر پابندی لگا دی ہے۔عراق کے المرباد ریڈیو کے مطابق کربلا کے گورنر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ معذرت خواہ ہیں لیکن اس برس مقاماتِ مقدسہ پر حاضرین کا استقبال کرنا ممکن نہیں ہو گا۔ان کا کہنا تھا کہ کربلا کے شہریوں اور عراقی عوام کا تحفظ ان کی ترجیح ہے۔خیال رہے کہ کربلا شیعہ مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے اور یہاں دنیا بھر سے ہر برس لاکھوں زائرین آتے ہیں۔
اس سے قبل یکم اپریل کو عراق کی وزارتِ داخلہ نے خبردار کیا تھا کہ ایسے افراد کو حراست میں لے لیا جائے گا جو مذہبی تقریبات میں شریک ہوں گے اور وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ریاست کے اقدامات کی خلاف ورزی کریں گے۔یہ تنبیہ کربلا میں عوام کی جانب سے آٹھ اپریل کو شیعوں کے 12ویں امام کے یومِ ولادت کی تقریبات کے سلسلے میں تیاریوں کے لیے جمع ہونے کی تصاویر سامنے آنے کے بعد جاری کی گئی۔عراق میں دو اپریل تک کووڈ-19 کے مریضوں کی کل تعداد 772 تک پہنچ چکی ہے جبکہ مرنے والوں کی تعداد 54 ہے۔
شام کی حکومت نے اپنے زیرِ انتظام تمام علاقوں میں کرفیو کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ اب قومی ہفتہ وار تعطیل یعنی جمعے اور سنیچر کو کسی کو بھیرات 12 سے صبح 6 بجے تک اپنے اپنے گھروں سے نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
اس کے علاوہ دمشق میں سیدہ زینب کے مزار کو بھی سیل کر دیا گیا ہے۔ یہاں سب سے زیادہ زائرین ایران سے آتے ہیں جو مشرقِ وسطیٰ کا سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔حکومت نے اب تک کووِڈ-19 کے 16 متاثرین اور دو ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے۔دوسری جانب اردن نے بھی24 گھنٹے طویل ملک گیر کرفیوکا اعلان کر دیا ہے۔ ایک وزیر نے کہا کہ اس سے وبائی تحقیقاتی ٹیموں کو متاثرہ علاقوں میں پہنچنے اور متاثرین سے ملنے والے افراد کے ٹیسٹ کرنے میں مدد ملے گی۔اردن میں اب تک 299 متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ پانچ ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔
عراق کے میڈیا کمیشن نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو کام کرنے سے تین ماہ کے لیے روک دیا ہے کیونکہ اس نےاپنی ایک رپورٹ میں ڈاکٹروں کا حوالہ دیا تھا جن کے مطابق کووِڈ-19 کے تصدیق شدہ مریض ہزاروں کی تعداد میں ہیںجبکہ وزارتِ صحت نے صرف 772 کی تصدیق کی ہے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker