کرکٹ آسٹریلیا میں یس مین کلچر کا خوفناک انکشاف ہوا ہے. بال ٹیمپرنگ اور گالم گلوچ کلچرل کی وجہ سے اپنی ساکھ بچانے کی فکر میں ٹیم کو تازہ ترین جھٹکا سینئر بیٹسمین عثمان خواجہ نے دیدیا ہے.کرکٹ ٹیم سے ڈراپ عثمان خواجہ پہلی بار اپنے اخراج کی اصل وجہ بیان کرتے ہوئے پھٹ پڑے.
گزشتہ سال ایشز سیریز کے دوران ٹیم سے نکلنے والے خواجہ کا کیرئیر اس وقت شدید ترین خطرے سے دوچار ہوگیا ہے کیونکہ انہوں نے اپنے ہیڈ کوچ جیسٹن لینگر کے خلاف زبان کھول دی ہے. خواجہ کہتے ہیں کہ لینگر کو یس مین والے لوگ پسند ہیں جو کہ میرے لئے مشکل ہے. انہوں نے انکشاف کیا کہ اپنی ذات کیلئے میں کبھی نہیں بولا مگر ٹیم یا ملک کیلئے جو غلط سمجھا اس پر بولا.
2018 میں پاکستان کیخلاف ٹیسٹ سے قبل پریکٹس سیشن میں ہیڈ کوچ کا رویہ ہمارے ساتھ ایسے تھا جیسے چیونگم سے اترے ریپر کا کیا جاتا ہے. اس پر میں بولا تو ہیڈ کوچ کو پسند نہ آیا .
اسکے ٹھیک 3 ما ە بعد میلبورن کے ٹریننگ کیمپ میں بھی یہی کچھ ہوا. میں نے کپتان ٹم پین سے بات کی انہوں نے بھی ہیڈ کوچ کی توجہ دلوائی اسکے بعد لینگر کا رویہ میرے ساتھ بظاہر درست ہوا اور پھر میں ٹیم سے دور ہوتا گیا.
آسٹریلیا کیلئے ون ڈے اور ٹیسٹ میں 40سے زائد کی اوسط سے اسکور کرنے والے عثمان خواجہ ایک فارمیٹ کا کنٹریکٹ کھوچکے ہیں اور دوسرے کا بھی خطرے میں ہے. کرکٹ آسٹریلیا حکام کا یہ رویہ کہیں نسلی تعصب کا عکاس تو نہیں؟ اس سلسلے میں لینگر کا ٹریک ریکارڈ اگر خراب نہیں ہے تو کچھ حوصلہ افزا بھی نہیں.
فیس بک کمینٹ

