بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان ویرات خود غرضی میں جب لٹے تو ہوش آیا لیکن اس ہوش کے آنے میں کوئی تاخیر نہیں کی بلکہ اپنی سوچ بدل کر صف اول کے کرکٹر بن گئے.
یہ بات کسی ساتھی کرکٹر یا مبصر کی طرف سے سامنے نہیں آئی بلکہ انہوں نے خود ہی اپنے متعلق سچ اگل دیا.سابق انگلش کپتان کیون پیٹرسن کو سوشل میڈیا پر انٹرویو دیتے ہوئے بھارتی کپتان نے خاصی دلچسپ باتیں کیں.کوہلی نے کیون پیٹرسن سے کہا کہ آپ تو بوڑھے لگنے ہو جس پر کے پی نے برجستہ جواب دیا کہ آپکی ہیئر کٹنگ اہلیہ انوشکا کر رہی ہیں تو آپ نے مختلف ہی لگنا ہے.
دونوں میں اپنے اپنے ملک میں کورونا کے جاری اثرات پر بھی بات کی. کوہلی نے انکشاف کیا کہ ان کا نام چیکو ان کے ڈومیسٹک کوچ نے 2007 میں رکھا تھا.
ویجیٹیرین مین کا ٹائٹل کیوں ملا؟
کوہلی نے بتایا کہ 3 سال قبل سے بیرونی دوروں پر ٹیسٹ میچ سے قبل گوشت کھانے سے احتراز کی وجہ سے یہ نام پڑگیا. ویرات کوہلی 2014 کے انگلینڈ کے دورے میں 5 ٹیسٹ میچز میں صرف 134 رنز بنا کر مکمل ناکام رہے تھے. کے پی کے اس ناکامی کے سوال پر بھارتی کپتان نے پہلی بار انکشاف کیا کہ میں اپنی ذات کیلئے سوچ کر کھیل رہا تھا .ہر اننگ میں یہ سوچ کر جاتا کہ میں نے اپنی اننگ کیسے کھیلنی اور اپنا بچائو کیسا کرنا.مسلسل اس سوچ سے ناکامی مقدر بنی ایسا لگا گھر واپسی قریب ہے.اسکے بعد میں نے سوچ و بچار کی اور مشاورت کی تو ایک نکتہ سمجھ آگیا کہ جب آپ ٹیم کی ضرورت اور صورتحال کے مطابق اپنے لیے نہیں بلکہ اپنے ملک کیلئے سوچتے اور کھیلتے ہیں تو سوچ بھی بدل جاتی ہے. اعتماد بھی بحال ہوتا ہے اور فارم بھی لوٹ آتی ہے. اسکے بعد میں تمام فارمیٹ کا نمبر ون بیٹسمین بنا.
ویرات کوہلی نے نئے پلیئرز کو وارننگ دی کہ اگر اپنی ذات کیلئے سوچ کر کھیلوگے تو بہت جلد ٹیم سے باہر ہوجائوگے.
فیس بک کمینٹ
