اسلام آباد : سپریم کورٹ نے وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے خلاف پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی ٹیم سے تعاون نہ کیے جانے پر اٹارنی جنرل سے برہمی کا اظہار کیا ہے۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ واجد ضیا نے جمعرات کو جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے سامنے تیسری رپورٹ پیش کی اور عدالت کو بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ذمہ داران تحقیقاتی ٹیم کے ساتھ تعاون نہیں کر رہے۔ جس پر بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل نے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’مسٹر اٹارنی جنرل ایسے نہیں چلے گا۔‘ بی بی سی کے مطابق سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کو دس جولائی کو حتمی رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔خیال رہے کہ عدالت نے ایف آئی اے کے ایڈشنل ڈائریکٹر جنرل واجد ضیا کی سربراہی میں قائم ہونے والی چھ رکنی ٹیم کو دو ماہ میں اپنا کام مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ آئین کے تحت تمام ادارے سپریم کورٹ کے احکامات کے پابند ہیں۔
ہفتہ, جون 6, 2026
تازہ خبریں:
- خلال سے بھی گئے اور خرام سے بھی گئے : وجاہت مسعود کا کالم
- عرض الدین کی عرضداشت اور شیداں تندور والی : شاہدمجید جعفری کی مزاح نوشت
- پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی عائد
- پاکستان کے ساتھ نرمی ؟ برملا/نصرت جاوید کا کالم
- معیشت کے بارے میں بے بنیاد دعوے : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- عید قرباں اورلائیو سٹاک کا ڈوبتا سرمایہ : برملا / نصرت جاوید کا کالم
- قاتل کی بیوی اور بیٹا پروفیسر محی الدین کے فارم ہاؤس پر ملازم تھے : قتل کے حقائق کیا ہیں ؟ ان کہی / نسیم شاہد کا کالم
- طوفانی بارش اور ژالہ باری : کے پی کے میں چھت گرنے سے 6 بچے ہلاک
- علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین ’ذوالحج کے آخر یا محرم کی ابتدا‘ میں ہوگی: ایرانی عہدیدار
- دہشت گردی کے خاتمے میں علماء کرام کا کردار بہت اہم ہے : پروفیسر ڈاکٹر طحہ قریشی

