شاکر حسین شاکرکالملکھاری

مشتاق احمد یوسفی کی تحریریں ان کے بچے کیوں نہیں پڑھتے تھے ؟ (2) کہتا ہوں سچ / شاکر حسین شاکر

مشتاق احمد یوسفی کو پڑھتے تو ایک عرصہ ہو گیا تھا دل میں خواہش تھی کہ ان سے ملاقات بھی ہو۔ 1990ءکا زمانہ تھا کہ ہمیں اُس وقت کے ملتان آرٹس کونسل کے ڈائریکٹر محمد علی واسطی نے پیغام دیا کہ کل دوپہر کو مشتاق احمد یوسفی صاحب سرکٹ ہاؤ س ملتان میں تشریف لا رہے ہیں۔ اگر ملاقات کرنی ہے تو 4 بجے تشریف لے آئیے۔ محمد علی واسطی نے یہی پیغام رضی الدین رضی کو دیا۔ ہم دونوں اگلے دن پونے چار بجے سرکٹ ہاؤس میں موجود تھے۔ سرکٹ ہاؤ س کے ہال میں اس وقت نامور صحافی خان رضوانی مرحوم اور نامور ادیبہ محترمہ بشریٰ رحمان سے گپ شپ کر رہے تھے۔ ان دونوں کو دیکھ کر ہمیں یہ خوشی ہوئی کہ مشتاق احمد یوسفی سے ہمارا تعارف اچھے طریقے سے کروا دیں گے۔ ہماری توقع سے کہیں زیادہ خان رضوانی اور بشریٰ رحمن نے تعریف کر کے مشتاق احمد یوسفی سے ملوایا۔ تو انہوں نے اک شانِ بے نیازی سے ہمیں دیکھا اور پھر وہ بشریٰ رحمن سے ہم کلام ہو گئے۔ بشریٰ رحمن ان کو اپنے سیاست میں آنے کے واقعات سنا رہی تھیں۔ اور بتانے لگیں کہ یوسفی صاحب 1988ءکے زمانے میں مَیں مسلم لیگ کی انتخابی مہم چلانے کے لیے لاہور کے شاہی محلے چلی گئی۔ لوگوں سے ملتے ملاتے نمازِ مغرب کا وقت ہو گیا اور پھر مَیں نے شاہی محلے کے ایک کمرے میں ایک پان کھاتی بزرگ عورت سے کہا مجھے جائے نماز چاہیے۔ وہ عورت اٹھی اور اندر سے جا کر ایک میلی کچیلی جائے نماز لے آئی۔ مَیں نے نماز کی نیت باندھی اور نماز شروع کر دی۔ بشریٰ رحمن یہ واقعہ سناتے ہوئے یوسفی صاحب کو مخاطب ہوئیں کہ مَیں نماز پڑھتے ہوئے یہ سوچ رہی تھی کہ واہ بشریٰ رحمن لوگ شاہی محلے میں کس کام کے لیے آتے ہیں اور تو کس کام کے لیے آئی ہوئی ہے۔ جیسے ہی بشریٰ رحمن نے یہ جملہ مکمل کیا تو انہوں نے داد طلب نگاہوں سے مشتاق احمد یوسفی کی طرف دیکھا۔ تو انہوں نے اپنے مخصوص سنجیدہ اندازمیں کہا:
”بی بی بشریٰ یہ آپ ہیں کہ ہم نے اعتبار کر لیا کوئی اور ہوتا……..“
اُن کے اس جملے کے بعد محفل میں زوردار قہقہہ گونجا اور پھر مَیں نے اور رضی نے اُن سے انٹرویو کی درخواست کی۔ پہلے وہ انکار کرتے رہے پھر انہوں نے بشریٰ رحمن کے کہنے پر ہم سے گفتگو شروع کر دی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ابھی ان کی چوتھی کتاب ”آبِ گم“ شائع نہیں ہوئی تھی اور اس کتاب کا بڑی شدت سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ جب ان سے چوتھی کتاب کا پوچھا تو انہوں نے اپنا وہی مشہورِ زمانہ جملہ ہمارے سامنے دہرا دیا وہ کتاب مَیں نے پال میں لگا رکھی ہے۔ آبِ گم اگرچہ 1990ءکے آخر میں منظرِ عام پر آ گئی تھی لیکن زرگزشت اور اس کے درمیان 14 سال کا وقفہ تھا اور یہ وقفہ ان کی سابقہ کتابوں کی اشاعت سے کہیں زیادہ تھا کہ چراغ تلے 1961ء ، خاکم بدہن 1970ءجبکہ زرگزشت 1976ءمیں شائع ہوئی۔ البتہ آخری کتاب شامِ شعرِ یاراں 2014ءمیں منظرِ عام پر آئی لیکن اس کتاب کے بارے میں پچھلی قسط میں آپ کو بتا چکے ہیں کہ اس میں اصلی والے مشتاق احمد یوسفی دکھائی نہیں دیتے کہ انہوں نے ان تحریروں کو پال میں نہیں لگایا۔
اس نشست میں وہ آہستہ آہستہ اپنے حالاتِ زندگی بتاتے رہے اور کہیں کہیں وہ کھل کر اپنے ہم عصروں کے بارے اظہارِ خیال کرتے رہے۔ اس نشست میں انہوں نے اپنی روایت سے ہٹ کر بہت سی ایسی باتیں کیں جو شاید انہوں نے کبھی کسی سے نہیں کی ہوں گی۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم اُس نشست سے اُٹھ کر گھر کی طرف روانہ ہوئے تو مجھے اور رضی کو یوں لگ رہا تھا کہ جیسے ہمارے پاس ایسا خزانہ ہاتھ لگ چکا ہے جو بہت بیش قیمت ہے۔ ان کا انٹرویو ہم نے ٹیپ ریکارڈر میں محفوظ کیا اور اگلے ہی ہفتے اسے شائع کرنے کے لیے روزنامہ نوائے وقت ملتان کے ادبی صفحے میں بھجوا دیا۔ جس دن ہمارا وہ انٹرویو شائع ہوا اسی دن خان رضوانی صاحب نے ہم سے رابطہ کیا اور کہا کہ یوسفی صاحب کا پیغام ہے وہ جو دو نوجوان میرا انٹرویو کر کے گئے ہیں ان سے کہیں کہ وہ انٹرویو کسی جگہ پر بھی شائع نہ کروائیں اور اگر شائع ہو بھی گیا تو مَیں اس کے متن سے متفق ہونے سے انکار کر دوں گا۔ خان رضوانی صاحب سے یہ سنتے ہی ہم نے کہا کہ وہ انٹرویو تو آج نوائے وقت میں شائع ہوگیا ہے جس پر انہوں نے افسوس کا اظہار کیا اور کہنے لگے کہ اب مَیں اُن کو کیا کہوں کہ رضی اور شاکر نے میری بات نہیں مانی۔ ہم نے خان رضوانی صاحب سے عرض کیا آپ انہیں بتا دیں جب تک آپ کا پیغام ملا تب تک وہ انٹرویو شائع ہو چکا تھا۔ اس انٹرویو کی اشاعت کے بعد مَیں نے کئی مرتبہ ان کو کراچی فون کیا لیکن جب مَیں ان کو اپنا نام بتاتا تو وہ یہ کہہ کے اپنا فون بند کر دیتے کہ مشتاق احمد یوسفی یہ گھر چھوڑ کے جا چکے ہیں۔
ان سب باتوں کے باوجود ایک بات ہم اپنے پڑھنے والوں سے شیئر کرنا چاہتے ہیں کہ اُن کے دو بیٹے ارشد یوسفی اور سروش یوسفی انجینئر ہیں جبکہ دونوں بیٹیاں رخسانہ اور سیما ڈاکٹرز ہیں۔ لیکن افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ ان کے چاروں بچوں میں سے کوئی بھی اپنے والد پر نہیں گیا کہ ان کی پوری اولاد کا ذریعہ تعلیم انگریزی میں رہا اور یہ بات بھی یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ شاید انہوں نے کبھی اپنے والدِ محترم کی کوئی تحریر پڑھی ہو۔ یعنی مشتاق احمد یوسفی کی جن تحریروں نے کئی نسلوں کو برگ بار کیا اس سے اُن کی اولاد محروم رہی۔ یہی وجہ ہے کہ جب انہیں حکومتِ پاکستان کی طرف سے ’کمالِ فن‘ ایوارڈ سے ملنے والے لاکھوں روپے ملے وہ خطیر رقم انہوں نے ایدھی ٹرسٹ اور شوکت خانم میموریل ٹرسٹ ہسپتال کو دے دی۔ (جاری ہے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker