ادبسرائیکی وسیبلکھاری

بزرگ شاعر زاہد حسین سالک کو سپردخاک کردیاگیا

ملتان:بزرگ شاعر سید زاہد حسین سالک کو ہفتے کے روز ملتان میں سپردخاک کردیاگیا۔وہ طویل علالت کے بعد13جولائی کو88سال کی عمر میں ملتان میں انتقال کرگئے تھے۔ زاہد حسین سالک 1930ءمیں پانی پت میں پیداہوئے۔انہوں نے حالی مسلم ہائی سکول پانی پت سے 1946ءمیں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔زاہد حسین سالک نے زمانہ طالب علمی میں ہی شاعری شروع کردی تھی۔دوران ملازمت انہوں نے منشی فاضل اور ایف اے امتحان پاس کیے۔1952ءمیں وہ مستقل طورپر ملتان آگئے ۔زاہد حسین سالک نے1964ءمیں بی اے کیا اور 1966ءمیں گورنمنٹ کالج ملتان سے ایم اے اردو کی ڈگری حاصل کی۔وہ ایمپرومنٹ ٹرسٹ میں ملازم رہے۔انہوں نے شاعری میں حکیم گلچی کرنالی اور عاصی کرنالی سے اصلاح لی۔وہ غزل کے علاوہ آزاد نظم اور سانیٹ بھی کہتے تھے۔1950سے1970ءکے عشرے تک انہوں نے ملتان میں بہت متحرک ادبی زندگی گزاری۔ان کاکوئی شعری مجموعہ شائع نہیں ہوا۔تاہم ان کی غزلیں مختلف اخبارات و رسائل اورشاعری کے تذکروں میں شامل ہیں۔ان کی نماز جنازہ میں ادیبوں،شاعروںاور دانشوروں کی کثیرتعدادنے شرکت کی۔ملتان کی مختلف ادبی تنظیموں نے ان کی وفات پر گہرے دکھ اورصدمے کا اظہارکیا ہے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker