2018 انتخاباتاہم خبریں

خلفائے راشدین جیسا نظام حکومت : وزیر اعظم ہاؤس میں نہیں رہوں گا : عمران خان

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ موجودہ الیکشن کمیشن مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے بنایا تھا، اب ان ہی جماعتوں کو الیکشن کمیشن پر اعتراض ہے جبکہ نگراں حکومت بھی تمام سیاسی جماعتوں نے مشاورت کے ساتھ بنائی گئی تھی۔بنی گالہ میں اپنی رہائش گاہ پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ دھاندلی کی شکایات کرنے والی جماعتیں جس حلقے کو کہیں گی وہی حلقے کھولے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ اللہ نے انہیں موقع فراہم کیا ہے وہ اپنے خواب کو پورا کر سکیں، پہلا مرحلہ مکمل ہوچکا ہے تاہم اب دوسرے مرحلے میں اپنے منشور پر عمل درآمد کریں گے۔پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ میں نے خود اس ملک کو ترقی کرتا اور نیچے آتے دیکھا، لہٰذا میں چاہتا تھا کہ پاکستان ایسا ملک بنے جیسا قائد اعظم محمد علی جناح نے سوچا تھا۔تحریک انصاف کے سربراہ نے انتخابی مہم کے دوران دہشت گرد حملوں میں مارے جانے والے انتخابی امیدواروں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام نے جمہوریت کو مضبوط کیا، تاہم میں کامیاب الیکشن کے انعقاد پر سیکیورٹی فورسز کو بھی داد دینا چاہتا ہوں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ میں خلفائے راشدین کے وقت جیسا نظامِ حکومت چاہتا ہوں۔سربراہ تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ اب ملک میں ایک ایسی حکومت آئے گی جس میں کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت اداروں کو مضبوط کرے گی، اور تمام لوگوں کے لیے مساوی قانون بنایا جائے گا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ صرف اپوزیشن جماعتوں کے اراکین کا احتساب نہیں ہوگا، بلکہ تحریک انصاف اپنے لوگوں کا بھی احتساب کرکے مثال قائم کرے گی۔عمران خان کا کہنا تھا کہ مدینہ کی ریاست پہلی فلاحی ریاست تھی، جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اصول قائم کیے تھے، ہماری کوشش ہوگی کہ پاکستان کو بھی انہی اصولوں پر لے کر آئیں۔تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ مجھے شرم آئے گی کہ میرے عوام خط غربت سے نیچے زندگی گزاریں اور میں وزیرِاعظم ہاؤس میں رہوں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہاؤس کو تجارتی مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا جس کی مدد سے پیسہ بنایا جائے گا اور مقامی عوام پر خرچ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ میں وہ پاکستانی ہوں جس نے کرکٹ کے لیے سب سے زیادہ ہندوستان کا دورہ کیا ہے اور وہاں کے لوگوں سے میری سب سے زیادہ واقفیت ہے۔عمران خان نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات بہتر ہونے چاہئیں اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو بھی فروغ ملنا چاہیے۔اپنے خطاب کے اختتام میں عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام ملک میں ایک مختلف قسم کی حکومت دیکھیں گے، انہوں نے کہا کہ میں ملک کے تمام طبقوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔الیکشن میں دھاندلی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے بنوایا تھا، اب انہی جماعتوں کو الیکشن کمیشن پر اعتراض ہے۔انہوں نے کہا کہ دھاندلی کی شکایات کرنے والی جماعتیں جس حلقے کو کہیں گی وہی حلقے کھولے جائیں گے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker