معاصر وبائی صورتِ حال کی گمبھیرتا نے کچھ زیادہ ہی اداس کردیا ہے۔ وبا سے زیادہ اس کے اثرات سے پیدا ہونے والے سماج کے نقشے نے دلوں پر پریشانی کے بھالے زیادہ چلائے ہیں۔لیکن یہ صورت ِ حال کچھ اتنی نئی بھی نہیں ہے۔
میر نے بیرونی حملہ آوروں کے بعد جو شہر کا نقشہ کھینچا ہے۔ 1857 کے قتلِ عام کے بعد غالب نے جس ویرانی کو بیان کیا ہے۔ 1918 کی وبا کے دوران کے حالات کو اقبال نے کچھ خطوط میں جیسے بیان کیا ہے یا تقسیمِ ہند کے وقت جوقتلِ عام ہوا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خوف اور اداسی کے یہ حملے ایک زمانی وقفے کے بعد ہمیں مسلسل پریشان کرتے رہے ہیں۔
زمانۂ قریب میں دہشت گرد تنظیموں نے وطنِ عزیز کے باشندوں کو جس ذہنی کرب میں مبتلا کیا ، یہ ابتلا بھی کسی وبا سے کم نہیں تھی۔
سلیم شہزاد کا ناول ” گھان ” دہشت گردی کے انہی حالات کے تناظر میں ایک خاص ٹکنیک میں تخلیق کیا گیا ہے۔ ناول نگار نے خارجی حالات کی تمثال کے ساتھ ساتھ خوف اور سراسیمگی سے پیدا شدہ انسانی کیفیات کی تصویر کشی بہت عمدگی سے کی ہے اور اس کے لیے بعض علامتوں کا کامیاب استعمال کیا ہے۔ انہی علامات میں ایک علامت ایسی پراسرار وبا کی بھی جس نے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ لوگوں نے چہرے پہ ماسک چڑھا رکھے ہیں۔ انھیں ایک ساتھ نہ بیٹھنے اور باہمی فاصلہ رکھنے کی تاکید کی جارہی ہے۔ گھروں میں رہنے اور بلاوجہ باہر نہ نکلنے کا پیغام دیا جارہا ہے۔ انھیں یہ باور کرایا جارہا ہے کہ زندگی کی حفاظت کرنے کے لیے مذکورہ ہدایات پہ عمل کرنا بہت ضروری ہے۔
سلیم شہزاد کا یہ ناول 2012 میں شائع ہوا۔ ناول کے صفحات پہ وبا کی صورت حال اور اس کے تدارک یا بچاؤ کے لیے دی گئی ہدایات اس سارے نقشے کا آئینہ ہے جو معاصر کرونا وائرس سے تشکیل پایا ہے۔
وطنِ عزیز کے باشندوں کو دہشت گردی کی جس فضا کا سامنا تھا ، اس کو عالمی طاقتوں نے فروغ دیا لیکن جب اسلحے کا رخ خود ان کی طرف ہوا تو امن کے بیانیے کو فروغ دیا گیا مگر فروغ و اشاعت کی اس فکر تک آتے آتے ایک عام آدمی عجیب خوف ناک بلاؤں کا سامنا کرچکا تھا اور ایسی سراسیمگی اس کی رگ و پے میں سرایت کرچکی تھی ، جس کا نقشہ سلیم شہزاد نے اپنے ناول میں کھینچا ہے اور آج عملی طور پر ہم اس کا سامنا کررہے ہیں۔
معاصر وبائی صورتحال کے بارے ایک بیانیہ یہ بھی موجود ہے کہ یہ مصنوعی ہے۔ ممکن ہے یہ درست ہو اور امکان ہے کہ یہ غلط ہو لیکن اس سے پیدا شدہ خوف ایک بھیانک سچ ہے اور اس سے کہیں زیادہ تلخ سچ یہ ہے کہ بنی نوع انسان بہت عرصے تک اس خوف سے نکل نہیں پائے گی اور ایک دوسرے کے وجود کو اپنی بقا کے لیے خطرہ خیال کرتی رہے گی۔ بہ قول غالب:
پانی سے سگ گزیدہ ڈرے جس طرح اسد
ڈرتا ہوں آدمی سے کہ مردم گزیدہ ہوں
فیس بک کمینٹ

