کالملکھارینصرت جاوید

’’شہ رگ ‘‘ کے بارے میں بے اعتنائی ۔۔ نصرت جاوید

ہماری سیاست میں تکرار ہے۔ الزامات کی بوچھاڑ ہے۔تہمت طرازی کا غل غپاڑہ ہے۔پاکستان کے حقیقی مسائل کی نشاند ہی تک نہیں ہوپارہی۔انہیں حل کرنے کی تخلیقی راہیں تلاش کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔اندھی نفرت وعقیدت میں ہم کنوئیں کے مینڈکوں میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ہمارے خطے میں جو ہورہا ہے اس پر سرسری نگاہ ڈالنے کی فرصت کسی کے پاس نہیں ہے۔پیر کے روز بھارت کی پارلیمان میں اس ملک کی شہریت کے بارے میں نئی قانون سازی ہوئی ہے۔نظربظاہر یہ بھارتیوں کی باقاعدہ ’’شناخت‘‘ کا معاملہ ہے اور اسے قواعد وضوابط کے مطابق ریکارڈ کا حصہ بنانا ہے۔ اصل مقصد اس نئے قانون کا مگر بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں میں آباد ہوئے بنگلہ دیش اور برما سے آئے مسلمانوں کو شہریت سے محروم کرکے بھارتی سرحدوں سے باہر دھکیلنا ہے۔حتمی مقصد یہ بھی ہے کہ بھارتی مسلمان خود کو ’’اقلیت‘‘ مانتے ہوئے دوسرے درجے کے شہری ہونے کی تیاری شروع کردیں۔بھارت کی اصل پہچان اب ایک ’’ہندوریاست‘‘کے طورپر ہو۔نہایت مکاری سے مگر اس حقیقت کو کھل کر بیان نہیں کیا جارہا۔ مذکورہ قانون کے بارے میں بھارتی لوک سبھا میں تقاریر ہوئیں۔بے پناہ مصروفیت کے باوجود میں نے انہیں انٹرنیٹ کے استعمال سے ڈھونڈا اور حیران وپریشان ہوگیا۔زیادہ تر تقاریر میں اصل پیغام یہ دیا گیا ہے کہ 1947میں برصغیر پاک وہند میں صدیوں سے آباد مسلمانوں نے دوقومی نظریہ کی بنیاد پر ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ حاصل کرلیا تھا۔بھارتی مسلمانوں کو وہاں جاکر آباد ہونا چاہیے تھا۔وہ اگر اب بھی بھارت میں رہنے پر بضد ہیں تو ’’ہندوتوا‘‘ کی بالادستی تسلیم کرنا ہوگی۔ہندواکثریتی بھارت میں قوانین تمام شہریوں کے لئے یکساں ہوں گے۔بھارتی مسلمانوں کو شادی،طلاق یا جائیداد کی وراثت کے لئے اپنے لئے ’’جداگانہ‘‘ قوانین بنانے کا ’’حق‘‘ نہیں دیاجاسکتا۔نئے قانون کی حمایت میں بھارتی وزیر داخلہ امیت شا نے جو تقریر کی ہے وہ بہت غور کی طلب گار ہے۔اس قانون میں بنگلہ دیش،افغانستان اور پاکستان میں خود کو مبینہ طورپر’’غیر محفوظ‘‘ شمار کرتی اقلیتوں کو حق دیا گیا ہے کہ وہ بھارت آکر اس ملک کی شہریت حاصل کرسکتے ہیں۔پارلیمان میں تقریر کرتے ہوئے کئی بھارتی قانون سازوں نے پاکستانی مسلمانوں کے ایک نسبتاََ بڑے مسلک سے تعلق رکھنے والوں کو بھی ’’غیر محفوظ اقلیت‘‘ ٹھہرانے کی کوشش کی۔ایک اور گروہ کا تذکرہ بھی ہوا جسے 1974میں غیر مسلم قراردیا گیا۔امیت شا نے مگر انہیں ’’غیر محفوظ‘‘ تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔پاکستان میں موجود ہندو،سکھوں یا مسیحی شہریوں پر اپنی توجہ مرکوز رکھی۔میرے لئے چونکادینے والا لمحہ مگر وہ مقام تھا جہاں بھارتی وزیر داخلہ نے افغانستان کو بھارت کا ’’ہمسایہ‘‘ ملک قراردیا۔اپوزیشن کے چند اراکین نے جب اس کے دعویٰ پر حیرت کا اظہار کیا تو امیت شا نے بہت حقارت سے بھارت کے ’’سرکاری‘‘ نقشے پر توجہ دلائی۔ اس نقشے میں آزاد کشمیر اور گلگت وبلتستان بھارت کا ’’باقاعدہ حصہ‘‘ دکھائے گئے ہیں۔امیت شا کے دعویٰ کو مزید تقویت پہنچانے کے لئے بھارت کے ایک نامور صحافی شیکھرگپتا نے جو Cut the Clutterکے عنوان سے ایک مقبول یوٹیوب پروگرام بھی کرتا ہے تفصیلی گفتگو کی۔امیت شا کے دعویٰ پر سوال اٹھانے والے بھارتی اراکین پارلیمان کی ’’جہالت‘‘ پراس پروگرام میں مذاق اُڑایا۔ نقشوں کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے انہیں یاد دلایا کہ بھارتی نقشے میں دکھایا گلگت وبلتستان واخان کی پٹی سے بھی جڑتا ہے۔واخان کوریڈور کے ایک جانب تاجکستان ہے اور دوسری طرف افغانستان کا بدخشاں۔ گلگت بلتستان بقول شیکھر گپتا چونکہ بھارت کا ’’حصہ‘‘ ہیں لہذا بھارت اور افغانستان ایک دوسرے کے ’’ہمسایے‘‘ ہوگئے۔ یہ ’’لیکچر‘‘ دیتے ہوئے شیکھر گپتا نے طنزیہ انداز میں اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ بھارتی اراکین پارلیمان کا ’’جغرافیہ‘‘ کافی کمزور ہے۔وہ نقشوں کو غور سے نہیں دیکھتے۔ ان کے ذریعے بیان ہوئی ’’حقیقتوں‘‘ کے بارے میں بے خبر ہیں۔شیکھر گپتا نے جس جارحانہ اور بظاہر مدلل انداز میں امیت شا کے دعوے کی ترجمانی کی اس نے مجھے ایک بار پھر 5اگست 2019کا دن یاد کرنے کو مجبور کردیا۔اس روز مودی سرکار نے ماضی کی ریاستِ جموں وکشمیر کی ’’جداگانہ‘‘ تاریخی اور جغرافیائی شناخت ختم کرتے ہوئے اسے دوحصوں میں بانٹ دیا۔لداخ اب جموں وکشمیر کا حصہ نہیں رہا۔ نئی دہلی کی براہِ راست نگرانی میں آئی Union Territoryہوچکا ہے۔لداخ چین کا ہمسایہ ہے۔ساتھ ہی اس کی سرحد ہمارے گلگت بلتستان سے بھی ملتی ہے۔ امیت شا کی پیر کے روز بھارت کی لوک سبھا میں ہوئی تقریر سے واضح پیغام مل گیا کہ مودی سرکار محض اپنے قبضے میں موجود لداخ ہی کو باقاعدہ انداز میں ہڑپ نہیں کرنا چاہ رہی۔ ارادے یہ بھی ہیں کہ اس سے آگے بڑھ کر واخان کوریڈور تک پہنچا جائے تاکہ بھارت افغانستان کا ٹھوس جغرافیائی حوالوں سے باقاعدہ ’’ہمسایہ‘‘ نظر آنا شروع ہوجائے۔
5اگست 2019کے بعد مگر ہم لداخ تو کیا وادیٔ کشمیر کے تلخ حقائق کے بارے میں بھی قطعی بے خبر نظر آرہے ہیں۔’’شہ رگ‘‘ کے بارے میں ایسی بے اعتنائی کی مجھے ہرگز امید نہیں تھی۔ بدنصیب ہوں کہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں ایسی بے رُخی دیکھ رہا ہوں۔مقبوضہ وادیٔ کشمیر کے 80لاکھ مسلمانوں پر 5اگست 2019سے جو نیا عذاب نازل ہوا ہے اس کے بارے میں برتی اجتماعی بے رُخی کے ہوتے ہوئے لداخ پر غور کرنے کی گنجائش ہی باقی نہیں رہی۔ ٹھوس حقائق سے قطعی بے خبر محض بھارت کی خارجہ پالیسی کے بارے میں کئی برسوں تک رپورٹنگ کی بدولت مجھے گماں تھا کہ لداخ کو جموں وکشمیر سے جدا کرکے بھارت درحقیقت چین کو امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اشتعال دلانے کی کوشش کررہا ہے۔چین ہی کی بدولت اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل ایک بند اجلاس میں5اگست 2019کو لئے اقدامات پر غور کرنے کو مجبور ہوئی۔اس کے بعد مگر چینی صدر اور بھارتی وزیر اعظم کے درمیان ایک ’’غیر رسمی‘‘ ملاقات بھی ہوگئی۔چند باخبر غیر ملکی صحافیوں کی مدد سے مجھ تک یہ اطلاع آئی کہ چینی صدر سے ’’غیر رسمی‘‘ گفتگو کے دوران نریندرمودی اپنے مہمان کو یہ سمجھانے میں مصروف رہا کہ لداخ کو نئی دہلی کے تحت چلائی Union Territoryبنانے کے بعد اس کی حکومت کے لئے اب آسان ہوگیا ہے کہ ’’چند گزاِدھراور چند گزاُدھر‘‘ والے لین دین کے بعد بھارت وچین کے درمیان 1960سے جاری سرحدی تنازعے کا ’’حتمی حل‘‘ ڈھونڈلے۔میرے وہم وگماں میں بھی نہیں تھا کہ لداخ کو جموں وکشمیر سے جدا کرتے ہوئے مودی سرکار درحقیقت واخان کی پٹی پر نگاہ کھے ہوئے ہے۔اس کی بدولت خود کو افغانستان کا ’’ہمسایہ‘‘ ثابت کرنے کو بے چین ہے۔مجھے ہرگز خبر نہیں کہ وزیر اعظم عمران خان صاحب کو بھارتی شہریت کے حوالے سے پاس ہوئے نئے قانون کے بارے میں کس نوعیت کی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ہماری ٹی وی سکرینوں پر ’’دفاعی ماہرین‘‘ کا ایک گروہ البتہ مستقلاََ قومی سکیورٹی کے معاملات کے بارے میں ہماری رہ نمائی فرمانے میں مصروف رہتا ہے۔امید ہی کرسکتا ہوںکہ وہ امیت شا کے تازہ ترین دعویٰ کو ذہن میں رکھتے ہوئے لداخ کے حوالے سے مودی سرکار کے ذہن میں موجود منصوبوں کے بارے میں ہماری حکومت وعوام کو خبردار کریں گے۔زلمے خلیل زاد ایک بار پھر افغان مسئلہ کے حل کے لئے طالبان سے مذاکرات کا آغاز کرچکا ہے۔ہمارے بھرپور تعاون کے بغیر ٹرمپ افغانستان سے اپنی ترجیح کے مطابق امریکی افواج کو ’’باعزت‘‘ طورپر واپس نہیں بلاسکتا۔ زلمے خلیل زاد سے تعاون کرتے ہوئے ہمیں واشنگٹن سے ٹھوس یقین دہانی حاصل کرنا ہوگی کہ افغانستان سے نکل جانے کے بعد امریکہ بھارت کو افغانستان کا ’’ہمسایہ‘‘ بنانے والے منصوبے کی سرپرستی نہیں کرے گا۔ہمارے گلگت بلتستان کو گھناؤنی سازشوں کے ذریعے میدان جنگ میں تبدیل کرنے کی کوشش نہیں ہوگی۔

( بشکریہ : روزنامہ نوائے وقت )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker