گزشتہ ہفتے نیو شالیمارکالونی اپنے ماموں کے گھر جانے کا اتفاق ہوا۔تو ایسے ہی لاؤ نج میں چہل قدمی کرتے میری نگاہ کھڑکی میں رکھی کتابوں کے ڈھیر پہ پڑی اور میں نے اپنا رخ ادھر کر لیا۔سب سے اوپر جو کتاب تھی وہ تھی "پورا حلوا آدھی پوری” بہت حیران ہو گئی نام پڑھ کے۔ اس کی جلدی جلدی ورق گردانی کی اور پھر مجھے اس وقت یہ احساس ہوا کہ میں ماموں ملنے کے لیے آئی ہوں جب ماموں کی آواز آئی کہ آپ یہ کتاب گھر بھی لے جا سکتی ہیں شرط ہے کہ واپسی ہو کیونکہ یہ کتابیں چند دنوں میں اسلام آ باد جانی ہیں کسی کی امانت ہیں ۔خیر ہمیشہ کتاب پڑھنے والا اچھی کتاب کی تلاش میں رہتا ہے۔میں نے جلدی اس لیے بھی کی کہ شاکر بھائی کی نو کتابوں میں سے یہ پہلی کتاب میرے ہاتھ لگی تھی اور میں شاکر بھائی کی شخصیت کے بہت سے حوالوں سے واقف تھی مگر تحریری اسلوب سے صرف کبھی کبھار کہتا ہوں سچ کالم اخبار میں نظر سے گزرتے تھے۔آج تحریروں کے ادبی سیاسی ثقافتی ذائقے چکھنے کا موقع کیسے جانے دیتی۔ماموں کی اجازت کے بعد ایک لمبا سانس لیا اور کتاب بیگ میں رکھ لی۔جتنا پڑھ چکی تھی اس کے بعد دل تھا کہ جلدی گھر جاؤ ں اور اسے مکمل کروں۔رات دس بجے سونے والی خاتون نے صبح فجر پڑھ کے کتاب کو رکھا مزہ آ یا اس لیے کہ کتاب نے بہت اثر چھوڑا بہت کچھ آشکارہ ہوا اور ان مضامین کے ٹائٹل پھر ان کے مفہوم اور مزاح کا انوکھا انداز بیاں یہ سب چیزوں نے مجھے ہلنے نہ دیا۔اب آئیں انتساب کی جانب۔واہ رے کھلا کھلم اظہار دوستی۔(او بھائیو ایسا مت کریو نظر لگ جاتی ہے)رضی بھای کے نام کتاب کر دی۔بہت حیرت ہوئی ببانگ دہل یہ بات سچ ہے کہ یہ یک قالب ہیں جیسا اس کتاب میں تحریر بھی ہے۔اللہ ان دوستوں کی جوڑی سلامت رکھے ۔احمد فراز کا یہ جملہ کہ میں شاکر کے نئے کالم کا انتظار کرتا ہوں۔ایک بہت بڑی سند ہے ادب شناسی کی۔اسی طرح مستنصر حسین تارڑ۔امجد اسلام امجد ۔اصغر ندیم سید کا اس کتاب پہ لکھنا اس بات کی گواہی ہے "کہ کہتا ہوں سچ”اور رضی بھائی کا کڑوا سچ اس کتاب کو مزید نکھار گیا۔کتنی سادگی سے رضی بھائی نے اپنی نہ ملنے والی عادتیں بے ہنگم مزاج اور نشیلی آنکھوں والے لڑکے کے بنا خود کو ادھورا کہنا پھر چوبیس سال کی رفاقت کی کھٹنائیاں یہی تو دوستی ہے اگر میرا یہ شعر یہاں سج جائے تو کیا ہی بات ہے۔یہ اس لیے کہہ رہی ہوں کہ رضی بھائی کا مضمون کہہ رہا ہے۔
تیرے بغیر مجھ کو بھلا اوڑھتا بھی کون
میں تیرا جسم تھا اور تو میرا لباس تھا
اور واقعی محبت دوستی کا اختتامیہ کبھی نہیں ہوتا۔جب کالم پڑھنے لگی تو یقین جانیے مجھے یہ ادراک ہوا کہ کیا یہ سب حقیقت ہے کہانی ہے یا زمانے کا کوئی پر تو ہے۔ہاں ایسا ہی ان سیاسی ادبی ثقافتی کالموں کے اندر تھا۔مردم شماری ہو یا خدمت کمیٹیاں۔سیاست دانوں کی عید ہو یا پروفیسر غلام رسول کی پیش گوئیاں۔جب قربانی کے بکروں کا تعارف پہ پہنچی تو اس مزاح نے مجھے دوہرا کر دیا کیا لطیف انداز بیاں ہے۔بکرے کا تعارف۔عوامی بکرا۔سرکاری بکرا۔شریف بکرا۔گونگا بکرا۔اسی طرح چائنہ مارکہ بکرا اور سنیے پریشان بکرا۔پھر دیکھیے”کنے کنے جانا اے مسلم لیگ دے گھر”دیگر مضامین میں شادی خانہ آبادی۔کھلے خط بھی ہیں۔اغوا کے کھیل کا بھی تذکرہ ہے۔بلدیاتی نظام ہو یاامید واروں کا تعارف خواجہ سرا کی بات ہو یا پھرسپیکر اسمبلی ہو سب کا ذ کر کرنا شاکر بھائی نے ضروری سمجھا۔لکھنے کو تو بہت دل ہے مگر کچھ پردہ ضروری ہے۔شادی ٹیکس کی ایک طرف بات ہے تو دوسری جانب ہو جمالی ۔مولانا فضل کا ذکر اور مسرت شاہین کی قدر مشترک بھی کمال بیان کی۔
ہڑتال کے کیا فائدے ہیں۔بہت ہی سادہ زبان برجستہ اور شائستہ مزاح سے بھرے ہوئے جملے اور سب سے خوبصورے بات کہ کہانی کار نے کہیں بھی سانس لینے جوگا وقفہ بھی نہیں دیا اور ربط کو قائم رکھا تسلسل کو جوڑتے ہوئے سچائی کے دہانے پہ لا کھڑا کیا۔میں سمجھتی ہوں یہی کتاب کی کامیابی کی دلیل ہے۔ ۔آخر میں یہی کہونگی کہ لکھنے والے کی نگاہ چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے موضوعات اور وقت کی نبض پہ ہوتی ہے۔اور پھر اسی طرح کی جرات مندی کا مظاہرہ بھی اعلی درجے کی جرات ہے۔شاکر بھای اللہ آپکو خوش رکھےآپ شاعر ادیب خاکہ نگار کالم نگار اور کمپئیر تو ہیں ہی لیکن آپ کی شخصیت کا حسن آپ کے لازوال کردار ۔دوسروں سے پیاراور حسن اخلاق کی منہ بولتی تصویر ہے۔خوش رہیے ۔
فیس بک کمینٹ

