ادبلکھاریماہ طلعت زاہدی

یادگارِ زمانہ ہیں ہم لوگ : مجید امجد ۔۔ ماہ طلعت زاہدی

1978 ء تھا، میں ٹایفائیڈ میں پڑی تھی، پاپا میرا دل بہلانے کو کلینک سے آتے ہوئے، femina، میر کا نقوش نمبر، اور مجید امجد کی کتاب ” شبِ رفتہ کےبعد “ اُٹھا لاۓ تھے۔(یہاں وضاحت ضروری ہے کہ قارئین کہیں گے، میری کوئی تحریر پاپا کے نام کے بغیر شروع ہی نہیں ہوتی، ہر تحریر پاپا کے نام کے بغیر شروع ہو سکتی ہے، مگر مجھے لگتا ہے میں یہ سب انہی کو یاد کرنے کے بہانے لکھ رہی ہوں، سو معذرت)۔
خیر ٹایفایئڈ کے دن مجید امجد کے ساتھ اچھے کٹ گۓ۔ یوں تو اُن پر پاپا کا خاک” ً فسردگئی مجسم “ پڑھا ہُوا تھا،
اور پاپا کے چند جملے یہاں درج کرنے ضروری ہیں:
ً میں کوئی گھنٹہ بھر مجید امجد کے پاس بیٹھا رہا لیکن نہ کوئی ولولہ نہ جوش و خروش نہ جذبات کی شدت نہ امُنگ نہ ترنگ،بس اک بجُھی بُجھی سی مجلس، افسردہ سے ماحول میں ایک چائے کی پیالی ختم کرکے میں نے ان سے اجازت طلب کی۔باہر آیا تو میں نے کئی لمبے لمبے سانس اپنے سینے میں بھرے،اور اپنے تھکے ماندے جسم کو خوب آکسیجن سپلائی کی۔لیکن میرے دل میں اک خلا سا رہ گیا،کہ میں اس شخص سے ملا تو ضرور،پر یہ ملاقات تو یونہی ادھوری رہی،سطحی سی۔ مجید امجد کی ذات اک طلسم ہی رہی جس کا طلسم کُشا بننا میرے نصیب میں نہ تھا۔ً
خیر میں مجید امجد کی شاعری سے پہلی دفعہ مل رہی تھی۔ اور وہ شاید اپنی شخصیت کی تمام تر افسردگی کو لےکر اپنی شاعری میں اتر گۓ تھے۔
صدیوں سے راہ تکتی ہوئی گھاٹیوں میں تم،
اک لمحہ آکے ہنس گۓ میں ڈھونڈتا پھرا
ان وادیوں میں برف کے چھینٹوں کے ساتھ ساتھ،
ہر سُو شرر برس گۓ،میں ڈھونڈتا پھرا،
راتیں ترائیوں کی تہوں میں لڑُھک گئیں،
دن دلدلوں میں دھنس گئے،میں ڈھونڈتا پھرا،
تم پھر نہ آ سکو گے بتانا تو تھا مجھے!
تم دور جا کے بس گۓ میں ڈھونڈتا پھرا
نظم کو کرافٹ(craft) کرنے میں،یعنی نظم کی بُنت میں مجید امجد کا ثانی مشکل سے ملے گا۔ وہ جو آتش نے کہا ہے :
بندشِ الفاظ جڑنے کے نگوں سے کم نہیں
شاعری بھی کام ہے آتش مرصع ساز کا
یہ شعر مجھے بہ ظاہر کچھ ایسا بھاتا نہیں تھا، لگتا تھا شعر گوئی محض الفاظ کا ہی کھیل ہے، جذبہ، فکر،واردات،احساسات کوئی معنی ہی نہیں رکھتے۔
لیکن جب مجید امجد کو پڑھا تو آتش کے شعر کے معانی کُھلے کہ اگر سب لوازماتِ شعری کے ساتھ ساتھ الفاظ کو نگینوں کی طرح جڑنا بھی آتا ہو تو پھر لطف دوبالا ہو جاتا ہے۔دو تین سطریں ایک نظم کی کافی رہیں گی، مثال بننے کو۔:
گلی کے موڑ پہ نالی میں پانی
تڑپتا تِلملاتا جا رہا ہے
زَدِ جاروب کھاتا جا رہا ہے
وہی مجبورئ اُفتادِ مقصد
جو اس کی کاہشِ رفتار میں ہے
مرے ہر گامِ ناہموار میں ہے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker