تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : اسلامی تعاون تنظیم کی سہولت کاری ، کیا طالبان لچک دکھائیں گے ؟

اسلام آباد میں افغانستان کے بحران پر غور کے لئے منعقد ہونے والا اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کی کونسل کا خصوصی اجلاس تقریروں، اظہار ہمدردی اور مبہم وعدوں کے ساتھ ختم ہوگیا۔ اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور شرکا سے خصوصی خطاب میں وزیر اعظم عمران خان نے دنیا کو متنبہ کیا کہ افغانستان میں ممکنہ انسانی المیہ تمام ممالک کے لئے مسائل کا سبب بنے گا۔ اس بحران میں افغان عوام کی مدد کرنا اقوام عالم کی اخلاقی ذمہ داری ہے جبکہ عمران خان کا کہنا تھا کہ اسلامی تعاون تنظیم پر افغانستان کے حوالے سے مذہبی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔
اجلاس میں 31 نکات پر مشتمل ایک قرار داد منظور کی گئی ہے جس میں طالبان حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ افغانستان میں داعش، القاعدہ، تحریکِ طالبان پاکستان اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی ایم) کے خلاف مضبوط اقدامات اٹھائے۔ اسی قرار داد میں اجلاس میں شریک ہونے والے 57 اسلامی ممالک کے مندوبین نے او آئی سی کے سیکریٹری جنرل حسین براہیم طہٰ سے درخواست کی ہے کہ وہ عالمی اسلامی فقہ اکیڈمی کی سربراہی میں مذہبی علما کا ایک وفد افغانستان بھیجیں جو طالبان حکومت کو اسلام میں خواتین کے حقوق، عدل و انصاف، رواداری اور مرد و خواتین کی یکساں تعلیم کے بارے میں آگاہی دے۔ اس سے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان کے عبوری وزیر خارجہ امیر متقی نے اسلامی ممالک اور دنیا پر زور دیا کہ افغانستان کی نئی حکومت کو تسلیم کیا جائے، اس کے منجمد اثاثے بحال کئے جائیں اور بدحالی کا شکار ملک کے ضرورت مند لوگوں کو فوری امداد فراہم کرنے کا اہتمام کیا جائے۔
امیر متقی کا دعویٰ تھا کہ طالبان کے زیر انتظام کسی شخس کے ساتھ انتقامی کارروائی نہیں کی گئی اور ملک میں اس وقت ایک بھی سیاسی قیدی نہیں ہے۔ تمام گروہوں اور طبقات کو امور مملکت میں یکساں شراکت دار بنانے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خواتین کے مساوی حقوق اور لڑکیوں کی تعلیم کے بارے میں میڈیا رپورٹنگ یک طرفہ اور متعصبانہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسلامی امارت کے سربراہ نے خواتین کے حقوق کے بارے میں ایک فرمان جاری کیا ہے جو معاشرے میں خواتین کے مساوی مقام کے بارے میں اہم پیش رفت ثابت ہوگی۔
اس سے پہلے وزیر اعظم عمران خان نے اپنی تقریر میں افغانستان کی مدد کے لئے پرجوش اپیل کرتے ہوئے البتہ یہ نشاندہی کی تھی کہ طالبان نے عالمی کمیونٹی کے ساتھ جو وعدے کئے ہیں انہیں پورا کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان میں تمام عناصر پر مشتمل حکومت کا قیام اور خواتین کے حقوق کی یقین دہانی اہم ترین پہلو ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ ہی انہوں نے حاضرین کی توجہ اس حقیقت کی طرف بھی مبذول کروائی کہ انسانی حقوق کے بارے میں ہر معاشرہ کے اپنے نظریات ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے پاکستانی صوبے خیبر پختون خوا کی صورت حال کا حوالہ بھی دیا جہاں شہری ثقافت دیہی مزاج سے مختلف ہے اور حکومت محض زور ذبردستی یا لالچ سے والدین کو مجبور نہیں کرسکتی کہ وہ اپنی بچیوں کو اسکول بھیجیں ۔ اس کے لئے مسلسل کام کرنے اور لوگوں کو لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کے حقوق کے بارے میں آگاہی دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود نے بھی افغان بحران پر پریشانی و تشویش کا اظہا کیا اور افغانستان کی مدد کے لئے اسلامی تعاون تنظیم کے اس اجلاس کو اہم قدم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا مالی مشکلات انسانی المیہ کا سبب بن سکتی ہیں۔ اس طرح ایسا عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے جس سے عالمی امن بھی متاثر ہوسکتا ہے۔ افغان عوام نے طویل عرصہ تک مصائب و مشکلات برداشت کی ہیں۔ اسلامی تعاون تنظیم کے ممالک کو افغانستان میں استحکام پیدا کرنے کے لئے اقدام کرنے چاہئیں تاکہ یہ ملک معاشی طور سے دیوالیہ نہ ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پہلے بھی افغان عوام کی غذائی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے امداد کرتا رہا ہے اور او آئی سی کے زیر انتظام ہونے والے اقدامات میں بھی حصہ دار ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ نے البتہ افغانستان میں اقلیتوں پر دہشت گرد حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ سعودی عرب امن و سلامتی کا حامی ہے اور اس سلسلہ میں بین الاقوامی برادری کے تعاون کی ضرورت ہوگی۔
تقریروں کے بعد شاہ محمود قریشی نے 31 نکات پر مشتمل ایک قرار داد پیش کی جسے اجلاس میں شریک ہونے والے تمام مندوبین نے متفقہ طور سے منظور کرلیا۔ اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیہ کے مطابق اسلامی تعاون تنظیم نے افغانستان کے لئے نمائیندہ خصوصی مقررکرنے اور افغان عوام کی مدد کے لئے انسانی ٹرسٹ فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تمام رکن ممالک افغانستان میں انسانی امداد کی فراہمی کے لئے اس فنڈ میں رقوم جمع کروائیں گے۔ او آئی سی افغانستان میں کوروناویکسینیشن پروگرام کو وسیع کرنے اور تمام لوگوں کو ویکسین تک رسائی دینے کے لئے بھی اقدامات کرے گی۔ اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ نے طے کیا ہے کہ تنظیم اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر کام کرے گی اور امدادی پروگرام کے لئے افغان حکام اور اقوام متحدہ کے درمیان میکنزم قائم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ بظاہر افغانستان کے لئے نمائیندہ خصوصی قائم کرنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ اقوام متحدہ کے نظام اور طالبان حکومت کے درمیان رابطہ و مواصلت کو بہتر بنایا جائے تاکہ افغان عوام کو فوری مشکل اور بحران سے بچانے کے اقدام ہوسکیں۔
اس اجلاس کے حوالے سے یہ بات نوٹ کی جاسکتی ہے کہ افغانستان کے وزیر خارجہ امیر متقی کے علاوہ کسی مندوب نے بھی فوری طور سے طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کی بات نہیں کی۔ البتہ امیر متقی نے اصرار سے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کی حکومت کو تنہا کرنے کی کوششیں افغان عوام کے ساتھ ظلم ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ہمارا حق ہے کہ دنیا افغانستان کی نئی حکومت کو قبول کرے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ہم ہر طرح کا مشورہ سننے پر تیار ہیں اور ہر درخواست پر غور کریں گے۔ اسلامی ممالک افغانستان کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لئے ایک منصفانہ روڈ میپ تیار کریں اور ہماری رہنمائی کریں۔ ہماری حکومت ہر نسل اور طبقہ کو امور حکومت میں شامل کرنے کے لئے اقدامات کررہی ہے۔ ملک سے کرپشن ختم کردی گئی ہے اور طالبان حکومت کا ملک کی تمام جغرافیائی حدود پر کنٹرول ہے۔ ہم اس بات کا تہیہ کئے ہوئے ہیں کہ افغان سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔
طالبان حکومت کی طرف سے تعاون اور مہذب حکومت قائم کرنے کے ان وعدوں کے باوجود یہی دکھائی دیتا ہے کہ اسلامی تعاون تنظیم کے ممالک بھی ان وعدوں کی عملی شکل دیکھنے پر یقین رکھتے ہیں۔ باقی ماندہ دنیا کی طرح اسلامی ممالک بھی طالبان کے اس دعوے سے متفق نہیں ہیں کہ ملک میں ایسی حکومت موجود ہے جو سب گروہوں اور طبقات کی نمائیندگی کرتی ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم نے بھی اس طرف اشارہ کیا اور اجلاس میں منظور کی گئی قرار داد سے بھی اسی تاثر کو تقویت ملی ہے کہ او آئی اسی ایک طرف امریکہ کی سرکردگی میں دنیا کو یہ یقین دلانے کی کوشش کرے گی کہ طالبان پر اعتبار کیا جائے اور انہیں مالی تباہی سے بچانے کے لئے اقدامات کئے جائیں لیکن دوسری طرف طالبان پر بھی زور دیا جائے گا کہ وہ ایسا حکومتی نظام وضع کریں جس پر پوری دنیا اعتبار کر سکے۔ مشترکہ حکومت اور خواتین کے حقوق کا معاملہ شروع دن سے افغان طالبان اور دنیا کے درمیان اختلاف رائے کا باعث بنا ہؤا ہے۔ طالبان کے نمائیندے ضرور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ لڑکیوں اور عورتوں کو یکساں مواقع دیے جائیں گے اور ملک کے تمام طبقات کو حکومت میں شامل کیا جائے گا لیکن طالبان ’عبوری حکومت‘ کے بینر تلے فی الوقت ملک پر اپنا اقتدار مستحکم کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور پاکستان کے بعد اب او آئی سی ممالک کے تعاون سے کسی بھی طرح زیادہ سے زیادہ مالی وسائل حاصل کرنے کے خواہشمند ہیں تاکہ موجودہ معاشی بحران پر قابو پایا جاسکے۔
پاکستانی حکومت افغانستان کی امداد کے لئے دنیا کی توجہ مبذول کروانے کی سرتوڑ کوشش کرتی رہی ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے خصوصی اجلاس کا انعقاد بھی انہی کوششوں کو مربوط کرنے کے لئے ضروری سمجھا گیا تھا۔ عمران خان کی حکومت کو یقین تھا کہ اس اجلاس سے افغانستان کے لئے عالمی رائے کو تبدیل کروایا جاسکے گا اور ایک بڑے انسانی بحران کو ٹالنے یا پناہ گزینوں کی بڑی تعداد کو ملک چھوڑنے سے روکنے کے اقدامات تیز تر ہوسکیں گے۔ تاہم اس اجلاس سے پہلے بھی اسلام آباد میں پاکستانی حکام اس پہلو پر مایوسی کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ طالبان حکومت وعدے کرنے کے باوجود وسیع تر حکومت قائم کرنے اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے مثبت پیش رفت نہیں کرسکی۔ اس کا اظہار عمران خان کی تقریر میں بھی ہؤاہے۔ یہ محسوس کیا جاتا ہے کہ طالبان میں قدامت پسند گروہ کو ابھی تک فیصلہ سازی کا اختیار ہے اور طالبان کے روشن خیال عناصر اہم اقدام کرنے کے قابل نہیں ہیں۔
اسلامی تعاون تنظیم نے اب طالبان حکومت کو انسانی مساوات اور خواتین کے حقوق کے بارے میں آگاہی دینے کے لئے مسلمان فقہا کا وفد کابل بھیجنے کا عندیہ دیا ہے۔ اسی طرح ایک نمائیندہ خصوصی قائم کرکے کابل میں دنیا کے لئے قابل قبول حکومت قائم کرنے میں سہولت کاری کی پیش کش کی گئی ہے۔ اس اقدامات کے برعکس اگر افغانستان کے عبوری وزیر خارجہ کی تقریر پر غور کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ وہ دعویٰ کرنے کے باوجود کہ ہم مشورہ اور تجاویز سننے پر تیار ہیں ،صرف بات سنانے پر یقین رکھتے ہیں اور دنیا کو یہی پیغام دیا جارہا ہے کہ طالبان نے طاقت کے زور پر حکومت حاصل کی ہے اور وہ وہاں پر اپنی مرضی ہی کا نظام قائم کریں گے۔
تصویر کے ان دو متضاد اور متصادم پہلوؤں کو دیکھا جائے تو افغانستان کے مسئلہ کا کوئی فوری حل دکھائی نہیں دیتا۔ دنیا کو یقیناً افغان عوام کی مدد کے لئے فراخدلی کا مظاہرہ کرنا چاہئے لیکن طالبان کو بھی اپنے رویہ میں لچک پیدا کرنا ہوگی۔ اگر انہوں نے اسلامی فقہ کا نام لیتے ہوئے طالبان کی آمریت مسلط رکھنے اور خواتین سمیت دیگر محروم طبقات کو سہولت دینے سے مسلسل انکار کیا تو اسلامی تعاون تنظیم بھی اپنی نیک خواہشات کے باوجود طالبان کی پشت پناہی نہیں کرے گی۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker