شاہد راحیل خان مجھ سے کچھ برس چھوٹے ہیں ،لیکن وہ میری طرح نواں شہر کے محلہ باغبان میں پلے پڑھے اس لئے ہمارا بہت کچھ مشترک ہے ، غنی دودھ فروش جو بظاہر ان پڑھ تھامگر کراچی کے دو اخبار جنگ اور انجام روزانہ منگواتا تھا اور جب کبھی ابن انشا یا ابراہیم جلیس کے کسی فقرے پر میں مسکرا دیتا تو وہ کہتا : کلھے کلھے مسکرانے کا کیا فائدہ ؟ ہمیں بھی تو بتاؤ ۔۔ یوں وہ باذوق، محنت کش بزرگ اس اعتبار سے میرا پہلا شاگرد تھا کہ اس کے سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کے لئے ان اخباروں کے اندر اور زیادہ جھانکنا پڑتا تھاکہ ابن انشا کا اصل نام کیا تھا ؟ابراہیم جلیس اتنا کڑوا کیوں ہے؟ وغیرہ ۔
عرصے بعد شاہد راحیل سے ملاقات ہوئی تو اس نے بھی غنی دودھ والے کے ذوق اور تجسس کا ذکر کیا ، یہی نہیں وہ میرے کلاس فیلو غلام سرور اخبار فروش کو بھی جانتا تھا جو پڑھائی چھوڑ کے ہاکر بن گیا تھا اور میرے لئے کم خرچ بالا نشیں پبلک لائبریری بن گیا تھا میں نے جب کہا کہ اس محلے کے اندر صرف بلوچوں کی ایک گلی تھی جس میں سے کبھی باغیانہ آواز آتی تھی وگرنہ سبھی ملکوں اور حاجیوں کی ہاں میں ہاں ملانے والوں میں سے تھے تب شاہد راحیل نے شرما کے بتایا کہ وہ بلوچ ہے اور اسی گلی کا وسنیک ہے اس نے بتایا کہ اس کی والدہ اردو سپیکنگ تھی والد سرائیکی بولنے والے تھے پھر میں نے مسلم سکول کا نام لیا تو معلوم ہوا کہ وہ بھی اسی سکول میں پڑھتا رہا ہے پھر اس نے اپنی فضیلتیں بھی گنوائیں اس نے محبت کی شادی کی تو وہ ممتاز بیگم اس کے لئے ممتاز محل بن گئی اسے ایک تکلیف دہ حادثہ کا سامنا کرنا پڑا تو اس کی ممتاز محل نے بیٹے کو سرجن بنانے کا خواب دیکھا (آج وہ ماشاءاللہ ایک نامور سرجن ہے ) اس نے اپنے دوسرے بیٹے کو اپنی طرح بینک کار بنایا اب وہ سٹیٹ بینک میں ہے دیانت اور اصول پسندی میں ایک مثال ۔یہی نہیں اس کے بیٹے اور بیٹی شعر کہتے ہیں اور یہ ملتان کا منفرد ادبی کنبہ ہے ۔
شاہد راحیل نے ریڈیو اور سٹیج کے لئے بہت کچھ کیا اور اب اس کا کوئی پوتا اکیلے ہی کیمرے اور مختلف رنگ کے کپڑوں کی مدد سے ڈرامائی صدا کاری کرتا ہے تو وہ مرحومہ بیوی ممتاز بیگم کی تصویر سے مخاطب ہوکے کہتا ہے لو یہ بھی تمہارے ایک خواب کی تعبیر ہے۔
ادبی مراکز سے دور ہونے کے سبب آپ بہت کچھ کرلیں کتابوں کے انبار لگا دیں تو بھی ملتان کی ادبی تاریخ مکمل نہیں ہوتی کہ یہ ایک طرح سے اورل ہسٹری ہے اس لئے شاہد راحیل سے میں کہتا ہوں اور یاد کرو اور لکھو اور بولو اور اسے چھاپو کہ تمہارے پاس ابھی وسائل ہیں ، یاد داشت کا ساتھ دینے والا قلم اور کچھ بینکوں کی مشاورت کا کام کہ تم نے اپنی ممتاز محل کے کہنے پر بینک کی ملازمت کے دوران ایل ایل بی بھی کر لیا تھا ۔
17 اکتوبر دو ہزار تیئیس انگلستان
فیس بک کمینٹ

