حکومت پاکستان اور پاک فوج نے گزشتہ روز خضدار میں ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری بھارت پر عائد کی ہے اور کہاہے کہ ملک میں دہشت گردی کی دیگر کارروائیوں کی طرح یہ خود کش دھماکہ بھی بھارتی اشارے پر فتنہ الہندوستان نے کیا تھا۔ اس سے پہلے پاک فوج کی 270 ویں کور کمانڈر کانفرنس نے دہشت گردی میں ملوث تمام بھارتی پراکسی گروہوں سے نمٹنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔
آج آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے وزارت داخلہ کے سیکرٹری محمد خرم آغا کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان تمام وقوعات کی تاریخ بتائی جو ان کے مطابق بھارتی سرپرستی میں انجام دیے گئے تھے۔ پاکستان وقتاً فوقتاً دہشت گردی کی ان کارروائیوں کے بارے میں متنبہ کرتا رہے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے مطابق پاکستان نے 2009میں دہشت گردی کے ثبوتوں سے بھرا ڈوزیئر شرم الشیخ میں اس وقت کے بھارتی وزیراعظم کو پیش کیا تھا۔ 2015 میں پاکستان نے بھارتی دہشت گردی کے ثبوتوں پر مبنی ڈوزیئر اقوام متحدہ کے حوالے کیا۔ اس کے فوری بعد 2016 میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو بلوچستان سے پکڑا گیا تھا۔
پاکستان کا دعویٰ ہے کہ بھارت گزشتہ 20 سال سے بلوچستان کے علیحدگی پسند گروہوں کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث رہا ہے۔ نئی دہلی نے ان الزامات کی ایک بار پھر تردید کی ہے تاہم ماضی کے تجربات سے یہی پتہ چلتا ہے کہ ایک الزام کے بعد تردید کے باوجود کوئی فریق اپنا دعویٰ واپس نہیں لیتا۔ 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں 26 سیاحوں کی ہلاکت کا الزام پاکستان پر لگایا گیا تھا۔ پاکستان نے اس کی نہ صرف یہ کہ تردیدکی بلکہ ا س کی مذمت کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے پیش کش کی کہ اگر غیر جانبدار ذرائع سے تحقیقات کرائی جائے تو پاکستان ان میں تعاون کرے گا۔ اس طرح پاکستان نے ہر طرح سے اس سانحہ سے لاتعلقی ثابت کرنے کی کوشش کی ۔ البتہ نریندر مودی کی سربراہی میں بھارتی فوج نے 7 مئی کو پاکستان کے متعدد مقامات پر میزائل حملے کیے۔ پاکستان کی طرف سے 10 مئی کو اس صریحاً جارحیت کا جواب دیا گیا۔ اس کے بعد امریکہ کی ثالثی میں جنگ بند ہوگئی۔
البتہ ایک دوسرے کے خلاف بداعتمادی کا سلسلہ تھم نہیں سکا۔ چار روزہ جنگ میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے دعوؤں کے علاوہ مسلسل ایک دوسرے پر دہشت گردی کا الزام عائد کیا جارہا ہے۔ نریندر مودی نے جنگ بندی کے تین دن بعد قوم سے خطاب میں پاکستان پر بھارت میں دہشت گردی کے الزام عائد کیے اور کہاکہ 7 مئی کے حملوں میں بھارت نے 100 سے زائد دہشت گرد ہلاک کیے تھے۔ جبکہ پاکستان نے پہلے دن سے یہی بتایا تھا کہ یہ میزائل حملے سول اہداف پر کیے گئے اور ان میں مساجد شہید ہوئیں یا عورتوں اور بچوں سمیت شہری جاں بحق ہوئے۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 10 مئی کو سوشل میڈیا پوسٹ میں جنگ بندی کاا علان کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ دونوں ممالک جلد ہی ایک دوسرے سے بات چیت کریں گے۔ اس کا اعادہ گزشتہ روز وزیر اعظم شہباز شریف نے میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے کیا ہے ۔ اور امید ظاہر کی ہے کہ یہ ملاقات متحدہ عرب امارات یاسعودی عرب میں ہوسکتی ہے اور اس میں پاکستان کی طرف سے کشمیر، پانی کی تقسیم، تجارت اور دہشت گردی کے امور پر غور کیا جائے گا۔ بھارت چونکہ ٹرمپ کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان پر شرمندگی محسوس کررہا ہے لہذا فی الوقت اس کے ترجمانوں کا سارا زور اس بات پر صرف ہورہا ہے کہ جنگ بندی میں امریکہ کا کوئی ہاتھ نہیں ہے بلکہ اس کا فیصلہ دونوں ملکوں کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان بات چیت میں ہؤا تھا۔ اس لیے ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ بھارتی لیڈر کس وقت اپنی خفت اور بدحواسی پر قابو پا کر برصغیر کی دو جوہری طاقتوں کے درمیان بات چیت پر آمادہ ہوں گے۔ یہ مذاکرات جتنی جلد ممکن ہو منعقد ہونے چاہئیں تاکہ الزام تراشی کا ماحول ختم کرکے صحت مند روابط قائم کرنے کی طرف پیش رفت ہوسکے۔
مئی کے دوران چار روزہ جنگ کے بعد پاکستانی حکام کو احساس ہؤا ہے کہ بھارت کو اس کی زبان میں پیغام دینا ضروری ہے۔ اسی لئے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران تواتر سے بھارت پر پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کا الزام عائد کیا جارہا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس معاملہ میں اس کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں اور انہیں ڈوزئیر کی صورت میں بھارتی حکومت کے علاوہ اقوام متحدہ اور اہم ممالک کو دیا گیا ہے۔ پاکستان نے البتہ بھارت کے برعکس الزام عائد کرتے ہوئے اس کا انتقام لینے کے لیے بھارت پر حملہ کرنے کا اعلان کرنے سے گریز کیا ہے۔ 7 اور 10 مئی کے دوران دونوں ملکوں کی عسکری صلاحیت و استعداد کے بارے میں جو تصویر سامنے آئی ہے، اس سے یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان بھی بھارتی اہداف پر اسی طرح میزائل پھینکنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس کا مظاہرہ بھارت نے 7 مئی کو کیا تھا۔ اس روز نئی دہلی نے یہ شدید غلطی بھی کی تھی کہ ایک سانحہ کی تفتیش و تحقیقات مکمل کیے بغیر محض الزام کی بنیاد پر بین الاقوامی سرحد عبور کرکے حملے کردیے گئے۔ دونوں ملکوں کے درمیان تعلق میں یہ ایک خطرناک مثال قائم کی گئی ہے۔ اب اگر خدانخواستہ پاکستان میں دہشت گردی کا کوئی بڑا واقعہ ہوتا ہے تو پاکستان بھی پر زور انداز میں اس کا الزام بھارت پر عائد کرتے ہوئے ہندوستان میں اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ بھارت ایسی کسی جنگی کارروائی کو کسی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دینے کے قابل بھی نہیں ہوگا کیوں کہ اس نے خود ہی یہ غلط روایت قائم کی ہے۔
البتہ دونوں ملکوں کی طرف سے عائد ہونے والے الزامات میں ایک بنیادی فرق ہے۔ ماضی میں پاکستان کے کچھ انتہاپسند گروہ بھارت میں حملوں میں ملوث رہے ہیں اور ان معاملات میں ملوث لوگوں کو پاکستان میں سزائیں بھی نہیں دلائی جاسکیں۔ اسی لیے بھارت بعض گروہوں کا نام لیتے ہوئے دنیا کو یہی باور کرانے کی کوشش کرتا ہے کہ یہی گروہ اب بھی مقبوضہ کشمیر میں متحرک ہیں۔ 7 مئی کے حملے بھی ایسے ہی دو گروہوں کے ٹھکانوں کو ’تباہ ‘ کرنے کے لیے کیے گئے تھے۔ اس کے برعکس پاکستان کا الزام ہے کہ بلوچستان میں علیحدگی پسند گروہوں کے ذریعے دہشت گردی میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ اور بھارتی حکومتی ادارے براہ راست ملوث ہیں۔ الزامات کے مطابق یہ ادارے دہشت گرد گروہوں کو مالی مدد، تربیت اور اسلحہ فراہم کرتے ہیں اور افغانستان کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اگرچہ پاکستان کا الزام زیادہ سنگین ہے کیوں کہ یہ براہ راست بھارتی ریاست اور اس کے اداروں کو ملوث کرتا ہے جبکہ بھارت اپنے ملک میں دہشت گردی کا الزام پاکستان سے متحرک ہونے والے عسکری گروہوں پر عائد کرتا ہے۔ وہ ریاست پاکستان کو اس میں ملوث قرار نہیں دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ 7 مئی کے حملوں کے بارے میں بھارت کا یہی مؤقف رہا ہے کہ یہ حملے پاکستانی فوج یا ریاست کے خلاف نہیں تھے بلکہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
اس پس منظر میں پاکستان اگر کسی مرحلے پر بھارت سے بدلہ لینے کا فیصلہ کرتا ہے تو وہ بجا طور سے ان ریاستی اداروں کو نشانہ بنا سکتا ہے جن پر پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے گروہوں کی معاونت و تربیت کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ یہ حملے اگر را کے مراکز یا دیگر ریاستی اداروں کے ٹھکانوں پر ہوتے ہیں تو اس سے خطے میں خطرناک تصادم کا امکان پیدا ہوگا۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بار بار واضح کرچکے ہیں کہ انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان ایٹمی جنگ کے خطرے کی وجہ سے ساری رات جاگ کر جنگ بندی کی کوشش کی تھی۔ گویا پاکستان اور بھارت کی تردید کے باوجود کہ ان میں سے کوئی بھی ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا، امریکی صدر کی اطلاع کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان تصادم جاری رہنےکی صورت میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا حقیقی خطرہ موجود تھا۔
اس خطرہ ہی کی وجہ سے امریکہ اور دیگر اہم ملکوں کو بھارت پر دباؤ ڈال کر پاکستان کے ساتھ فوری طور سے مذاکرات شروع کرنے پر مجبور کرنا چاہئے۔ نریندر مودی کی انتہا پسند حکومت اپنے ہندو ووٹروں کو جوش دلانے کے لیے پاکستان کے ساتھ بات چیت سے گریز کررہی ہے۔ لیکن پاکستان کی طرف سے الزامات کی بوچھاڑ اور خطے میں شدت پسند گروہوں کی سرگرمیوں کی وجہ سے عالمی امن اور دنیا کی بہبود کو کسی ایک سیاسی لیڈر کی ضرورتوں پر قربان نہیں کیا جاسکتا۔ امریکہ کے صدر ٹرمپ کو فوری طور سے اس طرف توجہ مبذول کرنی چاہئے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

