ملتان : ایران کے سیستان بلوچستان کے ضلع مہرستان دہشت گردوں کے حملے میں لقمہ اجل بننے والے پاکستانیوں میں سے ایک کا تعلق شجاع آباد جبکہ سات لوگوں کا تعلق مبارک پور سے بتایا جا رہا ہے۔ مقتولین آٹو ورکشاپ میں کام کرتے تھے ۔ اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ نیشنل آرمی (بی این اے) نامی تنظیم نے قبول کرلی ہے ۔
کالعدم بی این اے یعنی بلوچ نیشنلسٹ آرمی ایک غیر معروف تنظیم ہے ۔ سرکاری سطح پر اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے کے حوالے سے دعوے کی تاحال تصدیق نہیں ہوئی ہے تاہم ایران کے کسی علاقے سے پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کے حوالے اس تنظیم کی ذمہ داری قبول کرنے کا غالباً یہ پہلا واقعہ ہے۔تاہم بلوچستان میں ماضی میں اس تنظیم کی جانب سے بعض واقعات کی ذمہ داری قبول کرنے کے حوالے سے دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس تنظیم کے نام سے آخری مرتبہ تشدد کے کسی بڑے واقعے کے حوالے سے ذمہ داری قبول کرنے کا جو دعویٰ سامنے آیا تھا وہ پاکستان کے شہر لاہور کے گنجان آباد اور مصروف انارکلی بازار میں جنوری سنہ 2022 میں دھماکے کا تھا جس میں تین افراد ہلاک اور 26 زخمی ہوئے تھے۔
ادھرایران نے اپنے صوبے سیستان و بلوچستان میں آٹھ پاکستانی شہریوں کی ہلاکت پر مذمتی بیان جاری کیا ہے۔ ایک بیان میں اسلام آباد میں ایرانی سفارت خانہ نے اس واقعے کو ’غیر انسانی اور بزدلانہ مسلح کارروائی‘ قرار دیا ہے۔ اس نے واقعے کی تفصیلات دیے بغیر محض یہ کہا کہ ’دہشت گردی پورے خطے میں ایک دیرینہ اور مشترکہ خطرہ ہے جس کے ذریعے غدار عناصر بین الاقوامی دہشت گردوں کے ساتھ مل کر پورے خطے میں سلامتی اور استحکام کو نشانہ بناتے ہیں۔‘ایرانی سفارتخانے سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اس ناخوشگوار واقعے کا مقابلہ کرنے کے لیے اجتماعی اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔‘
اس سے قبل پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ’ایران کے علاقے مہرستان میں آٹھ پاکستانیوں کی ہلاکت کے حوالے سے پاکستان کی حکومت ایرانی حکام سے رابطے میں ہیں۔‘ترجمان دفتر خارجہ شفقت خان کا کہنا تھا کہ ’واقعے سے آگاہ ہیں اور حقائق سامنے آنے پر باضابطہ بیان جاری کیا جائے گا اور مصدقہ معلومات کے بعد ہی موقف اختیار کریں گے۔‘
فیس بک کمینٹ

