پاکستان پیپلز پارٹی کا اول و آخر تعارف یہ ہے کہ یہ دانشوروں ، کسانوں ، مزدوروں اور عام آدمی کی جماعت ہے ۔ جب مورخین سیاست پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کو زیر بحث لاتے ہیں تو اس کے بانی شہید ذوالفقار علی بھٹو کو یہ کریڈٹ بھی دیتے ہیں کہ شہید قائد نے اہل پاکستان کو کچھ دیا ہو یا نہ دیا ہو یہ شعور ضرور دیا ہے کہ وہ اپنے حق کے لیے کسی بھی مقتدر قوت کے سامنے نعرہ مستانہ لگانے سے ڈرتے نہیں ہیں ۔ پاکستان پیپلز پارٹی پورے پاکستان کی آواز ہے مگر بوجوہ اسے فقط ایک صوبے تک محدود کرنے کے تمام جتن کیے گئے اور خلائی مخلوق کسی حد تک اس عمل میں کامیاب ہوئی بھی ہے ۔
1977ء کے مارشل لا کے بعد پورے ملک بالخصوص پنجاب میں ایسی قیادتیں تیار کی گئیں اور ایسے نعرے دئیے گئے جس سے پنجابی شاونزم یا پنجابی قوم پرستی کے رویے مستحکم ہوئے ۔ یہ سب پاکستان پیپلز پارٹی کو پنجاب سے ” دیس نکالا ” دینے کے ترلے تھے ۔ اس کی قیادت کے بارے میں طرح طرح کے پراپیگنڈے گھڑے گئے ، لایعنی ا ور بے بنیاد الزام تراشیاں کی گئیں۔ کرپشن اور نااہلی کی قدریں اس کی قیادت سے جوڑ کر گلی گلی اور محلہ محلہ میں ایسی فضا بنائی گئی کہ دودھ پیتا بچہ بھی بے دھڑک کہہ دیتا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کرپٹ ، چور اور ڈاکو ہے ۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ ملک میں آج تک سب سے زیادہ ڈیلیور کرنے والی پیپلز پارٹی ہی ہے ۔ اٹھارویں ترمیم ہو ، سی پیک منصوبہ ہو ، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ ہو ، خارجہ امور کے معاملات ہو ں، صوبوں کو بااختیاربنانا ہو یا ملک میں جمہوری کلچر کو فروغ دینا ہو ، سب کے عقب میں پاکستان پیپلز پارتی کی قیادت ہی دکھائی دے گی مگر بطور خاص پنجاب میں ادھر اسی کی قیادت کا ذکر ہوا ادھر گالی ٹھاہ ہوئی ۔ عام انتخابات میں اکثر لوگوں سے یہ سنا گیا کہ اگر پیپلز پارٹی کی حکومت آ گئی تو سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھیں گی اور ملک میں بنیاد پرستی کا خاتمہ بھی ہو گا مگر "ووٹ ” کسی اور کودیں گے ۔
واہ رے پاکستانیو! یہ وہ مائنڈ سیٹ ہے کہ پی پی پی کے فلاحی کاموں اور میچور سیاست کو تسلیم بھی کیا جاتا ہے مگرا سے برا بھلا بھی کہا جاتا ہے اس مائنڈ سیٹ کے کئی تناظر ہیں: اسٹبلشمنٹ کے اپنے خوف (خاص طور پر وہ اٹھارویں ترمیم کو اپنے مفادات کے حصول کے لیے ایک بڑی رکاوٹ سمجھتی ہے ) 2۔ پی پی پی اپنی خدمات اور کارکردگی کو سوشل ، الیکٹرانک اور عوامی اجتماعات میں اجاگر نہیں کر سکی ، اسے روایتی شرافت مار دے رہی ہے جب کہ روح عصر کا تقاضا کچھ اور ہے ۔ 3۔ پنجاب میں مقامی ، ضلعی اور صوبائی قیادتوں میں وہ عوامیت اب عنقا ہے جو پاکستان پیپلز پارٹی کی اصل شناخت تھی ۔ اب یہ قیادتیں فیوڈل یا فیوڈل ذہن رکھنےو الے اشخاص، مخدومین یا پھر سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں ہے جہاں گراس روٹ لیول سے جنم لینے والی قیادت ہے وہاں نتائج کچھ اور طرح کےہیں ۔ اس کی مثال ہمیں ساؤتھ پنجاب سے خواجہ رضوان جیسے لوگوں سے مل سکتی ہے ۔
لمحہ موجود میں آصف علی زرداری کا گورنر پنجاب جناب سردار سلیم حیدر کو مقرر کر کے پنجاب میں تبدیلی کا آغاز کر دیا ہے ۔ سردار سلیم حیدر کا تعلق جس ضلع سے ہے وہاں ایک طویل عرصے سے پیپلز پارٹی کا گراف نیچے کی طرف جا رہا تھا ۔ سلیم حیدر کے انتخاب سے وہاں کے کارکنوں اور دانشوروں کو ایک ڈھارس ملی ہے ۔ پہلی بار پنجاب کے فیوڈل اور مخدوم پس منظر میں چلےگئے ہیں ۔ اپر پنجاب اور سنٹرل پنجاب میں بھی مقامی سطح پر بڑی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔ اسی طرح سوشل میڈیا کی ایک بڑی ٹیم تیار کر کے لوگوں کو، خاص طور پر یوتھ کی ذہن سازی کی بڑی ضرورت ہے ۔ آج کی یوتھ نے تو صرف کتابوں میں بھٹو صاحب اور بے نظیر بھٹو صاحبہ کے نام سنے ہیں ، انھیں بتانے کی ضرورت ہے کہ اس ملک کی اگر قومی اور بین الاقوامی سطح پر کوئی ساکھ ہے تو وہ پیپلز پارٹی کی قیادت کی قائدانہ صلاحیتوں ہی کی بدولت ہے ۔
آج پاکستان پیپلز پارٹی کو بالعموم پاکستان اور بالخصوص پنجاب میں کئی چیلنجز کا سامنا ہے ۔ ان چیلنجز سے نکلنے کے لیے اس کی موجودہ قیادت کو اپنے تھنک ٹینک سے پورا استفادہ کرنا پڑے گا۔ پارٹی کو زمینداروں ، سرمایہ داروں اور طالع آزماؤں سے چھٹکارا حاصل کر کے ہی اس کا سیاسی احیاء ہو سکتا ہے ۔ سٹڈی سرکلز ، بحث مباحثے اور مخلص کارکنوں کی حوصلہ افزائی کرنے کا اب وقت آن پہنچا ہے ۔ پنجاب کے گورنر کو چاہیے کہ وہ ضلعی سطح کے کارکنوں سے ملاقاتیں کرے ،اپنے ہم خیال اور نظریاتی دانشوروں کی مشاورت سے آئندہ کا لائحہ عمل تیار کرے ۔ اگر آج پیپلز پارٹی نے معاصر سیاست کو سمجھ کر اپنے مہرے صحیح انداز میں چلائے تو پنجاب میں پارٹی کا حیران کن حد تک احیاء ہو گا کیوں کہ اس وقت خلائی مخلوق کے ہاتھوں تیار ہونے والی پنجاب کی جماعتیں آہستہ آہستہ بے نقاب ہو رہی ہیں اور پی پی پی میں اس خلا کو پر کرنے کی مکمل صلاحیت موجود ہے ۔
فیس بک کمینٹ

