ملک صاحب گھر آۓ تو سوہا کی مجلد کتابوں کے ساتھ ایک اور کتاب بھی میز پر رکھی۔ میں نے اٹھا کر دیکھا تو رضی الدین رضی کی ”پیر سپاہی اور ملتان کی دیگر کہانیاں “ تھی۔
انتساب سے پیش لفط اور پھر روزنامہ ” نیا دن “ کے پہلے سال کا احوال اتنا دلچسپ تھا کہ کتاب چھوڑنے کو دل نہ چاہا۔ میں تقریباً ان سارے کرداروں کو جانتی ہوں یا پھر غائبانہ تعارف ہے۔ رضی کا قلم ایک شرارتی بچے کی طرح نیوز روم میں اٹکھیلیاں کر رہا ہے، دوڑ رہا ہے اور کیوں نہ کرے قلم اپنے گھر میں ہے۔
رضی نے تمام دوستوں اور ساتھیوں کی خوبیوں اور خامیوں کو بہت محبت سے اجاگر کیا۔
کسی کی دل آزاری بھی نہ ہو اور اس کی شخصیت کا نمایاں پہلو بھی واضح ہو جائے ۔شکر ہے آپ نے بتا دیا کہ لڑکیاں ‘نیا دن’ کے آفس میں کام کرتی تھیں ورنہ میں سمجھی کہ انتظامیہ نے انہیں صحافیوں کے اخلاق سدھارنے کے لئے رکھا تھا ۔ اس کالم میں رضی کے قلم کی جولانی عروج پر ہے۔ میں نے بہت حسرت سے سوچا کہ کاش نیا دن میں ملک صاحب بھی ہوتے۔
ایک اور جگہ رضی نے ملک صاحب کو دانشوروں کی فہرست میں شامل کرکے میرا ڈھیروں خون بڑھا دیا ۔ شکریہ رضی بھائی میں ویسے بھی آج کل ہیموگلوبن کی کمی کا شکار ہوں۔ مجھے اس کی ضرورت تھی۔مجھے اتنا فائدہ Venofer اور Ferinject سے نہیں ہوا، جتنا اس سے افاقہ ہوا۔ جیو شالا۔
پیر سپاہی بلاشبہ ملتان کا دلچسپ کردار تھا جس کے پاس میری نانی اماں بھی اپنے ہاتھ کے شوگر زدہ زخم پر دم کرانے کوٹ ادو سے ملتان آئی تھیں۔ ٹھیک تو خیر کیا ہونا تھا ان کی تشخیص بھی بعد میں ہوئی تھی۔ یہ تو اب میں پتا چلا کہ پیر سپاہی بھی ضیائی کرشمہ تھا۔رضی کا پیر سپاہی کی کہانی کو ‘توڑ’ (آخر) تک پہنچانا ، ان کا صحافیانہ انداز ہے۔
خطیب حسین ہوں یا پیر سپاہی ‘جب تک غم چلے گا دم چلے گا’ بد اعتقادی کے سر پہ قلم کاروں کو اس طرح کے ہتھوڑے مارتے رہنا چاہیئے۔
ڈاکٹر عبدالسلام کو ‘ اوپرا ‘کر دینا ہماری بدقسمتی ہے۔ یہ دانشوروں کی ذمہ داری ہے کہ ان کے کردار کو اجاگر کرتے رہیں۔ آپ نے یہ ذمہ داری بھی احسن طریقے سے نبھائی۔ ملتان کی مٹی کا قرض اتارتے اتارتےآپ بھی’ملتانو ملتان’ ہو گئے ہیں۔
بھائی منصور کریم کے بارے میں ملک صاحب بھی کچھ ایسی ہی راۓ رکھتے ہیں۔ جب وہ گارڈن ٹاؤن میں تھے ہم ان سے ملنے گئے۔ بھابی گوفیہ کی ملنساری اور محبت پھر کئی ملاقاتوں کا سبب بنی۔ جب آپ گئے تو بھابی اور منصور بھائی بہت خوش ہوۓ تھے۔
‘ زہریلی شراب اور اقبال شیخ کی خصوصی خبر’ بہت دلچسپ ہے۔ خاص طور پر آخری سطریں
”اقبال شیخ کھانا لینے نہ جاتا تو مرنے والوں کی تعداد آج 31 کی بجائے 32 ہوتی”
‘گتکے، منت اور بدعت کا احوال’ کے آخر میں "کہ انھیں قتل کی دھمکیاں ہرگز نہیں دی گئیں۔ ” لکھ کر صحافی نےآخر خبر بریک کر دی۔
‘ککڑ صاحب، شاعروں کی بانگیں اور مشاعرہ کی منسوخی’بھی خوب رہا۔
سچ تو یہ ہے رضی بھائی اس کتاب کی ایک ایک سطر سچ کے سونے سے جڑی ہے۔ لکھنے والے کا قلم سادگی و پرکاری میں اپنی مثال آپ ہے۔تحریر میں شگفتگی کا عنصر غالب ہے۔
یہ کتاب بھی قسط در قسط آپ کی سوانح لگی ہے۔
لکھتے رہیئے، آپ کو لکھنے کے لیے ہی تخلیق کیا گیا ہے۔ ابھی تو ملتان کی مٹی نے بہت سونا اگلنا ہے۔

