عمران خان نےبالآخر پنجاب اور خیبر پختون خوا اسمبلیاں توڑنے کا اعلان کردیا ہے۔ گزشتہ روز زمان پارک لاہور میں اپنی رہائش گاہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے تحریک انصاف کے اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس فیصلہ کا اعلان کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس موقع پر پنجاب اور خیبر پختون خوا کے وزرائے اعلیٰ ان کے دائیں بائیں موجود تھے۔ بظاہر یہ اقدام اس اعتراض کو دور کرنے کے لئے کیا گیا ہے کہ صوبائی حکومتوں کے سربراہان عمران خان کو ٹھنڈا کرنے اور فیصلہ تبدیل کرنے پر مجبور کررہے ہیں۔
صوبائی اسمبلیاں توڑنے کا اعلان کرتے ہوئے عمران خان نے موجودہ حکومت اور مخالف سیاسی پارٹیوں کے خلاف وہی پرانی فرد جرم عائد کی جو وہ اس سے پہلے بھی پاکستانی عوام کو ازبر کروا چکے ہیں۔ البتہ انہوں نے اسمبلیاں توڑنے کے فیصلہ کو جائز قرار دینے کے لئے دعویٰ کیا کہ اگر موجودہ حکومت معیشت بہتر کر لیتی تو شاید وہ عام انتخابات کے مطالبے پر نظر ثانی کرتے لیکن قوم نے دیکھا ہے کہ یہ حکومت معاشی اصلاح میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ اس لئے نئے انتخابات اور قابل اعتماد حکومتیں قائم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ آج ملک کا یہ حال ہے کہ باہر کی دنیا اس حکومت پر اعتماد کے لیے تیار نہیں ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ جب باہر سے ڈالر ہی نہیں آ رہے تو پاکستان کیسے آگے چلے گا؟ اس حکومت نے ایک ہی اُمید لگائی ہوئی ہے کہ چین کے پاؤں پکڑ لیں یا آئی ایم ایف سے پیسے مل جائیں۔ ہماری کوشش تھی کہ ہم ملکی دولت میں اضافہ کریں اور ملکی معیشت کو اُٹھائیں‘۔
موجودہ حکومت کو معاشی ناکامی کا ذمہ دار قرار دینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہونا چاہئے لیکن عمران خان نے خود یہ یقینی بنانے کی کوشش کی ہے کہ موجودہ حکومت کسی بھی قیمت پر کسی بھی شعبہ میں کامیاب نہ ہوسکے۔ اپوزیشن لیڈر کے طور پر اگرچہ انہیں اس کا استحقاق حاصل تھا لیکن جو اپوزیشن لیڈر ملک کے مروجہ پارلیمانی نظام کو تسلیم کرنے پر تیار نہ ہو اور اپنے خلاف عدم اعتماد آنے کے بعد نئی صورت حال کا سیاسی حوصلہ مندی سے مقابلہ کرنے پر آمادہ نہ ہو، بلکہ صرف حکومت کو کمزور کرنے اور ناکام بنانے کے مشن پر گامزن ہو، اس کی جمہوریت اور ملکی مفاد کے ساتھ وابستگی کے بارے میں سنگین سوالات سامنے آتے ہیں۔ پاکستانی معیشت تحریک انصاف کے دور سے ہی شدید مشکلات کا شکار رہی ہے۔ اس دور میں ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لئے گئے البتہ تحریک انصاف کی قیادت کا دعویٰ ہے کہ یہ قرضے، پرانے قرضے ادا کرنے کے لئے لینا ضروری تھالیکن یہ پورا سچ نہیں ہے۔ تحریک انصاف احتجاجی سیاست کرتے ہوئے نہ تو اپنے دور حکومت میں کی جانے والی معاشی غلطیوں کا اعتراف کرتی ہے اور نہ ہی ا س کے پاس مستقبل کے بارے میں کوئی ٹھوس اور پائیدار معاشی منصوبہ ہے۔
موجودہ حکومت کی معاشی ناکامی کی حقیقی وجوہ بھی تحریک انصاف کی سیاست ہی میں تلاش کی جاسکتی ہیں۔ اگرچہ یہ کوئی عذر خواہی نہیں ہے لیکن پوری تصویر دیکھنے کے لئے ان عوامل کا جائزہ لینا ضروری ہے جو ملک میں مسلسل بحران اور ہیجان کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ کسی معیشت کی کامیابی اور عالمی منڈیوں میں اسے قابل اعتبار بنانے کے لئے امن و امان کی صورت حال بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ عمران خان نے اقتدار سے محروم ہونے کے بعد مسلسل یہ کوشش کی ہے کہ ملک میں کسی بھی صورت میں امن بحال نہ ہو اور سیاسی درجہ حرارت مسلسل بلند رہے۔ اسی تنازعہ کی وجہ سے پیدا ہونے والی بے یقینی موجودہ حکومت کے پاؤں کی زنجیر بنی ہوئی ہے جس کی وجہ سے وہ انتخابات کو مؤخر کرکے اپنی سیاسی پوزیشن مستحکم کرنے کی خواہش رکھتی ہے۔
شہباز حکومت کی معاشی ناکامی کی دوسری اہم ترین وجہ آئی ایم ایف کے ساتھ مالی امداد کا معاہدہ تھا۔ عمران خان کی حکومت نے 6 ارب ڈالر امداد کا یہ معاہدہ کیا اور مصنوعات پر سبسڈی کم کرنے اور ذرائع آمدنی میں اضافہ کے لئے متعدد نکات پر اتفاق کیا۔ البتہ جب تحریک عدم اعتماد کی صورت میں سیاسی دباؤ میں اضافہ ہؤا تو عمران خان نے آئی ایم ایف سے معاہدہ کے برعکس پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا حالانکہ عالمی منڈیوں میں اس وقت تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے بجٹ تک قیمتوں کو منجمد کرنے کا اعلان کرنے کا اعلان کیا۔ عمران خان نے نہ جانے جان بوجھ کر مخالف سیاسی پارٹیوں کے لئے یہ جال بچھایا تھا یا یہ اتفاقی امر تھا لیکن اس کی قیمت صرف شہباز حکومت کو ہی نہیں بلکہ پورے ملک کو ادا کرنا پڑی۔ مفتاح اسماعیل نے آئی ایم ایف کے ساتھ مالی معاہدہ پر از سر نو مذاکرات کے ذریعے اسے بحال کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ معاہدہ پاکستانی معیشت کی بحالی اور قومی خزانے کی آمدنی میں اضافہ کے لئے بے حد اہم تھا تاہم عمران خان کے اٹھائے ہوئے سیاسی طوفان کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کو مفتاح اسماعیل کی بجائے اسحاق ڈار کو وزیر خزانہ بنانا پڑا تاکہ وہ ملکی معاشی فیصلوں کوسیاسی ضرورتوں کے مطابق تبدیل کرسکیں۔ اسی لئے ایک بار پھر حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے اور اس پروگرام کا نواں اور دسواں ریویو مسلسل تعطل کا شکار ہے۔ آئی ایم ایف سے پیدا ہونے والے فاصلوں ہی کی وجہ سے ملک کے ڈیفالٹ ہونے کی باتیں بھی سننے میں آتی ہیں۔ موجودہ حکومت نے معاشی بحران سے نمٹنے کے لئے سیاسی قربانی دینے کی کوشش کی لیکن وہ اب دونوں میں ناکام ہورہی ہے۔
اس پس منظر میں البتہ عمران خان کا یہ دعویٰ مضحکہ خیز ہے کہ اب یہ حکومت یا تو ’ چین کے پاؤں پکڑ ے گی یا آئی ایم ایف سے پیسے لینے کی کوشش کرے گی‘۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر بالفرض عمران خان اقتدار میں واپس آجاتے ہیں تو وہ چین یا آئی ایم ایف کے سوا کس کے پاس جائیں گے؟ کہاں سے وسائل فراہم کریں گے؟ درحقیقت کسی بھی پاکستانی حکومت کے پاس سخت مالی پالیسیاں اختیار کرنے، ٹیکس میں اضافے اور بچت اسکیموں پر توجہ دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ ملک کی وزارت عظمی پر شہباز شریف بیٹھے ہوں یا عمران خان یا خدا نخواستہ کوئی آمر اقتدار پر قابض ہوجائے، اسے بہر حال ملکی معیشت کو دھکا دینے کے لئے چین، عرب ممالک اور آئی ایم ایف ہی کے در پر سوالی بننا پڑے گا ۔ تاآنکہ ملک میں امن و امان کی صورت حال بحال ہو، غیر پیداواری اخراجات کم کئے جائیں اور تاجر سرکاری خزانے میں اپنا حصہ دینے پر آمادہ ہوجائیں۔ موجودہ سیاسی صورت حال میں ان میں سے کوئی بھی مقصد پورا کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وزارت عظمی پر کون فائز ہے۔ بلکہ حقیقی معروضی صورت تو یہ ہے کہ موجودہ حکومت تو پھر بھی کسی حد تک عالمی اداروں اور دوست ممالک کے ساتھ مواصلت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے لیکن عمران خان اکثر دوست ممالک اور عالمی اداروں میں اپنا اعتبار کھو چکے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ وہ کسی بھی طرح دوبارہ اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں لیکن عمران خان کا یہ دعویٰ بے بنیاد اور ناقابل اعتبار ہے کہ وہ ملکی معیشت بحال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کی معاشی ٹیم آزمودہ اور ناکام لوگوں پر مشتمل ہے اور عمران خان نے عالمی سطح پر اپنی ساکھ کو پہلے تو بطور وزیر اعظم ہی داؤ پر لگا دیا تھا اور رہی سہی کسر 6 ماہ تک امریکہ کو اپنی حکومت کے خلاف سازش کا ذمہ دار قرار دینے کی مہم جوئی کے دوران پوری کردی۔ ان حالات میں عمران خان کے اقتدار کا کوئی نیا دور پاکستان کے بدترین ادوار میں شامل ہوگا۔
اب دو صوبائی اسمبلیاں توڑ کر جو نئی سیاسی صورت حال پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، وہ بھی ملکی معیشت کے لئے کوئی اچھی خبر نہیں ہے۔ اگر عمران خان کی خواہش کے مطابق اسمبلیاں توڑنے کے بعد واقعی 90 روز کے اندر انتخابات ہوجاتے ہیں تو بھی اس کا مطلب ہے کہ مزید تین ماہ تک سیاسی بے چینی اور ہیجان جاری رہے گا۔ اگر یہ بھی فرض کرلیا جائے کہ عمران خان پنجاب اور خیبر پختون خوا میں دو تہائی اکثریت سے کامیاب ہوکر حکومتیں بنا لیں گے لیکن قومی سطح پر بہر صورت موجودہ حکومت ہی قائم رہے گی۔ تنازعہ، سیاسی پنجہ آزمائی اور انتشار کی کیفیت بحال رہے گی۔ ان حالات میں نہ عالمی ادارے اور نہ ہی دوست ممالک پاکستان جیسی زوال پذیر معیشت میں سرمایہ کاری میں دلچسپی لیں گے کیوں کہ کسی مالی منصوبہ سے اسی وقت منفعت کی امید کی جاسکتی ہے جب کسی ملک میں ماحول پرسکون ہو اور کام کے حالات قابل اعتبار ہوں۔ سیاسی عدم استحکام جاری رہنے سے کسی بھی سیاست دان کا فائدہ یا نقصان ہو ، ملک کا بہر صورت نقصان ہوتا ہے۔
اس پر مستزاد کہ افغانستان کے بارے میں گزشتہ دور سے اختیا رکی گئی پالیسی اور تحریک طالبان پاکستان کو معاف کرنے اور ان کی حوصلہ افزائی کا منصوبہ بھی ناکام ہؤا ہے۔ کمزور سیاسی بنیاد پر کھڑی موجودہ حکومت نہ تو اس پالیسی میں کوئی ٹھوس تبدیلی کرسکتی ہے اور نہ ہی دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ اور بھارت کے بعد افغانستان کے ساتھ پیدا ہونے والی سرحدی کشیدگی پاکستانی معیشت اور مالی وسائل کے مثبت استعمال کے حوالے سے کوئی اچھی خبر ہے۔ ان حالات میں ملکی مفاد کا تقاضہ تو یہی ہے کہ سیاسی لیڈر ایک دوسرے میں دشمن تلاش کرنے کی بجائے، مل بیٹھیں اور تمام مسائل کا کوئی قابل عمل حل تلاش کریں۔ ملک میں سیاسی ہم آہنگی ہی عسکری اداروں کو غیر سیاسی رہنے پر مجبور کرسکتی ہے اور یہی طریقہ ہمسایہ ملکوں اور عالمی اداروں کو پیغام دے سکتا ہے کہ پاکستان ایک قابل اعتبار ملک ہے۔ لیکن عمران خان جیسا لیڈر 70 فیصد عوام کی حمایت کے بھرم میں مسلسل انتشار کو ہوا دینے پر ادھار کھائے بیٹھا ہو تو پاکستانی عوام کو اصلاح احوال کے لئے ابھی بہت دیر تک صبر کرنا پڑے گا۔
اوّل تو اب بھی یہ شبہ موجود ہے کہ وزیر اعلیٰ پرویز الہیٰ اور محمود خان بالترتیب پنجاب اور خیبر پختون خوا اسمبلیاں توڑ دیں گے۔ ثانیاً ایسا کوئی فیصلہ ہونے کے باوجود امکان ہے کہ یہ معاملہ عدالتوں میں جائے گا اور ایک بار پھر عوام کی قسمت کا فیصلہ ایک غیرمنتخب ادارے کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس دوران عمران خان اور اتحادی حکومت اپنی سیاسی پوزیشن مستحکم کرنے کے نام پر ملکی استحکام اور مفادات کو داؤ پر لگاتے رہیں گے۔
( کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

