کوئٹہ : بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ مینجمنٹ سائنسز(بیوٹمز) کے لیکچرار عثمان قاضی جنھیں 12 اگست کی شب کوئٹہ میں ان کے گھر سے حراست میں لیا گیا تھا کی گرفتاری حکومت کی طرف سے اب ظاہر کی گئی ہے۔
ان کی گرفتاری کا اعلان پیر کو وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ میں ایک پریس کانفرنس میں کیا گیا جس سے نہ صرف وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے خطاب کیا بلکہ عثمان قاضی کی ایک ویڈیو بھی منظر عام پر لائی گئی جس کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ انھوں نے شدت پسندی کے مختلف واقعات میں سہولت کاری کا اعتراف کیا ہے۔
واضح رہے کہ یہ حکومتی مؤقف ہے اور بی بی سی آزادانہ طور پر اس مؤقف کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
اپنی پریس کانفرنس میں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے عثمان قاضی کی گرفتاری کو خفیہ اداروں اور سی ٹی ڈی کی اہم کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے بلوچستان میں ’دہشت گردی‘ کے خاتمے کے حوالے سے تحقیقات میں بڑی مدد ملے گی۔
کوشش کے باوجود عثمان قاضی پر عائد کیے جانے والے الزامات کے حوالے سے ان کے رشتہ داروں کا موقف نہیں لیا جا سکا ہے تاہم بلوچ یکجہتی کمیٹی کہ رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مبینہ اغوا کے بعد ان سے دباؤ میں یہ بیان لیا گیا ہے جبکہ عدالت سے پہلے ان کا میڈیا ٹرائل کیا گیا۔
ڈاکٹر عثمان قاضی کو حراست میں لیے جانے کے بعد لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے جو بیان جاری کیا گیا اس کے مطابق ان کے بھائی جبران احمد کو بھی ان کے ساتھ گھر سے اٹھایا گیا تھا۔
پریس کانفرنس کے بعد سہہ پہر کو عثمان قاضی کو انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا جنھیں عدالت نے 14 روزہ ریمانڈ پر سی ٹی ڈی کے حوالے کیا۔
ڈاکٹر عثمان قاضی کون ہیں؟
عثمان قاضی کا تعلق بلوچستان کے ایران سے متصل سرحدی ضلع کیچ کے ہیڈکوارٹر تربت سے ہے۔
انھوں نے ابتدائی تعلیم تربت سے حاصل کی جس کے بعد انھوں نے اعلیٰ تعلیم کے لیے دوسرے شہروں کا رخ کیا۔
انھوں نے قائداعظم یونیورسٹی سے مطالعہ پاکستان میں ماسٹرز اور ایم فل کیا۔
بعد میں انھوں نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی سکالرشپ پر پشاور یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کیا۔ وہ گذشتہ سات آٹھ سال سے بیوٹمز میں مطالعہ پاکستان کے لیکچرار کی حیثیت سے کام کررہے تھے۔
حکومت کی جانب سے پیش کردہ ان کے اعترافی ویڈیو میں کیا ہے؟
پریس کانفرنس میں میڈیا کے سامنے عثمان قاضی کا جو ویڈیو بیان پیش کیا گیا اس میں بیان کا آغاز انھوں نے بسم اللہ الرحمان الرحیم پڑھ کر کیا۔
اس بیان میں وہ کہہ رہے تھے کہ جب وہ پی ایچ ڈی کر رہے تھے تو 2020 میں ان کا اسلام آباد جانے کا اتفاق ہوا، جہاں قائد اعظم یونیورسٹی میں تنظیم کے تین لوگوں سے رابطہ ہوا جن میں سے دو بعد میں مارے گئے۔
ویڈیو بیان کے مطابق ایک شخص ’ڈاکٹرہیبتان عرف کالک نے حال احوال کرنے کے بعد مجھے تنظیم میں شامل کیا۔ میرا رابطہ کالعدم بی ایل اے کے بشیر زیب سے ٹیلی گرام کے ذریعے کرایا۔ جب میں کوئٹہ آیا تو مجھ سے تین کاموں کی سہولت کاری لی گئی‘۔
حکومت کی جانب سے ریلیز کی گئی ویڈیو میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ’سہولت کاری کا ایک کام یہ تھا کہ قلات میں بوہیر نامی بی ایل اے کا ایک ریجنل کمانڈر لڑائی میں زخمی ہوا تھا۔ ان کو میں نے جگہ دی تھی۔ علاج کے بعد وہ واپس چلا گیا۔ اس کے بعد گذشتہ سال نومبر میں ہیبتان نے بتایا کہ ایک اور شخص آئے گا جنھیں آپ نے جگہ دینا ہے۔ وہ رفیق بزنجو تھا جنھیں دو روز کے بعد انھوں نے کسی اور شخص کے حوالے کیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ ریلوے سٹیشن پر خود کش حملے میں پھٹ گیا جس میں سکیورٹی اہلکاروں اور معصوم شہریوں کے جانوں کا ضیاع ہوا‘۔
ڈاکٹر عثمان کے ویڈیو بیان کے مطابق اس کے بعد ہیببتان نے ایک اور ٹارگٹ دیا جو کہ نعمان عرف پیرک کی حوالگی کا تھا۔ ان کے مطابق ’وہ سات آٹھ دن میرے پاس رہا جس کو میں نے بعد میں جمیل عرف نجیب نامی شخص کے حوالے کیا۔ نعمان عرف پیرک کو 14 اگست کے کسی ایونٹ میں استعمال کیا جانا تھا۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’انھوں نے ایک پسٹل خرید کر ایک خاتون کو دیا جس نے اسے تنظیم کے ڈیتھ سکواڈ کے حوالے کیا تھا۔ وہ پسٹل سکیورٹی فورسز اور سرکاری ملازمین کو ٹارگٹ کرنے میں استعمال ہوا تھا‘۔
حکومت کی جانب سے سامنے لائی گئی ویڈیو میں ڈاکٹر عثمان سہولت کاری کا اعتراف کر رہے ہیں اور یہ بیان دے رہے ہیں کہ انھوں نے یہ کام کیے ہیں، تنظیم کے ساتھ منسلک رہے ہیں اور یہ سہولت کاری کی ہے حالانکہ ریاست نے سب کچھ دیا، عزت دی، وقار دی۔
اس ویڈیو میں وہ بتاتے ہیں کہ ’خاندان کو دیکھیں تو میری اہلیہ کو بھی نوکری دی ہے۔ اس کے باوجود میں نے قانونی کی خلاف ورزی اور ریاست کے ساتھ غداری کی ہے جس پر میں تہہ دل سے شرمندہ ہوں اور ایسے کاموں کے ساتھ منسلک رہنے پر افسوس ہے‘۔
ویڈیو بیان کے مطابق ’اس ویڈیو اور پیغام دینے کا مقصد یہ ہے ہے کہ جو آئندہ آنے والی نسلیں ہیں، نوجوان اور جو طالب علم ہیں وہ اپنے آپ کو اس طرح کے انتشار پھیلانے والی تنظیموں سے بچائیں۔‘
14روزہ ریمانڈ پر حوالگی
ماضی میں بلوچستان میں سی ٹی ڈی یا پولیس کی بعض کیسز میں جن لوگوں کا اعترافی بیان پیش کیا جاتا رہا ہے ان میں سے بعض بعد میں مشکوک مقابلوں میں مارے جاتے رہے ہیں جن میں سے ایک واقعہ کم سن طالب علم کے اغوا میں گرفتار ہونے والے مرکزی ملزم کا تھا۔
گذشتہ ماہ پریس کانفرنس میں اعترافی بیان کے چند روز بعد میڈیا کو سرکاری حکام کی جانب سے یہ بتایا گیا کہ انھیں ان کے دوسرے ساتھیوں کی نشاندہی کے لیے لے جایا جا رہا تھا کہ وہ اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے مارا گیا۔
تاہم عثمان قاضی کے اعترافی بیان پیش کرنے کے چند گھنٹے بعد ان کو سیشن کورٹ میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کوئٹہ ٹو میں انتہائی سخت سکیورٹی میں پیش کیا گیا۔
عدالت کے جج محمد علی کاکڑ نے ملزم کو 14 روزہ ریمانڈ پر سی ٹی ڈی کے حوالے کیا۔ ریمانڈ حاصل کرنے کے بعد ملزم کو سخت سکیورٹی میں عدالت سے واپس لے جایا گیا۔
( بشکریہ : بی بی سی ۔۔ اردو )
فیس بک کمینٹ

