اہم خبریں

پنجاب اسمبلی سیل، مقامی ہوٹل میں علامتی اجلاس میں 199 اراکین کا حمزہ شہباز پر اعتماد

لاہور : پنجاب اسمبلی کی دیواروں پر کانٹے دار تار بچھا دی گئی اور مرکزی دروازے کو بند کردیا گیا ہے جبکہ اپوزیشن کی جانب سے مقامی ہوٹل میں اسمبلی کا علامتی اجلاس منعقد کیا گیاجہاں وزیراعلیٰ پنجاب کے امیدوار اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کے نائب صدر حمزہ شہباز کی حمایت میں 199اراکین نے ووٹ دیا۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن صوبائی اسمبلی شازیہ عابد نے لاہور کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کی جہاں علیم خان سمیت اپوزیشن اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ناراض اراکین نے شرکت کی، ڈپٹی اسپیکر سردار دوست محمد مزاری بھی اجلاس میں شریک نہیں تھے.
رکن صوبائی اسمبلی شازیہ عابد نے ڈان کو بتایا کہ انہیں 3 اپریل کو پنجاب اسمبلی کے 40 ویں اجلاس کے لیے پینل آف چیئرمین میں منتخب کیا گیا تھا۔
پنجاب اسمبلی کے رولز آف پروسیجر 1997 کے مطابق پینل آف چیئرمین کا رکن اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کی غیرموجودگی میں سیشن کی صدارت کرسکتا ہے۔
مریم نواز نے ٹوئٹ میں کہا کہ حمزہ شہباز اپوزیشن اراکین کے 199 ووٹوں کے ساتھ پنجاب کے نئے وزیراعلیٰ منتخب ہوگئے ہیں۔پاکستان مسلم لیگ(ن) کی ترجمان مریم اورنگ زیب نے ٹوئٹر پر ایک ویڈیو جاری کی جس میں حمزہ شہباز اور مریم نواز ایک دوسرے کو مبارک باد دے رہے ہیں۔پاکستان مسلم لیگ(ق) کے رہنما مونس الہٰی نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ‘حمزہ صاحب فلیٹیز ہوٹل کا وزیراعلیٰ بننے پر مبارک ہو’۔
خیال ہے کہ اتوار کو قومی اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی جانب سے اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد مسترد کیے جانے کے بعد بھی اپوزیشن نے علامتی اجلاس منعقد کیا تھا، جس کی صدارت سابق اسپیکر اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی ایاز صادق نے کی تھی۔
اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتےہوئے مریم نواز نے کہا کہ میں اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اللہ نے نواز شریف اور شہباز شریف کو سرخرو کیا اور حمزہ کو پنجاب کا وزیراعلیٰ منتخب ہونے پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد دیتی ہوں۔
انہوں نے کہا کہ حمزہ ایک درد دل رکھنے والا انسان ہے، نواز شریف کا ماننے والا ہے اور شہباز شریف کا بیٹا ہے، جس نے وزیراعلیٰ پنجاب بن خدمت کے ریکارڈ قائم کیے۔ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے عوام کو مبارک باد دینا چاہتی ہوں کہ پنجاب کا وہ مینڈیٹ جس پر 2018 میں ووٹ چور عمران خان نے شب خون مارا اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت نہیں بننے دی تھی۔
مریم نواز نے کہا کہ پنجاب کے عوام کو بزدار جیسا نام کا وزیراعلیٰ ملا جس کو چلاتی فرح تھی، اس کے تانے بانے بنی گالا سے ملتے ہیں اور آنے والے دنوں میں ایسے ثبوت سامنے آئیں گے کہ لوگ حیران رہ جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کے عوام کا 2018 میں مینڈیٹ چرایا گیا اور مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دینے کے باوجود پنجاب کے عوام کو نمائندگی سے محروم رکھا گیا لیکن آج پنجاب کے عوام کو مبارک باد دینا چاہتی ہوں کہ آپ کے مینڈیٹ چرانے کا بدلہ نواز شریف نے لے لیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں تمام جماعتوں، علیم خان گروپ، جہانگیر ترین اور اسد کھوکھر گروپ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں کہ پنجاب کے عوام کی جان اس غاصب حکومت سے چھڑائی ہے۔نائب صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ پنجاب کے عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکا پڑا تو پنجاب کے عوام کو پچھلے برس رمضان میں چینی کے لیے قطاروں میں کھڑا ہونا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ ترقی کا ایک کام نہیں ہوا، سڑکیں بنیں تو فرح گجر کے گاؤں میں بنی اور ترقی بھی ان کے گاؤں میں ہوئی، جس کا حکومت کے اندر کوئی عہدہ نہیں اور حکومت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے تو پنجاب میں بیٹھ کر کیسے تقریریاں اور تبادلے کرتی تھیں، ظاہر ہے کسی کی فرنٹ پرسن تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ سارا پاکستان جانتا ہے کہ وہ کس کی فرنٹ پرسن تھی، کس کو ہر پوسٹنگ اور ٹرانسفر میں سے کمیشن دیتی تھی اور جب حساب کتاب کا وقت آیا تو آرام سے برقعہ پہنا کر پاکستان سے باہر بھیج دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ آج جس طرح پنجاب اسمبلی کو تالا لگایا گیا، پنجاب اسمبلی کے اطراف خاردار تاریں بچھائی گئیں اور میڈیا کو داخلے پر پابندی عائد کی گئی اور اراکین اسمبلی کو مجبوراً اجلاس اس ہوٹل میں کرنا پڑا۔ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس نے بھی کہا تھا کہ باغ جناح یا لارنس گارڈن میں ہوجائے، اجلاس وہ ہوتا ہے جہاں پنجاب کے نمائندے ہوتے ہیں یہاں تو 200 نمائندے تھے۔
مریم نواز نے کہا کہ کون بھاگتا ہے، کون اسمبلی کو تالے لگاتا ہے، کون خاردار تاریں بچھاتا ہے اور کون میڈیا کو دور رکھتا ہے، کون اسمبلی نہیں وکٹ چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے، وہ بھاگتا ہے جس کے پاس اکثریت نہیں ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ڈکٹیرز کے دور میں دیکھا تھا کہ وہ عوامی نمائندوں کی اسمبلیوں کے اندر اپنے نمائندے بھیجتے تھے جو وہاں بیٹھ کر ایوان کی کارروائی چلایا کرتے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ آج بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے پرویز الہٰی صاحب نے اپنا دفتر اسی آمرانہ کارروائی کے لیے پیش کردیا، مجھے بہت افسوس ہوا کہ چوہدری ظہور الہٰی کی بھی خاندانی روایت تھیں تو میں پرویزالہٰی سے احترام کے ساتھ سوال کرتی ہوں کہ آپ ایک سیاسی جماعت ہیں تو آپ نے کیوں آئین شکن عمران خان کا ساتھ دیا۔
انہوں نے کہا کہ یقین نہیں آتا کہ اس طرح کا سیاسی شعور رکھنے والے خاندان کا کوئی فرد اتنی بری ہاری ہوئی بازی کھیلے گا، یہ بازی آپ ہار چکے ہیں، چاہے آپ اسمبلی کو تالا لگائیں، چاہے آپ اپنے نمائندوں کو روکیں، چاہے آپ خاردار تاریں لگائے اور میڈیا کو روکیں، چاہے آئین توڑیں، یا وکٹیں اٹھا کر بھاگ جائیں یا میدان چھوڑ کر جائیں یا غنڈہ گردی یا دہشت گردی کریں میں عمران خان اور اس کے تمام ساتھیوں کو کہنا چاہتی ہوں یہ گیم تم بری طرح ہار چکے ہو۔
( بشکریہ : ڈان نیوز )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker