بھوک اور ننگ سے تنگ یہ قوم پھر ایک نئی آزمائش سے گزاری جائیگی اور یہ ہجوم بخوشی گزرنے کےلئے تیار بھی ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ آزمائشیں ہمیشہ اس ہجوم کا مقدر ہیں ۔ قیام پاکستان کے وقت بھی امتحان اسی قوم کا تھا ، جانیں بھی انہی غریبوں کی گئیں اور لٹے بھی تہی دست، سنہرے مستقبل کےلئے زیور اتار کر وطن پر نچھاور کرنے کے عمل سے لے کر ایک ایک دن کی تنخواہ ” ضبط“ کرانے والے یہ لوگ ہر چندہ مہم میں پیش پیش رہے اور پھر ان کو مایوسی کے سوا کچھ نہ ملا۔ مداری بدلتے رہے مگر تماشائی جو،اب ہیں کبھی یہ تھے اور کبھی ان کے باپ دادا، غلام ابن غلام قوم کے کسی فرد نے کبھی کوئی سوال نہ اٹھایا کہ لوہے کی ناف سے کستوری پیدا کرنے والے فولادی ہاتھوں میں کشکول کیوں ہے ؟ تاریخ کا قاضی تو روز اول سے بضد ہے کہ جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات ہے ۔ بقول احمد فراز
امیر شہر غریبوں کو لوٹ لیتا ہے
کبھی بہ حیلہءمذہب ، کبھی بنام وطن
صرف ریاست مقدس ہے یا اس کے ادارے، اگر کوئی بے توقیر چیز ہے تو وہ ہے ہجوم نما قوم ، جو کبھی ملی نغموں پرمست ہوتی ہے تو سرحدوں پر جانیں نچھاور کرتی ہے ۔ ریاست کے والیوں کی تجوری بھرنے کےلئے ہر مہم میں اپنے بچوں کے منہ کا نوالہ چھین کر ”عطیہ“ کردیا جاتا ہے۔ کبھی کسی نے سوال کیا کہ ہر بجلی بل کے ساتھ 35روپے سرکاری ٹی وی فیس کی وصولی کا حساب کہاں ہے ، پینتیس پینتیس روپے غریبوں کی ہڈیوں سے نکال کر پینتیس پینتیس لاکھ ماہانہ وصول کرنے والے سربراہان ادارہ کس قانون کے تحت ہمارے سروں پر مسلط ہیں۔
ڈیم بنانے کےلئے ایک بار پھر قوم سے چندہ مانگنے سے پہلے نیلم جہلم سرچارج کے نام پر وصول کیے گئے اربوں روپے کا جھوٹا سچا حساب پیش کرکے تجدید عہد قربانی مال و جان کرایا جاسکتا ہے کہ قوم فقط بہلنے کے لئے کھلونے چاہتی ہے۔ اب کہا جارہا ہے کہ قوم مہنگائی سے نمٹنے کے لئے تیارر ہے صرف تین سال کی ہی تو بات ہے پھر ہر طرف راوی چین ہی چین لکھے گا۔
گیس ،بجلی ، خوردو نوش کی مختلف چیزیں اور ادویات کئی گنا مہنگی کرنے کے بعد حکومت کے پاس صرف حرف تسلی یا پھر وعدہ خوشحالی ہے اور یہ دونوں پرانے نسخے ہیں جو بار ہا آزمائے جاچکے ۔ ہر بار مقتل کو سرخرو کرنے والے تہی دست، انامست دیوانے تازہ زخم کھانے کو تیار ہیں کہ شاید یہ چندہ مہم آخری ہو اور ملک سنور جائے ۔ چھوٹے ملازمین بھی ایک دن کی تنخواہ وطن پر وار چکے مگر کون یقین دلائے کہ اب کی بار یہ عطیات حقیقت میں وطن پر خرچ ہونگے؟چندے کےلئے جھولیاں پھیلانے والے پہلے لوگ بھی شکلوں سے معصوم تھے ، ان کے جذبات بھی سچے تھے ، بولتے ہوئے ان کی آنکھیں بھی بھیگتی تھیں مگر سچائی کے یہ سب استعارے جھوٹے نکلے ۔ اب جھولی بھی نئی ہے اور انداز بھی انوکھا، انکار کی گنجائش تک نہیں۔ مان لینے میں کیا حرج ہے کہ اب جمع ہونے والی پائی پائی وطن پر خرچ ہوگی ۔ اسی وطن پر جسے سرکاری راجہ گدھوں نے نوچ کھایا ۔ وہی وطن جس کے مختلف اعضاءیورپ اور دبئی میں ہماری ایک ایک دن کی تنخواہ پر قہقہے لگاتے ہیں۔
قوم کی آخر ی امید بھی دم توڑتی نظر آرہی ہے کہ نئے پاکستان کی تعمیر کا سپنا سہانا اور جذبے سچے تھے مگر شاید وہ سب کچھ دکھاوا تھا ۔ نئے پاکستان کی تعمیر انہی پرانے نقشہ نویسوں اور انجینئر ز کے سپرد کردی گئی جو قوم کے ماضی، حال و مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرتے آئے ہیں۔
اے میر ی ارض وطن، پھر تیری دہلیز پہ میں
یوں نگوں سار کھڑا ہوں کوئی مجرم جیسے
آنکھ بے اشک ہے برسے ہوئے باد ل کی طرح
ذہن بے رنگ ہے اجڑا ہوا موسم جیسے
سانس لیتے ہوئے اس طرح لرز جاتا ہوں
اپنے ہی ظلم سے کانپ اٹھتا ہے ظالم جیسے
ڈیم کے لئے چندہ مہم کی نگرانی کا حلف اٹھانے والا یقینا قابل اعتبار بھی ہے اوردیانت دار بھی، اسی لئے خلاف توقع چندہ جمع ہوچکا، انکے پاس وقت بہرحال بہت کم ہے اور پھر یہ سب کچھ گدھوں کے ہاتھوں نوچا جائے گا اور ریٹائر ہونے کے بعد اس فنڈ کے نگران اعلیٰ بھی تو صرف قوم کے ایک فرد شمار کیے جائیں گے ۔ ان سارے خدشات کے باوجود قوم نئے سرے سے یہ خطرہ مول لیتی ہے کہ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا جیسے نئے پاکستان کے معمار نے اقتدار سنبھالنے کے آغاز میں ہی بنیادوں میں جذبات کی تدفین کا فریضہ نبھانا شروع کیا تو قوم نے کونسا احتجاج کرلیا کہ خواب دیکھنا بھلا کسے راس آیا ہے۔
فیس بک کمینٹ

